کراچی میں پولیس افسر نے دستی بم سے نمبر مٹوانے کیلئے ویلڈر سے گرائنڈر چلوادیا اور پھر۔۔۔ ایسی خبرآگئی کہ یقین کرنا مشکل

کراچی میں پولیس افسر نے دستی بم سے نمبر مٹوانے کیلئے ویلڈر سے گرائنڈر ...
کراچی میں پولیس افسر نے دستی بم سے نمبر مٹوانے کیلئے ویلڈر سے گرائنڈر چلوادیا اور پھر۔۔۔ ایسی خبرآگئی کہ یقین کرنا مشکل

  

کراچی (ویب ڈیسک )شاہ لطیف ٹاﺅن میں دستی بم کے نمبر کو مٹانے کی کوشش میں بم پھٹنے سے ویلڈر زخمی ہو گیا ۔

روزنامہ جنگ کے مطابق شاہ لطیف تھانے کے انویسٹی گیشن افسر کا اے ایس آئی ولی محمد عرف یتیم خان کو حراست میں لے لیا گیا، زخمی ویلڈر کے مطابق اس نے نمبر مٹانے سے انکار کرتے ہوئے آگاہ کیا تھا کہ بم پھٹ جائے گالیکن پولیس افسر نے زبردستی اس سے بم پر گرائنڈر چلوایا۔تفصیلات کے مطابق شاہ لطیف ٹاﺅن تھانے کی حدود سیکٹر 20بنگش ہوٹل والی روڈ پر واقع ویلڈنگ کی دکان میں پولیس افسر ایک دستی بم لے کر گیا اور وہاں موجود مشتاق نامی شخص کو کہا کہ دستی بم پر موجود نمبر کو گرینڈر سے مٹا دو جس پر ویلڈر نے انکار کیا تو افسر نے دھمکی دی جس کے بعد ویلڈر نے جیسے ہی گرینڈر چلا یا تو گرمی کی وجہ سے دستی بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس پر پولیس افسر موقع سے فرار ہو گیا اور موقع پر موجود شہریوں نے ویلڈر کو زخمی حالت میں نجی ہسپتال منتقل کردیا ۔

پولیس نے بتایا کہ زخمی کی شناخت مشتاق کے نام سے کی گئی ہے اور اس کے ایک ہاتھ کی دو انگلیاں اڑ گئیں اور سینے سمیت دیگر مقامات پر زخم آئے ہیں ،پولیس ذرائع نے بتایا کہ فرار ہو نے والے تفتیشی افسر اے ایس آئی ولی محمد عرف یتیم خان کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ایس ایس پی ملیر کے ساتھ ایس ایس پی انویسٹی گیشن مذکورہ افسر سے تفتیش کر رہے ہیں۔

دریں اثنا دستی بم پھٹنے کا معاملے پر پولیس بوکھلاٹ کا شکار ہوگئی پولیس نے مشتاق کے پڑوسی کا ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل کرادیا ویڈیو بیان میں مشتاق کے پڑوسی سے بیان جاری کرایا کہ اتوار کی صبح ساڑھے نو بجے میں پانی ڈل رہا تھا اور مشتاق بھائی کٹر کے ذریعے لوہے کی پن کاٹ رہے تھے کہ کٹر سے ہاتھ کٹ گیا جبکہ مشتاق کے جسم پر بارود کے نشانات واضح ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ لطیف تھانے کے انویسٹی گیشن کا اے ایس آئی ولی محمد عرف یتیم خان بنگش ہوٹل کے مالک کا دوست ہے، زخمی مشتاق کو نارتھ ناظم واقع نجی اسپتال لیجانے والا بھی ہوٹل کا مالک ہے ، پولیس نے زخمی کو سرکاری ہسپتال لیجانے کی بجائے لانڈھی سے نجی اسپتال منتقل کیا ، تاہم رات گئے تک پولیس کی جانب سے اس واقعے کا کوئی سرکاری موقف بھی سامنے نہیں آیاتھا۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -