پٹرول کی قیمت 4 سال بعد 100 سے اوپر ، 2016ءکے بعد44 روپے اضافہ

پٹرول کی قیمت 4 سال بعد 100 سے اوپر ، 2016ءکے بعد44 روپے اضافہ
پٹرول کی قیمت 4 سال بعد 100 سے اوپر ، 2016ءکے بعد44 روپے اضافہ

  

کراچی(این این آئی)چار سال 5ماہ بعد پٹرول کی قیمت ایک مرتبہ پھر تین ہندسوںمیں داخل ہوگئی ہے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 31اکتوبر 2014 کو پٹرول کی قیمت میں یکمشت 9روپے 43 پیسے کی کمی کر کے کئی سال بعد پٹرول کی قیمتوں کو ڈبل ہندسے میں لانے کا اعلان کیا تھا۔

اس وقت کی حکومت نے یکم نومبر 2014کو پٹرول کی قیمت 9روپے 43پیسے، ڈیزل 6 روپے 18 پیسے، مٹی کا تیل 8 روپے 16 پیسے جبکہ ہائی آکٹین کی قیمت 14روپے 68 پیسے کم کی، جس کے بعد پٹرول کئی سال بعد کم ہو کر دہرے ہندے میں آ گیا اور اس کی نئی قیمت 94 روپے 14 پیسے ہوگئی تھی۔ جس کے بعد پچھلے دور حکومت کے تیسرے برس کے دوران یکم اپریل 2016کو پٹرول کم ہو کر 64 روپے 27پیسے کی کم ترین سطح پر آگیا تھا۔ تاہم موجودہ حکومت کے 8ماہ کے دوران ایک مرتبہ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتے بڑھتے تین ہندسوں یعنی 100 روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔

8ماہ کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں ساڑھے 17فیصد اضافہ ہوا۔اگست 2018میں عمران خان نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا۔ ستمبر 2018کو پٹرول کی قیمت 92روپے 83پیسے تھی۔ ان 8ماہ کے دوران پٹرول کی قیمتیں تقریبا 16 روپے اضافے کے بعد ایک مرتبہ پھر ساڑھے چار برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -