اکتوبر تک آفٹر شاکس ، پٹرول قیمت 150روپے فی لٹر کرنیکا منصوبہ عوام کا امتحان شروع

اکتوبر تک آفٹر شاکس ، پٹرول قیمت 150روپے فی لٹر کرنیکا منصوبہ عوام کا امتحان ...

  

ملتان ( سٹاف رپورٹر ) وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت مرحلہ وارمسلسل بڑھا کر 150روپے فی لٹر کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔پٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچا دی جائے گی۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت مروار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اکتوبر(بقیہ نمبر48صفحہ12پر )

 2019تک پٹرول کی قیمت 150روپے فی لیٹر تک لے جانے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اور روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے جس کے باعث مہنگائی کا طوفان آیا ہواہے۔حکومت عوام کی قوت برداشت کا امتحان لے رہی ہے ۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں ڈالر کی قدر مسلسل بڑھنے اور روپے کی قدر مسلسل گررہی ہے۔ حکومت ڈالر کی” اڑان “روکنے میں مسلسل ناکام چلی آرہی ہے اور پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ حکومت پٹرول و ڈیزل پر عائد اپنے بھاری ٹیکسز و ڈیوٹیز کو کسی بھی طور پر کم کرنے پر تیار نہیں ہے اور اس کا تمام تر ملبہ عوام پر ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ حکومت نے حال ہی میں پٹرول کی قیمت میں مزید 09.38روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں مزید04.90روپے اضافے کی منظوری دے دی ہے جس سے پٹرول 108.90روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل123روپے فی لیٹر ہو جائے گا ۔ اس پر عملدرآمد 8مئی کو متوقع ہے ۔ اہم حکومتی شخصیت نے آئل مارکیٹنگ کمپنیو ں سے ڈیل کرکے انہیں اربو ں روپے کا فائدہ پہنچا نے کے لئے راتوں رات پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔ بتایا گیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ( او ایم سی ) ہفتہ اور اتوار کو بند رہتی ہیں اور کوئی لین دین نہیں ہوتا ۔ پٹرول پمپس اور ریٹیلرز کے پاس جو پٹرول و ڈیزل سٹاک تھا ۔ انہو ں نے پرانی قیمتوں پر فروخت کر دیا اور سوموار کو نیا پٹرول و ڈیزل آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے خریدنا تھا مگر ہفتے کی رات ہی 12:00بجے پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا جس کے باعث اتوار کی صبح پٹرول پمپس مالکان کو پتہ چلا اور انہوں نے نئی قیمتوں پر پٹرول وڈیزل فروخت کرنا شروع کر دیا ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پٹرول پمپس مالکان پرانا سٹاک کردہ کافی پٹرول وڈیزل فروخت کر چکے تھے اور سوموار کو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے نیا پٹرول و ڈیزل خریدنا تھا ۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے حکومتی شخصیت سے ملی بھگت کرکے پٹرول پمپس و ریٹیلرز کا سٹاک کردہ پٹرول و ڈیزل تو پرانی قیمت پر فروخت کرادیا مگر اپنا سٹاک برقرار رکھا جو سوموار کو نئی بڑھی ہوئی قیمتوں پر فروخت کیاجائے گا ۔ اس طرح وزارت خرانہ کی اہم شخصیت نے راتوں رات پٹرول وڈیز ل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچا کر ڈیل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے ۔ دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے پرعوام سراپا احتجاج بن گئے اور حکومت پر شدید تنقید کی ہے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -