آمدورفت کی اجازت؟

آمدورفت کی اجازت؟

  

وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے جو اشارے دیئے ان میں یہ احساس ہوتا ہے کہ9مئی کے بعد سرگرمیاں کافی بڑھیں گی۔ اسی حوالے سے ریلوے وزیر کا کہنا ہے کہ حکومتی اجازت ہوئی تو جزوی طور پر ریلوے بھی گاڑیاں بحال کرے گی اور ابتدائی طور پر 24 گاڑیاں چلائی جائیں گی، اِس سلسلے میں ریلوے سٹیشنوں اور ٹرینوں میں کورونا بچاؤ کے تمام حفاظتی انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں، دو ماہ کی طویل بندش کے بعد یہ بڑی ریلیف ہو گی، تاہم اب تک بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے ابہام موجود ہے کہ کیا ایک صوبے سے دوسرے صوبے تک ٹرین چلے گی، جبکہ پابندی کے مطابق تو ایک ضلع سے دوسرے ضلع جانا اور گھر سے بھی نکلنا منع ہے، حالانکہ اس پابندی پر مختلف عذر اور بہانوں سے عمل نہیں ہوتا، شہروں میں نجی گاڑیاں اور رکشا تک چلتے ہیں اور شہری اپنی سواری میں ایک سے دوسرے شہر بھی چلے جاتے ہیں،اب اگر نرمی کا عندیہ دیا اور ٹرینیں بھی چلیں گی تو اِس کا مطلب یہی لیا جائے گا کہ ایک سے دوسرے شہر اور صوبے جانے والی پابندی بھی نرم ہو گی اگر یہ درست باور کیا گیا تو پھر عام لوگوں کو بھی ایک سے دوسرے شہر اور صوبے تک جانے کی اجازت نہ دینے سے کیا فرق پڑے گا۔ یوں بھی24ٹرینیں کتنا بوجھ برداشت کریں گی؟اِس لئے اس مسئلے پر طویل اور فکر مندی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ریلوے ٹرینوں کی اجازت دینا ہے تو پھر نجی ٹرانسپورٹ کو ایک حد تک اجازت دینا بہتر ہو گا اور اس کے لئے تحفظ کے قواعد پر عمل کرانے کی ذمہ داری ٹرانسپورٹر کے علاوہ محکمہ ٹرانسپورٹ اور ہر ضلع کی انتظامیہ کی ہونا چاہئے۔اِس سے قبل بار برداری کے لئے ٹرک تو چل رہے ہیں اور ریلوے گڈز ٹرینیں بھی پٹڑی پر ہیں،اِس لئے جو بھی کرنا مقصود ہے اس کے تمام پہلوؤں پر باریک بینی سے غور لازم ہے۔اگر بعض صنعتوں اور مارکیٹوں کو کاروبار کی اجازت دی گئی تو ٹرانسپورٹ اس کا لازمی حصہ ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -