کم عمری میں شادی کو جرم قراردینا مغرب کا ایجنڈاہے،سیف الدین

کم عمری میں شادی کو جرم قراردینا مغرب کا ایجنڈاہے،سیف الدین

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) مرکز قرآن و سنہ کراچی کے زیر اہتمام ڈپٹی سکریٹری جماعت اسلامی کراچی ونگراں مرکز قرآن و سنہ سیف الدین ایڈوکیٹ کی دعوت پر علماء کرام اور مشائخ کا اجلاس ادارہ نورحق میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں علماء کرام نے کم عمری کی شادی پر پابندی اور اس پر قانون سازی کے حوالے سے قرآن و سنت کے حوالے سے اور مختلف معاشرتی دلائل کی بنیاد پر تفصیل سے تبادلہئ خیال کیاگیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر اعلامیہ بھی پیش کیا گیا۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ اس موضوع پر عوام کو آگاہ اور پس پردہ عزائم کو بے نقاب کیاجائے گا۔ارکان اسمبلی سے رابطہ کر کے ان سے ایسے غیر فطری، خلاف دین اور بنیادی حقوق کے منافی قانون سازی نہ کرنے اور اسمبلی میں ان کو روکنے کی درخواست کی جائے گی۔علماء کرام، مشائخ عظام، دینی وسیاسی شخصیات کا اس سلسلے میں جلد ایک بڑا اجتماع منعقد کیاجائے گا جس میں آئندہ عملی اقدامات پر مبنی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔اجلاس میں حکومت سے اپیل بھی کی گئی کہ وہ ملک کے غریب مہنگائی میں پسے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے اور اس طرح کے معاملات چھیڑ کر جذبات مشتعل کرنے سے باز رہے۔ اجلاس میں مفتی عطاء الرحمن، ڈاکٹر ساجد جمیل، مفتی مصباح اللہ صابر، مولانا محمد اسحاق، مولانا محمد یعقوب خان، مولانا محمد نسیم خان، مولانا محمد زمان فاروقی، مولانا ہدایت اللہ، مولانا گوہر الرحمان، مولانا امین الدین دانش، مولانا محمد ضیاء اللہ، مولانا شکر الدین، مولانا آفتاب احمد، محمد اظہر،عامر ممتاز یوسف زئی، مولانا حفیظ الرحمن، ڈاکٹر محبوب، مرتضی غوری، عثمان فاروق ایڈوکیٹ سمیت بڑی تعداد میں علماء کرام نے شرکت کی۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے اجلاس میں شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نکاح کے لیے عمر کی حد کا تعین اور کم عمری میں شادی کو جرم قراردینا مغرب کا ایجنڈاہے جہاں شادی کو جرم اور کم عمر ی میں زناکی ترغیب دی جاتی ہے، مغرب اپنے خاندانی نظام کو برباد کرچکا ہے اور نسب سے محروم افراد کی تعداد آبادی کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہے، وہ سازش کے ذریعے یہی کام اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اسلام اور خاص طور پر پاکستان میں کروانا چاہتے ہیں، سینٹ،قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں ان موضوعات پر قانون سازی اسی سازش کا حصہ ہے۔انہوں نے کہاکہ شادی کے لیے عمر کا تعین اور 18سال سے کم عمر کی شادی کو جرم قراردینا واضح طور پر دین میں مداخلت اور توہین رسالت کے مترادف ہے، وہ عمل جو نبی کریم ؐ، صحابہ کرام، تابعین کی جانب سے مسلمان معاشرے میں تواتر کے ساتھ جاری ہے اسے کسی لحاظ سے بھی جرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے آئین کی رو سے کئی گئی قانون سازی کے ذریعے قرآن وسنت کے منافی نہیں بن سکتا لہذا اس طرح کی قانون سازی کالعدم،لغو اور قابل تنسیخ ہے، ان قوانین کی حمایت کرنے والے یا تو دین سے ناواقف ہیں یا مغرب کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے کہاکہ شادی کے لیے عمر کی حد کا تعین اور کم عمری میں کئی گئی شادی کوجرم قراردینا ملک کے عاقل اور بالغ افراد کے بنیادی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے، کسی بالغ فرد کی شادی کرنے کے حق کو کسی بھی طرح سلب نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہاکہ کم عمری کی شادی کے بہت سے فوائد اور اس حوالے سے مضبوط دلائل بھی اپنی جگہ موجود ہیں، والدین کی بڑھاپے کی عمر کو پہنچنے سے قبل ہی اولاد جوان ہوکر ماں باپ کا سہارا بن جاتی ہے اور بوڑھے ماں باپ کو کم سن بچوں کو پرورش کی ذمہ داری نہیں اٹھانی پڑتی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -