بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں صارفین سے ٹرانسفارمرز کی مرمت کے لیے کوئی رقم وصول نہ کریں :عمر ایوب خان

بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں صارفین سے ٹرانسفارمرز کی مرمت کے لیے کوئی رقم ...
بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں صارفین سے ٹرانسفارمرز کی مرمت کے لیے کوئی رقم وصول نہ کریں :عمر ایوب خان

  

اسلام آباد(صباح نیوز)وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ بجلی ڈویژن نے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ صارفین سے ٹرانسفارمرز کی مرمت کے لیے کوئی رقم وصول نہ کی جائے ،ماضی میں خیبر پختونخوا میں ٹرانسفارمرز کی درستگی کے لیے صارفین کو ادائیگی کے لیے کہا جاتا تھا اب ایسا نہیں  ہے ۔

مولانا عبد الاکبر چترالی کے سوال کے تحریری جواب میں وزیر توانائی عمر ایوب خان نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ فی الحال پیسکو صارفین سے ٹرانسفارمرز کی مرمت کے لیے ر قم وصول نہیں کی جاتی، پیسکو کے خراب ٹرانسفارمرز کمپنی خود ٹھیک کرواتی ہے ۔ وزیر توانائی نے واضح کیا ہے کہ خراب ٹرانسفارمرز پیسکوز کی متعلقہ نجی کمپنی کی ورکشاپس اور پاکستان واپڈا فاؤنڈیشن ورکشاپ نوشہرہ ٹھیک کرنے کی ذمہ دار ہیں، اس سے قبل زیادہ نقصان والے علاقوں میں پیسکوز فیڈرز جہاں خسارے 50 فیصد سے زیادہ ہوں ،اس صورت میں خراب ٹرانسفارمرز کی درستگی کے لیے صارفین کو ادائیگی کے لیے کہا جاتا تھا ، فی الحال پاور ڈویژن نے پیسکو کو ہدایت کی ہے کہ ٹرانسفارمرز کی مرمت کے لیے صارفین سے کوئی رقم وصول نہ کی جائے ۔

نصرت واحد کے سوال کے تحریری جواب میں وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ سندھ کے تھر کے علاقہ میں بچوں کی  بہبود کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات سے متعلقہ جدید ترین رپورٹ طلب کی گئی تھی ،حکومت سندھ کی جانب سے جواب کا انتظار ہے، قومی کمیشن برائے حقوق چلڈرن قائم کیا جا رہا ہے،یہ کمیشن ملک بھر میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے سکے گا اور بچوں کے تحفظ کی نگرانی کرے گا،ایک اور مجوزہ قانون کے تحت اسلام آباد میں بے سہارا بچوں کے لیے فلاحی فنڈ قائم کیا جائے گا ،بے سہارا بچوں کی رجسٹریشن کی جائے گی،جلد ہی وفاقی دارالحکومت میں ادارہ تحفظ چلڈرن قائم کیا جائے گا ،نظام انصاف برائے چلڈرن ایکٹ 2018 ء نافذ کر دیا گیا ہے،قانون کے تحت متاثرہ بچوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے صوبوں میں بھی تحفظ چلڈرن عدالتیں قائم ہوں گی ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پیشرفت ہو گئی ہے ، بچوں کے ساتھ ظلم انسانی تجارت اور جنسی زیادتی کو سنگین جرم قرار دیا گیا ہے ، بچوں کو جسمانی سزا کی روک تھام کا بل 2019 ء تیار کر لیا گیا ہے،کابینہ نے بل کی منظوری دے دی ہے ،اس طرح گمشدہ بچوں کی بازیابی کے لیے تمام اداروں کو چوکنا کرنے کا بل بھی منظوری کے مرحلہ میں ہے،پارلیمنٹ میں پیش کیا جا چکا ہے ،بچوں سے متعلق الرٹ ، رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی قائم ہو گی،نیشنل چائلڈ لیبر سروے شروع کیا گیا تھا، بچوں کے تحفظ کی قومی پالیسی اور لائحہ عمل کے مسودے کی تیاری پر پیشرفت جاری ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -