وکیل صاحب یقینی طور پر آپ کے بھی بچے ہوں گے ،کیا آپ کے اچھے سکول میں پڑھنے والے بچے جرح کا سامنا کر سکتے ہیں؟جسٹس اعجاز الاحسن کے طیبہ تشدد کیس میں ریمارکس

وکیل صاحب یقینی طور پر آپ کے بھی بچے ہوں گے ،کیا آپ کے اچھے سکول میں پڑھنے ...
وکیل صاحب یقینی طور پر آپ کے بھی بچے ہوں گے ،کیا آپ کے اچھے سکول میں پڑھنے والے بچے جرح کا سامنا کر سکتے ہیں؟جسٹس اعجاز الاحسن کے طیبہ تشدد کیس میں ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)طیبہ تشدد کیس میں ملزموں کی سزا کیخلاف اپیلوں پرسماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل ملزمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ10 سال کی بچی سے جرح میں کیاامیدرکھتے ہیں؟ہمسایوں نے بچی کوملزمان سے بچایا،وکیل صاحب یقینی طور پر آپ کے بھی بچے ہوں گے،کیا آپ کے اچھے سکول میں پڑھنے والے بچے جرح کا سامنا کر سکتے ہیں؟طیبہ تو گاؤں کی ان پڑھ بچی ہے۔

تفصیلات کے مطابق طیبہ تشدد کیس میں ملزمان کی سزاکیخلاف اپیل پر سپریم کورٹ میںسماعت ہوئی،جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،وکیل ملزمان نے کہاکہ طیبہ نے تسلیم کیااس کےساتھ بدسلوکی نہیں ہوئی،اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 10 سال کی بچی پر عدالت میں جرح کی گئی ،معصوم بچی سے کیا امیدرکھتے ہیں ؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہمسایوں نے بچی کو ملزموں سے بچایا،طیبہ سخت سردی میں ٹھٹھرتی رہی ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وکیل صاحب یقینی طور پر آپ کے بھی بچے ہوں،کیا آپ کے اچھے سکول میں پڑھنے والے بچے جرح کا سامنا کر سکتے ہیں ،طیبہ تو گاﺅں کی ان پڑھ بچی تھی ،کیا آپ نے طیبہ کی تصاویر دیکھی ہیں،کیاطیبہ کی تصاویر کو بھی آپ جعلی کہیں گے،وکیل ملزمان نے طیبہ کے زخم حادثاتی تھے،اس نے رٹاہوابیان دیا، تصاویر جعلی نہیں لیکن بڑھا چڑھا کر پیش کی گئیں،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ طیبہ کی برآمدگی ملزموں کے گھر سے ہوئی ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -