پاکستان اور غربت لازم و ملزوم کیوں؟

پاکستان اور غربت لازم و ملزوم کیوں؟
پاکستان اور غربت لازم و ملزوم کیوں؟

  

اب یہ خبر بھی کوئی سنانے کی ہے کہ ملک میں کورونا اور لاک ڈاؤن سے ایک کروڑ 80لاکھ افراد بے روزگار جبکہ سات کروڑ غربت کی لکیر کے نیچے چلے جائیں گے، لیکن یہ خبر تو وفاقی وزیر اسد عمر نے سنائی ہے، اس لئے ہے تو درست مگر اس خبر نے تو مایوسی ہی پھیلائی کوئی حوصلہ نہیں دیا۔ البتہ وزیراعظم عمران کان نے کہہ دیا ہے کہ مشکل صورت حال سے نکل آئے ہیں، اب بھرپور معاشی سرگرمیاں شروع کریں گے، حالات میں تبدیلی لائیں گے۔ کیا بے بسی ہے کہ جو حکومت اپنے ساتھ یہ وعدہ لائی تھی کہ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، آج وہی تقریباً دو کروڑ افراد کے بے روزگار ہونے کی روح فرما خبر سنا رہی ہے۔ اس ملک کے غریبوں کی بھی کیا قسمت ہے، انہیں غربت سے چھٹکارا نہیں مل رہا، ایک پاؤں آگے بڑھاتے ہیں تو دو قدم پیچھے چلے جاتے ہیں۔ یہ آج کی بات نہیں کہ غریبوں میں سفید پوش طبقہ بھی شامل ہو گیا ہے، بلکہ یہ تو ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے۔ بڑی مشکل سے خطِ غربت سے جو چند فیصد غریب اوپر آتے ہیں، انہیں لڈو کے سانپ اور سیڑھی کھیل کی طرح پھر اوپر سے نیچی دھکیل دیا جاتا ہے۔ کبھی کرنسی ڈی ویلیو کرکے اور کبھی مہنگائی بڑھا کر انہیں اٹھنے نہیں دیا جاتا، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں غریبوں کی تعداد بڑھتی ہی ہے، کبھی کم نہیں ہوئی۔ اس کورونا نے تو اگلی پچھلی ساری کسریں نکال دی ہیں، کروڑوں متوسط طبقے کے خوشحال گھرانے بھی غربت کی لکیر پر آکھڑے ہوئے ہیں۔ حکومت تو پہلے ہی اپنے اس دعوے سے مکر گئی تھی کہ ایک کروڑ نوکریاں دے گی۔ اب تو اس کے ہاتھ میں اچھا خاصا بہانہ آ گیا ہے۔ اگلے تین سال تو اسی کورونا کا رونا روتے گزر جائیں گے اور حکومتی پالیسی کی ساری خرابیاں اسی وباء کے طوفان میں دب کر رہ جائیں گی۔

اس سے بڑی ذلت کیا ہو سکتی ہے کہ آج اچھے خاصے سفید پوشی میں گزارا کرتے لوگوں کو قطار میں کھڑا ہو کر بارہ ہزار روپے کی امداد حاصل کرنا پڑ رہی ہے۔ وہ جنہوں نے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا، اب جھولیاں پھیلا رہے ہیں، کسی نے سچ کہا ہے کہ کورونا سے مرنا تو نصیب کی بات ہے، لیکن معا شی دباؤ سے مرنے کی مجبوری تو اب گھر گھر کی کہانی بن گئی ہے۔ آج سب کی زبان پر یہی درد ہے کہ لاک ڈاؤن کو غیر معینہ مدت تک برقرار نہیں رکھا جا سکتا، مگر جو نقصان ہو چکا ہے، اس کا ازالہ کیسے ہوگا۔ بارہ ہزار روپے فی خاندان تو ایسا ہی ہے کہ جیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ دیا گیا ہو۔ یہ تو لگتا نہیں کہ حکومت ہر ماہ بارہ ہزار روپے دے، یہ تو بس ایک بار کی امداد تھی، جسے سونگھ سونگھ کر بھی خرچ کریں تو ایک ہفتہ نہیں چلے گی، اسد عمر نے ساتھ ہی یہ خبر بھی سنا دی ہے کہ حکومت کو اب تک محاصل میں 119 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے ظاہر ہے حکومت کی آمدنی بھی تو معاشی سرگرمیوں کے طفیل ہی ہوتی ہے۔

گویا امداد کا یہ سرکل دوبارہ چلنے والا نہیں تو پھر ہوگا کیا؟ کیا حکومت اسی بحث میں الجھائے رکھے گی کہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا۔ سوچ سمجھ کے کیا جاتا تو معاشی سرگرمیاں بھی جاری رہتیں اور کورونا سے نمٹنے کے اقدامات بھی جاری رہتے، ارے بھائی جو ہونا تھا ہو گیا، کب تک اس کا رونا رویا جائے گا۔ اب آگے بڑھو، دیکھو کہ نقصان کیسے پورا کرنا ہے لوگوں کو نارمل زندگی میں کیسے واپس لانا ہے۔ یہ نہ ہو کہ ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی دہرائی جائے۔ کورونا ختم تو نہیں ہوا، اس کی شدت تو مزید بڑھ گئی ہے کیسوں اور اموات کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، کراچی میں ایک ڈاکٹر کی موت اسی وجہ سے ہوئی کہ اسے دو گھنٹے تک ایمبولینس میں لٹا کر ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال لے جایا گیا تاکہ کہیں وینٹی لیٹر کی سہولت مل جائے مگر نہ ملی اور وہ ایمبولینس ہی میں انتقال کر گئے۔ اب ایسی صورتحال میں حکومتیں اگر یوٹرن لے کر سب کچھ کھول دو کی پالیسی اختیار کرتی ہیں تو کیا انہوں نے نتائج پر بھی نظر رکھی ہوئی ہے۔

حکومت کو اب خیال آیا ہے کہ لوگ کورونا سے نہیں بھوک سے زیادہ مریں گے۔ کیا ان دونوں کا موازنہ اور مقابلہ ضروری ہے اگر ایک طرف یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس وقت صحت کے شعبے کی صورتحال دوماہ پہلے کے مقابلے میں بہت بہتر ہے تو احتیاطی تدابیر کے ساتھ رفتہ رفتہ معاشی سرگرمیوں کو کھولنے کا فیصلہ بھی کیا جانا چاہئے لیکن دونوں کا توازن کسی صورت خراب نہ ہو کیونکہ دونوں کی اپنی اپنی جگہ اہمیت ہے وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ہم خوف کی فضا سے نکل آئے ہیں خوف کی فضا سے لوگوں کو نکالنا ہے تو کورونا مریضوں کے علاج کے طریقے میں جو پراسراریت رکھی گئی ہے، اس کا خاتمہ کیا جائے۔ جہاں جہاں بھی عارضی قرنطینہ سنٹرز بنائے گئے ہیں وہاں سے ظلم اور بے حسی کی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں ہیجان پیدا ہو رہا ہے اور لوگ اس بیماری کا بتاتے ہوئے بھی ڈرنے لگے ہیں لاہور کے ایکسپو سنٹر میں قائم قرنطینہ سنٹر نے تو پنجاب حکومت کے تمام دعوؤں کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔

کئی دن سے وہاں مقیم کورونا کے مشتبہ اور پازیٹو کیسز والے افراد احتجاج کر رہے ہیں۔ کرپشن اور ظلم کی کہانیاں سنا رہے ہیں رپورٹ نیگٹیو کرانے کے لئے دس ہزار رشوت کی باتیں سر عام ہو رہی ہیں۔ کیا یہی طریقہ ہے قرنطینہ سنٹر چلانے کا اور کیا اس انداز سے ہم ملک میں کورونا کی وبا کو روک سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہ ہر معاملے کا نوٹس ضرور لیتے ہیں، مگر بری بات یہ ہے کہ پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے کہ اس نوٹس کا حشر کیا ہوا۔ انہوں نے ایکسپو سنٹر کے قرنطینہ مرکز میں مریضوں کے احتجاج کا نوٹس بھی لیا اور انکوائری کا حکم بھی دیا مگر معاملہ جوں کا توں ہے، مریضوں کی دہائی جاری ہے کہ انہیں بنیادی سہولتیں تک فراہم نہیں کی جا رہیں ادویات تو دور کی بات ہے، ڈاکٹر اور طبی عملہ سرے سے وہاں جاتا ہی نہیں اب ایسی صورتحال میں کون چاہے گا کہ کورونا ٹیسٹ کرائے اور جیتے جی مر جائے۔

وزیر اعظم عمران خان بھلے اس بات پر اطمینان کا اظہار کریں کہ ان کی معاشی ٹیم نے بروقت فیصلے کر کے عوام کو بڑا ریلیف دیا، لیکن اطمینان کی ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے، حالات اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں، جتنے نظر آ رہے ہیں ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ مشکل حالات میں بھی ایک مخصوص مافیا عوام کو لوٹنے میں مزید سرگرم ہو جاتا ہے۔ جیسے کہ اس وقت صاف نظر آ رہا ہے کہ غریبوں پر مصنوعی مہنگائی کا بوجھ ڈال کے ان کی رہی سہی پونجی بھی نکلوانے کی کوششں کی جا رہی ہے چند روز پہلے وزیر اعظم عمران خان نے یہ حکم دیا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے۔ بہت بر وقت حکم تھا، کیونکہ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہر چیز کی قیمت میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، اب اچھی خاصی کم ہوئی ہیں تو اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ہونی چاہئے، مگر ایسا ہونے کی امید کم ہی ہے، کیونکہ سرمایہ دار مافیا بہت منظم ہے، وہ صرف اپنا فائدہ دیکھتا ہے، حکومت کے پاس کوئی ایسا میکنزم بھی نہیں کہ وہ اس امر کا جائزہ لے سکے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے کس چیز کو کتنا سستا ہونا چاہئے۔

اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ شرح سود کم ہو چکی ہے، قرضے مؤخر کر دیئے گئے ہیں ٹیکسوں میں کمی کا اعلان ہو چکا ہے، بجلی اور گیس کے بلوں میں رعایت دی جا رہی ہے۔ گویا کاروباری سیکٹر کو ایک بڑا ریلیف دیا گیا ہے مگر عوام تک یہ نہیں پہنچ رہا، الیکٹرانک کی اشیاء پرانی قیمتوں پر بک رہی ہیں کھانے پینے کی اشیاء کے نرخ کم نہیں ہو رہے۔ کرایوں میں کمی کا اعلان نہیں کیا گیا، صرف وزیر اعظم کے حکم جاری کرنے سے تو عوام کو ریلیف نہیں ملے گا، اس کے لئے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے جن کی فی الوقت شدید کمی نظر آ رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -