بلوچستان کے 3اضلاع کی لیویز کو پولیس میں ضم کرنے پر حکومتی اتحاد میں اختلافات

بلوچستان کے 3اضلاع کی لیویز کو پولیس میں ضم کرنے پر حکومتی اتحاد میں اختلافات

  

کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان حکومت میں تین اضلاع میں لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کے فیصلے پر اتحادیوں میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے حکومتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کر دیا،ذرائع کے مطابق حکومت بلوچستان نے گذشتہ روز کابینہ اجلا س میں کوئٹہ گوادر اور لسبیلہ میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کی باقاعدہ طورپر منظوری دے گی جس پر اپوزیشن جماعتوں نے بلوچستان اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی اور احتجاج کیا تاہم حکومتی اتحاد میں بھی لیویز کو پولیس میں ضم کرنے پر اختلافات پیدا ہوگئے عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے کابینہ کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا کہ کابینہ میں جوفیصلہ کیا گیا ہے عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے بلوچستان اسمبلی میں قرارداد کے حوالے سے کوئی اہمیت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے عوامی نیشنل پارٹی اس پر تحفظات کا اظہار کرتی ہے ۔

اختلافات

کوئٹہ،مچھ(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ(ن )کے صوبائی جنرل سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ نے اپنی رہائش گاہ پر کارکنوں سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے لیویز سے متعلق فیصلے کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کافیصلہ واپس لیا جائے بصورت دیگر اس فیصلے کے خلاف ہم احتجاج کرینگے عمران خان نے جتنے یوٹرن لیے، پورے پاکستان کو پتا ہے، عمران صاحب مڑ کے دیکھنے میں آپ کے لیے صرف شرمندگی و رسوائی ہی ہے حکومت پیٹرول کی قیمت میں اضافہ فوری واپس لے۔مزید براںبی این پی کی مرکزی خواتین رہنماءنورجہاں مینگل منور سلطانہ شمیم بلوچ نے لیویز فورس کوضم کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیویز فورس محدود وسائل کے باوجود بھی قیام امن بحالی میں اہم کردار ادا کررہی ہے لیویز فورس کو عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ایسے قبائلی علاقوں میں نہایت ہی اہمیت حاصل ہے اوریہ بلوچستان میں واحد فورس ہے جو کاروائی اور چیکنگ کے دوران عوام عزت نفس کا خاص خیال رکھتی ہے اور لوگوں کیساتھ عزت و احترام سے پیش آتی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان حکومت لیویز فورس کو ضم کرنےکی متعلق اپنا فیصلہ واپس لے اور لیویز دائرہ کار کو بڑھائے اور انکے استعداد کار میں اضافے کیلئے خصوصی طورپر توجہ دے تاکہ بلوچستان امن وامان کی قیام کو برقرار رکھا جاسکے ۔

جمال شاہ،نورجہاں 

مزید :

علاقائی -