باقر رضا کا تقرر، عمر ان خان نے ملک میں آئی ایم ایف کا باضابطہ دفتر کھو ل دیا 

باقر رضا کا تقرر، عمر ان خان نے ملک میں آئی ایم ایف کا باضابطہ دفتر کھو ل دیا 

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت کا ہر دن عوام کیلئے نئے عذاب کا باعث بن رہا ہے۔گورنر سٹیٹ بینک کی تقرری پر ردعمل دیتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران صاحب آپ نے پاکستان میں آئی ایم ایف کا باضابطہ دفتر کھول دیا ہے، ڈاکٹر رضا باقر کو اسٹیٹ بنک کا گورنر بنایا گیا ہے جو 2000 سے آئی ایم ایف کے ملازم ہیں، وزیراعظم نالائق اور نااہل ہے، وزیر خزانہ آئی ایم ایف کا لگانے کے بعد اسٹیٹ بینک کا گورنر بھی آئی ایم ایف کا لے آئے ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ ڈاکٹر رضا باقر ملکوں کو قرضے کی غلامی میں رکھنے کی مہارت رکھتے ہیں، ان کی تقرری اس امر کی تصدیق ہے کہ ملک میں آئی ایم ایف کی قرض اصلاحات اور ری سٹرکچرنگ کے نظام کو لایا جارہا ہے، پاکستان کے اعلیٰ ترین مذاکرات کاروں کو برطرف کرکے آئی ایم ایف کے ملازمین کو پاکستان کے خزانے کی چابی دے دی گئی ہے، اب اسٹیٹ بینک پر آئی ایم ایف کا قبضہ ہوگیا ہے۔ترجمان مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ عمران خان نے ملک کو نئی ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالے کردیا ہے، ان کے عزائم دیکھتے ہوئے قوم کو پاکستان کی جوہری صلاحیت کے لیے فکر مند ہونا چاہیے کیونکہ عمران صاحب کی نالائق حکومت کے لیے آسانی ہوگئی ہے اب سب کچھ آئی ایم ایف خود کر لے گا۔

مریم اور نگزیب 

 اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ ڈاکٹر باقر رضا کو مقرر کر کے حکومت نے معیشت پر براہ راست آئی ایم ایف کو بٹھا دیا ہے۔ ترجمان چیئرمین پیپلز پارٹی سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ایک بیان میں کہاکہ گورنر سٹیٹ بنک کے تقرر کے معاملے میں حکومت نے غیرذمہ دارانہ فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ڈاکٹر باقر رضا کو مقرر کر کے حکومت نے معیشت پر براہ راست آئی ایم ایف کو بٹھا دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ قرضے سے خودکشی کو ترجیح دینے کی بات کرنے والوں نے ملک آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا۔ انہوں نے کہاکہ کیا پاکستان میں معاشی ماہر کم تھے کہ سٹیٹ بنک کا گورنر بھی آئی ایم ایف سے لیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اب قرضے کیلئے آئی ایم ایف سے حکومت پاکستان کی طرف سے بھی آئی ایم ایف ہی مذاکرات کریگا۔

مصطفی نوازکھوکھر

مزید :

صفحہ اول -