بھارت، الیکشن کا پانچواں مرحلہ آج، مقبوضہ وادی میں اعلان بائیکاٹ، کشمیر میں بی جے پی کا مقامی رہنماء قتل

بھارت، الیکشن کا پانچواں مرحلہ آج، مقبوضہ وادی میں اعلان بائیکاٹ، کشمیر میں ...

  

نئی دہلی،سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوازیجنسیاں) بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات کیلئے پانچویں مرحلے میں آج پیر کو پولنگ ہوگی، سات ریاستوں میں 51نشستوں کیلئے ووٹ ڈالیں جائیں گے۔بہار، جموں وکشمیر، جھارکنڈ، مدھیا پردیش، راجستھان، اترپردیش اور مغربی بنگال میں اکیاون نشستوں پر ووٹ ڈالیں جائیں گے۔سات مراحل میں ہونیوالے لوک سبھا کے انتخابات میں نوے کروڑ ووٹرز پانچ سو تینتالیس نشستوں کے لیے ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں، نتائج کا اعلان تئیس مئی کو ہوگا۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے نام نہاد بھارتی پارلیمانی انتخابات کے پانچویں اور آخری مرحلے کامکمل بائیکاٹ کرنے کی اپیل دہرائی ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حلقہ انتخاب اسلام آبادکے پولنگ والے اضلاع شوپیان اور پلوامہ میں (آج)مکمل ہڑتال کی جائیگی۔لداخ میں بھی (آج)نتخابی ڈرامہ رچایا جائے گا۔ بھارتی فورسز نے انتخابی ڈرامے کو یقینی بنانے کے لیے جنوبی کشمیر میں متعددنوجوانوں کو گرفتارکیاہے۔ سینئر حریت رہنما اور تحریک حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں نوجوانوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نام نہاد انتخابات محض ایک فوجی مشق ہے جس کا مقصد تنازعہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو نقصان پہنچانا اور عالمی برادری کو گمراہ کرناہے۔ میرواعظ عمرفاروق کی سرپرستی میں قائم حریت فورم، جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ اور حریت رہنما میر شاہد سلیم نے اپنے الگ الگ بیانات میں تہاڑ جیل میں نظربندجموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کی بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کااظہار کیاہے۔علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انتخابات کے تازہ ترین مرحلے سے قبل وزیراعظم نریندرا مودی کی حکمران جماعت کے ایک مقامی رہنماؤں کوگولی مار کر ہلاک کردیا  گیا ہے، غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ضلع اننت ناگ میں ہونیوالی ہلاکت گزشتہ ماہ شروع ہونیوالے انتخابات کے دوران حملوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے،مسلح افراد نے گل محمد میر جن کا تعلق ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے مقامی یونٹ سے تھا، پر گزشتہ رات جنوبی کشمیر میں ان کے گھر پر فائرنگ کردی، پولیس نے اسے دہشت گردانہ جرم قرار دیا ہے اور مودی نے اتوار کے روز ٹوئٹر پر ایک پیغام میں میر کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں اس قسم کے تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

مقبوضہ کشمیر 

مزید :

صفحہ اول -