کورونا کی ہلاکتیں اور تباہ حال عالمی نظام

کورونا کی ہلاکتیں اور تباہ حال عالمی نظام
کورونا کی ہلاکتیں اور تباہ حال عالمی نظام

  

تبدیلی آ چکی ہے دنیا بدل رہی ہے بلکہ بدل چکی ہے۔ گزرے چند ماہ کے دوران دنیا ایک ہولناک اور خوفناک تبدیلی کے عمل سے گزری ہے، گزر رہی ہے اس عمل نے صدیوں سے تشکیل پائے جانے والے معیارات کو یکسر فنا کر کے رکھ دیا ہے، سائنسی و فنی و حربی ترقی اور اس کے ہوشربا مظاہر دیکھتے ہی دیکھتے مکمل طور پر انسانی بے چارگی اور بے بسی کے نمونے بن گئے ہیں۔ جدید میڈیکل سسٹم اور اس سے وابستہ صنعت و حرفت کا نظام مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا ہے، ایک نظر نہ آنے والے حقیر جرثومے نے انسانی عظمت اور قوت کی پرشکوہ عمارت کو پبلک جھپکنے میں زمین بوس کردیا ہے۔ کورونا وائرس نے سینکڑوں نہیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کو شکار بنا لیا ہے، دنیا کے 200سے زائد ممالک کورونا کے شکنجے میں کراہ رہے ہیں۔ اقوام مغرب ہوں یا مشرق بلا تفریق رنگ و نسل سب اس کی گرفت میں ہیں، عالمی اقتصادی نظام کا دھڑن تختہ ہوگیا ہے۔ غربت و بے کاری پھیل گئی ہے۔ نقل و حمل اور پیداواری عمل مکمل طور پر منجمد ہوکر رہ گیا ہے۔ تہذیب و تمدن کے تمام اعشاریئے زیر و زبر ہو چکے ہیں۔

انسان بے چارگی اور لاچارگی کی ایک معتبر تصویر بن کر رہ گیا ہے۔ انسانی تعمیر ترقی کا سرمایہ صفر ہوگیا ہے تمام بندوست بے کار نظر آنے لگے ہیں۔ ایک جرثومہ، نظر نہ آنے والا، انسانی خلیوں پر پلنے والا وائرس اس قدر خوفناک صورت اختیار کر گیا ہے کہ اس نے ہر سو سنسنی پھیلا دی ہے۔ ڈر خوف کا راج ہے بے چارگی کا سماں ہے دنیا سراسیمگی کی لپیٹ میں ہے اس سے نمٹنے اور مقابلہ کرنے کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔ لاک ڈاؤن اور سماجی دوری کے ذریعے مقابلے کی نہیں بلکہ اس سے چھپنے کی کاوشیں کی جارہی ہیں۔

جدت اور اختراع کے جاری سفر کا آغاز پہیے کی ایجاد اور پھر بھاپ کی دریافت سے ہوا تھا پھر انسان نے پہیے اور بھاپ کے ملاپ سے انجن بناکر تہذیب انسانی کو زرعی دور سے نکال کر مشینی دور میں ڈال دیا۔ زمینداری اور جاگیرداری نظم زندگی ایسی دور کی یادگار ہیں جب انسانی طاقت کا پیمانہ اس کے زیر قبضہ زمین کارقبہ اور مزارعین کی تعداد ہوتا تھا۔ معروف دانشور سید سبط حسن کی معروف کتاب ”موسیٰ سے مارکس تک“ کا مطالعہ انتہائی اہم ہے جس میں اس ارتقاء کی بڑی خوبصورت تصویر کشی کی گئی ہے۔ تہذیب انسانی کی تاریخ میں زرعی دور 10 ہزار سال پر محیط ہے اس کے بعد آلات و اوازار اور مشینوں نے انسان کو صنعتی دور میں داخل کردیا۔ یہ دور تقریباً 300سال تک جاری رہا اس دور میں یعنی صنعتی دور میں انقلاب فرانس (1789)ایک اہم موڑ ہے جس نے تہذیب انسانی کو ایک نئی شکل دی۔ فیوڈل ازم کے خاتمے کی ابتداء ہوئی ویسے تو مشینوں نے زمین کے ساتھ جڑے معاشرے کے تارپور بکھیرنے شروع کردیئے تھے۔

بادشاہ اور چرچ کے درمیان ”گٹھ جوڑ“ نے عامۃ الناس پر زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔ جاگیردار، بادشاہ اور مذہبی رہنما کسان کی محنت اپنے کھاتے میں لے جاتے تھے کسان محنت کے ذریعے جو پیداوار کرتا تھا اسے کسان کا نہیں بلکہ زمین کا کرتب قرار دے کر ”مالک زمین“ لے جاتا تھا جبکہ کسان غریب ہی رہتا۔ انقلاب فرانس کے بعد جاگیرداری نظام کی بنیادیں کمزور ہونا شروع ہوگئیں۔ صنعتی ایجادات اور سائنس کی دریافتوں نے لوگوں کا مذہب پر اعتماد بھی متزلزل کرنا شروع کیا۔ جاگیرداروں کے خلاف عوامی بغاوت نے چرچ اور مذہب کے خلاف بھی خیالات کو تقویت دی۔ اس طرح یورپ میں قومی ریاستیں وجود میں آنے لگیں۔ مشینی و صنعتی دور میں بھی کارکن کو اس کی محنت و کارکردگی کا اتنا ہی صلہ ملتا کہ وہ جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھ سکے۔ مشینی و صنعتی پیداواری عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دولت کا زیادہ، بلکہ بہت زیادہ حصہ سرمایہ کار/ صنعت کار لیجانے لگا۔ صنعتی اور مشینی دور میں جو ماڈرن تہذیب پیدا ہوئی وہ برطانیہ میں تھی صنعتی دور کی ابتدائی ترقی یافتہ شکل برطانوی معاشرہ تھی۔

کارل مارکس نے اس نظام کی خامیاں بیان کیں۔ اس سے پہلے فریڈاک اینجلترنے ”فلسفہ جدلیات“ کے نظریے کے تحت تہذیبی و تمدنی ارتقاء کی بات کی تھی کارل مارسک نے نظریہ قدر زائد (THEORY OF SURPLUS VALUE) کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کی خامیوں کو بیان کیا اور مزدوروں میں بڑھتے ہوئے اضطراب کی بابت لکھا اور پیش گوئی کی کہ سرمایہ دارانہ نظام کیونکہ مزدور کے استحصال پر قائم ہے اس لئے یہ زیادہ دیر نہیں قائم رہ پائے گا۔ کارل مارکس اور فیرڈراک اینجلز نیمل کر ”کمیونسٹ پارٹی کا منشور“ تخلیق کیا جو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف کام کرنے والے مزدوروں کے لئے مقدس دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی بے اعتدالیوں نے دنیا کو دو عظیم اور ہولناک جنگوں سے دوچارکیا۔ جن کے بطن سے امریکہ اور سوویت یونین کا دوقطبی عالمی نظام معرض وجود میں آیا۔ سرد جنگ کا یہ دور 90کی دہائی میں اشتراکی نظام/ ریاست کے خاتمے تک جاری رہا۔

اس دوران صنعتی دور ترقی کرتا ہوا سپر صنعتی دور میں داخل ہوگیا۔ کمپیوٹر کی ایجاد نے تعمیر و ترق کی رفتار تیز کردی۔ یہ دور 60کی دہائی تک جاری رہا۔ پیداواری عمل جدید تر اور پیداواریت عظیم تر ہوتی چلی گئی۔ زمین نے پیداوار اگلنا شروع کردی۔ فی ایکڑ پیداوار حیران کن حد تک چلی گئی، ڈیری مصنوعات اور جانوروں کی یافت حیران کن ہوگئی۔ استعمال کی اشیاء بہتات میں اور آسانی سے مہیا ہونے لگیں۔ پھر 60کی دہائی میں انٹرنیٹ نے تعمیر و ترقی کی رفتار اور مفہوم میں بجلی کی سرعت پیدا کردی اس دور میں ایلون ٹانلزنے ”تیسری لہر“ اور ”فیوچر شاک“ جیسی شہرہ آفاق تحریروں کے ذریعے بدلتی دنیا کے مستقبل کے بارے میں بڑے خوبصورت محققانہ اور عام فہم انداز میں لوگوں کو متنبہ کیا، پھر ہم نے دیکھا کہ آٹومشین نے تبدیلی کی لہر کو سونامی میں بدل دیا، مصنوعی ذہانت کے دور میں پہنچ چکی ہے تبدیلی ہمہ وقت اور ہمہ جہت تبدیلی کا ایک بحر بیکراں ہے جس میں دنیا تیر رہی ہے کہ اچانک کورونا نے ہر چیز تہس نہس کر رکے رکھ دی ہے۔ صدیوں سے جاری ترقی کے ثمرات اکارت ہوتے نظر آرہے ہیں۔ انسان نے صدیوں کی محنت کے ذریعے جو کچھ کمایا تھا وہ لگتا ہے اچانک ختم ہوگیا ہے لٹ گیا ہے۔

کورونا کی ہلاکت خیزیاں اپنا فطری سائیکل مکمل کرکے بتدریج ختم ہو جائیں گی۔ پوری دنیا میں بحیثیت مجموعی یہ وبا اپنی انتہاؤں کو چھو کر واپسی کا سفر شروع کر چکی ہے۔ چین میں زندگی اپنے عمومی رجحان کی طرف لوٹ گئی ہے دیگر کئی ممالک میں بھی ایسا ہی پیٹرن نظر آنے لگا ہے۔

کورونا کی ہلاکت خیزیاں سمٹنے لگی ہیں ایک بات طے شدہ ہے کہ وبا کے خاتمے کے بعد دنیا ایسی ہرگز نہیں ہو گی جیسے وبا پھوٹنے سے پہلے تھی۔ وبا نے ایک ہمہ جہتی اور ہمہ گیر تبدیلی پیدا کردی ہے اس کی شکل کیا ہے اس تبدیلی کے اثرات کیا ہونگے، ہم ان سے کس طرح ہم آہنگ ہو پائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ ایسے سوالات ہیں جن کا حتمی جواب ابھی دینا ممکن نہیں ہے لیکن ایک بات اہم ہے کہ ہمارا مروجہ نظام معیشت و معاشرت ناکام ہوگیا ہے اب اس نظام کے جاری رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں بچا، ویسے تو وبا سے پہلے بھی اس بارے باتیں ہو رہی تھیں کہ جاری نظام غیر منصفانہ ہے اس میں امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ تقسیم دولت کے غیر منصفانہ نظام کے باعث انسانی ترقی کے ثمرات عام انسانوں تک پہنچنے کی بجائے گنے چنے سرمایہ کاروں کے ہاتھ چلے جاتے ہیں۔ اس طرح دنیا میں سرمایہ داروں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے دولت سمٹ کر چند ہاتھوں میں جارہی ہے جبکہ وسائل عامۃ الناس کے مسائل حل کرنے کے لئے دستیاب نہیں ہیں۔ اس طرح دنیا میں غریب، افلاس، بیروزگاری، بیماری اور بے اطیمنانی فروغ پا رہی ہے۔ جنگ و جدل پر استعمال ہونے والے آلات و اوازر کی ذخیروں میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن انسانی صحت، تعلیم، خوراک ادویات وغیرہ کی سپلائی میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو رہاہے۔

مزید :

رائے -کالم -