ملک بچانے کیلئے نا اہل حکمرانوں سے جان چھڑانا ہوگی ، مشاہد اللہ خان

ملک بچانے کیلئے نا اہل حکمرانوں سے جان چھڑانا ہوگی ، مشاہد اللہ خان

  

کبیروالا+اڈا کوٹ بہا در(نامہ نگار+نمائندہ پا کستان) حکمران میاں برادران کی عوامی مقبولیت سے خائف ہو چکے ہیں،مہنگائی پر قابو پانا حکمرانوں کے بس سے باہر ہو چکا ہے، پاکستان کو عالمی مالیا تی اداروں کی کالو نی بنا دیا گیا ہے، بھاری قرضوں نے ملکی معیشت تبا ہ کرکے رکھ دی ہے ، ملک (بقیہ نمبر49صفحہ12پر )

بچانے کے لئے نااہل سلیکٹڈ حکمرانوں سے جان چھڑا نا ہو گی،ان خیالا ت کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے مر کزی نائب صدر ،سینیٹر مشاہد اللہ خان نے مقامی میرج ہال میں منعقدہ بہت بڑے ورکر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا اٹھنے والا طوفان حکومت کو اس طرح بہاہ کر لے جائیگا کہ اس کا نام ونشا ن تک مٹ جائیگااور میں وہ وقت آتا ہوا دیکھ رہا ہوں جب پاکستان کی عوام اس کرپٹ ترین ٹولے کو اٹھا کر بحرہ عرب میں پھینک دیں گے، انہوں نے کہاکہ نواز شریک ایک قدآور نام ہے جس نے اپنے جرآت مندانہ فیصلوں اور مضطوط پالیسیوں کی بدولت پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکر کھڑا کیا، ان پر سودے بازی کے الزام لگانے والوں کو شرم کر نے چاہیئے، انہوں نے مزید کہا کہ حکمران بغض نواز شریف میں عقل و خرد سے بیگانہ ہو چکے ہیں اور انتقامی کاروائیوں کے ذریعے شریف خاندان کانشان تک مٹانا چاہتے ہیں مگر وہ ی بات بھول چکے ہیں کہ میاں واز شریف چاہیئے جیل کی کال کوٹھری میں ہو یا پاتال میں پاکستانی قوم انکی ایک کال پر میدان میں نکلنے کے لئے تیار رہتی،انہوں نے کہا کہ کشکول توڑنے کانعرہ لگا کر اب عمران خان نیازی جھولی اٹھائے عالمی سطح پر بھیک مانگنے کی مہم شروع کئے ہو ئے ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت ملک ک لئے نہ صرف سیکورٹی رسک بن چکی ہے بلکہ اسے ایم ایف ایف جیسے اداروؓں کے ہاتھوں گروی رکھنے میں کوشاں ہے ،انہوں نے کہا کہ عید الفطر کے فوری بعد نااہل ،سلیکٹڈ حکمرانوں کے خلاف انسانوں کا ایک طوفان سڑکوں پر ہوگا ،انہوں نے مزید کہا کہ شائد اس بھی ضرورت نہ پڑے یہ از خود اقتدار چھوڑ کرنکلہ بھاگیں،سید اسد عبا س شاہ،راﺅ سعادت علی خان، سابق رکن قومی اسمبلی بیگم شاہین شفیق، حاجی عبدالطیف صابر ، شیخ طارق رشید، شیخ اطہر ممتاز،زبیدہ راﺅ، بلال بٹ، عمر فاروق ،چوہدری اسلم شاہد ،چوہدری سعید عالم ، ملک ناصر کھو کھر سمیت دیگر عہدیداروں نے بھی خطاب کیا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -