تخت محل پولیس کی پھرتیاں‘ چشتیاں سے آڑھتی اغواء‘ تھانے میں تشدد

تخت محل پولیس کی پھرتیاں‘ چشتیاں سے آڑھتی اغواء‘ تھانے میں تشدد

  

چشتیاں (نمائندہ پاکستان)تخت محل پولیس کے اے ایس آئی عدیل پراچہ کی پھرتیاںسامنے آگئیں‘ چشتیاں غلہ منڈی کے آڑھتی چوہدری محمدآصف جٹ کو کسی پرچہ کے بغیر چشتیاں پہنچ (بقیہ نمبر29صفحہ12پر )

کر زبردستی ساتھیوں کے ہمراہ کار میں ڈال کر اغواءکرکے لے گیا جب وہ گھر کے قریب مسجد میں نماز مغرب پڑھنے کے لئے جارہا تھا۔مذکورہ آڑھتی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وقوعہ کے وقت میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ نماز پڑھنے کے لئے جارہا تھا۔جب میں مسجد کے قریب پہنچا تو وہاں پر پولیس کے اے ایس آئی اور دیگر سادہ کپڑوں میں ساتھیوں کے ہمراہ مجھے پکڑ کر زبردستی کار میں ڈال لیا اور خاموش رہنے کی دھمکی دے کرمیرا موبائل فون چھین لیا۔پھر مجھے ایک نامعلوم جگہ پر لے گئے وہاں پر کئی گھنٹے مجھے حبس بے جا میں رکھنے کے بعد مجھے تھانہ تخت محل لے گئے اور وہاں بتایا کہ تجھے ایس ایچ او کے حکم پر لایا گیا کیونکہ تمہاری رنجش معین ممونکا کے ساتھ چل رہی ہے۔جس پر میںنے کہا کہ میری تو اس کے ساتھ کوئی رنجش نہیں ۔میں تو ایک شریف شہری ہوں۔نہ ہی میرے خلاف کوئی مقدمہ ہے جس پر مجھ سے غیر اخلاقی رویہ اختیارکرکے زدوکوب کرنے لگے۔پھر مجھے اس شرط پر رہا کیا کہ اپنے تین عدد چیک دے دو ورنہ تمہارے خلاف وہ مقدمے بنائیں گے کہ تم باہر نہ نکل سکو گے۔مجھے کافی حراساں کیا ۔ پھر میں نے اپنی جان بچانے کیلئے فون کرکے گھر سے چیک بک منگوا ئی اور دستخط کرکے تین چیک ان کے حوالے کردیئے۔پھر مجھے چھوڑدیا۔انہوں نے وزیراعظم۔وزیراعلیٰ۔ڈی آئی جی بہاولپور۔ ڈسٹرکٹ پولیس آیسر بہاولنگر سے اپنے مطالبہ میں کہا ہے کہ مجھے اغواءکرنے اور حبس بے جا میں رکھنے اور حراساں کرنے اور تشدد کرنے پر ان کے خلاف کاروائی کرکے مجھے انصاف مہیا کیا جائے۔

تشدد

مزید :

ملتان صفحہ آخر -