موجودہ حکومت سکیورٹی رسک،قومی اسمبلی اور سینیٹ میں متحدہ اپوزیشن کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےاور مہنگائی کے خلاف شدید احتجاج

 موجودہ حکومت سکیورٹی رسک،قومی اسمبلی اور سینیٹ میں متحدہ اپوزیشن کا ...
 موجودہ حکومت سکیورٹی رسک،قومی اسمبلی اور سینیٹ میں متحدہ اپوزیشن کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےاور مہنگائی کے خلاف شدید احتجاج

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں متحدہ حزب اختلاف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے، مہنگائی، بے روزگاری کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے دونوں ایوانوں کی کارروائی کو نہیں چلنے دیا،قومی اسمبلی میں سپیکر کا گھیراؤ کرتے ہوئے سپیکر ڈائس پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پلے کارڈز لہرا دیئے گئے،آئی ایم ایف کے سابقہ افسر کو گورنر سٹیٹ بینک کے عہدے سے بر طرف کرنے کا مطالبہ کر دیا ،متحدہ اپوزیشن نے موجودہ حکومت کو سکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان حکمرانوں کو فوری طور پر رخصت کرنا ضروری ہے ، پاکستان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے،پاکستان کا دفاعی بجٹ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ حزب اختلاف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے خلاف پارلیمنٹ میں حکومت کے خلاف صف آراء ہو گئی ہے۔ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات مکمل ہوا تو پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، متحدہ مجلس عمل اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے مہنگائی نامنظور، آئی ایم ایف کے افسر کو گورنر سٹیٹ بینک کے عہدے سے برطرف کیا جائے،آئی ایم ایف معاہدہ نامنظور، بے روزگاری ختم کرو اور دیگر نعروں پر مبنی پلے کارڈز ہاتھوں میں اٹھا لئے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ اس طرح نہیں ہوتا ایسا نہ کریں،پلے کارڈز لپیٹ کر نشستوں پر رکھ دیں،ان ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان نعرے لگاتے ہوئے سپیکر ڈائس پر چڑھ گئے،احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے جس پر سپیکر اسد قیصر نے اجلاس کی کارروائی بدھ تک ملتوی کر دی۔

اپوزیشن ارکان نے قومی اسمبلی کے ارکان سے باہر تک احتجاجی مارچ کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  اپوزیشن جماعتوں کے قائدین خواجہ محمد آصف، راجہ پرویز اشرف، احسن اقبال اور متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ کرائے کے لوگوں کو کابینہ میں رکھا گیا ہے، کرائے کے یہ لوگ ملک و قوم کے خیرخواہ نہیں ہیں،جس طرح بریف کیس اٹھا کر پاکستان آئے اسی طرح بریف کیس اٹھا کر واپس چلے جائیں گے،ہم نے اس ملک میں رہنا ہے،پاکستان کے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا دیا گیا ہے،لوگ خودکشی کر رہے ہیں،بازاروں اور مارکیٹوں سے خالی ہاتھ واپس گھروں کو لوٹتے ہیں، بار بار کابینہ میں ردوبدل کیا جا رہا ہے، آئی ایم ایف سے معاہدے پر عمران خان خودکشی کیوں نہیں کرتے؟ قوم سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ قرضے نہیں لوں گا،؟آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا؟ہر روز نیا جھوٹ بولتا ہے،پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں شدید احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا، اشیائے ضروریہ کی قیمت عوامی دسترس سے باہر ہو گئی ہے، آج ہم اسمبلی فلور پر بات کرنا چاہتے تھے مگر جبری قومی اسمبلی کا اجلاس ہی برخاست کر دیا گیا ہے،حکومت بھاگ گئی ہے،ہم چاہتے ہیں کہ عوامی معاملات پر پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم کو استعمال کریں،عمران خان کا کوئی دعوی، کوئی اعلان، کوئی پالیسی قبول نہیں ہے،وہ خودکشی کریں،معاشی طور پر پاکستان کو تنزلی کے آخری مقام پر پہنچا دیا ہےاور گدوں کی طرح ہماری دور کے منصوبوں پر یہ اپنے ناموں کی تختیاں لگا رہے ہیں،یہ ہمارے چھوڑے ہوئے شکار کو نوچ رہے ہیں،مہمند ڈیم کا منصوبہ بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے شروع کیا تھا،آئی ایم ایف کے افسر کو گورنر سٹیٹ بینک کے عہدے سے ہٹایا جائے،موجودہ حکومت کا وقت ختم ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر شعبہ زندگی میں بے چینی پائی جاتی ہے،وزیراعظم کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا ہے، کب تک کرائے کے لوگوں کے ذریعے حکومت چلائیں گے؟۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع ہو چکی ہے، پہلی حکومت ہے جس نے شروع سے آج تک عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا بلکہ ان کے معاشی بوجھ میں اضافہ کیا،عوام دشمن رویوں کی مذمت کرتے ہیں،عوام کا زندہ رہنا مشکل بنا دیا گیا ہے،مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی،اب عوام سڑکوں پر ہوں گے۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکمران معاشی تنزلی کے باعث پاکستان کے لئے سکیورٹی رسک بن گئے ہیں،ملک و قوم کی سلامتی کے لئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں بلکہ دفاعی بجٹ خطرے میں پڑ گیا ہے،آئی ایم ایف کے سابقہ افسر کو گورنر سٹیٹ بینک لگا دیا گیا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور گورنر سٹیٹ بینک کے خلاف پارلیمنٹ اور باہر احتجاج جاری رہے گا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حکومت کو مہنگائی کی سونامی لے ڈوبی گی،پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کا اپنے حلقوں میں جانا مشکل ہو جائے گا،ایسی پالیسیاں اختیار کی گئی ہیں کہ حکومت خود تو ڈوبے گی ملک و قوم کو کوئی نقصان پہنچا جائے گی ،اس لئے ہم کہہ رہے ہیں کہ حکمرانوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک پارلیمنٹ میں مہنگائی کے ایشو پر بات کرنے نہیں دیں گے احتجاج جاری رہے گا۔

مزید :

قومی -