اختر مینگل حکومت کا ،حصہ تنقید کر نی ہے تو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھیں ،جام کمال

اختر مینگل حکومت کا ،حصہ تنقید کر نی ہے تو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھیں ،جام کمال

  

  کوئٹہ(آن لائن)وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کو مشورہ دیاہے کہ وہ حکومت یا اپوزیشن میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں ،حکومت کاحصہ ہوکر تنقید کرنے سے مسائل حل نہیں ہونگے ۔انہوں نے جو 6نکات پیش کئے ہےں اس میں زیادہ تر نکات جائز ہےں ، سردار اختر جان مینگل حکومت سے علیحدہ ہوکر کھل کر حکومت پر تنقید کریں یا تو پھر حکومت میں شامل ہوکر مسائل حل کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا ۔وزیر اعلی نے کہابلوچستان کا 350ارب روپے کا بجٹ ہے جس کا سب زیادہ حصہ تنخواہوں اور دیگر اخراجات میں چلا جاتاہے ،صر ف 15فیصد ترقیاتی عمل کے لئے بچتا ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے،40سے 45ارب روپے کا استعمال صحیح نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ 8سوسے زائد ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا تو پتا چلا نوے فیصد کام صر ف کاغذوں میں موجود ہے ، دس فیصد گراﺅنڈ ورک ہوا۔اس کے ذمہ دار ہم ہیں،موجود ہ حکومت ڈسٹرکٹ ایڈ منسٹریشن اور لوکل گورنمنٹ کو اختیارات دے کر فنڈز کا اجراکررہی ہے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کا کیس عالمی سطح پر چل رہا ہے اس کا ایک فیصلہ ہمارے خلاف آچکا ہے لیکن اب تک ہرجانے کی رقم طے نہیں ہوئی، قوی امکان ہے کہ ہم پر اربوں ڈالر کا جرمانہ عائد کیا جائیگا،یہ رقم صوبے نے ادا کرنی ہے، سارا بوجھ حکومت بلوچستان پر آئے گا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہمیں اسمبلی اور اسٹیک ہولڈرز کو بتانا ہے کہ ہماری مالی پوزیشن ٹھیک نہیں ہے، اس صورتحال میں ہمیں اندورنی سطح پر کوئی بیل آ ﺅٹ پیکج ملنے کے امکانات نہیں ہیں۔

جام کمال

مزید :

صفحہ آخر -