شہبازشریف، نیب آصف ہو آئے، دو گھنٹے سے زیادہ سوالات کے جواب دیئے!

شہبازشریف، نیب آصف ہو آئے، دو گھنٹے سے زیادہ سوالات کے جواب دیئے!

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

دنیا بھر میں کورونا کورونا ہی چل رہا ہے تو پاکستان کیسے پیچھے رہ سکتا ہے۔ یہاں بھی اس وائرس نے اب تک بھی ہر کام پر اولیت حاصل کر رکھی ہے اور اب لوگ صبر نہیں کر پا رہے۔ لاہور میں دکان دار حضرات نے دکانیں کھول لی ہیں تو لوگ بھی گھروں سے نکل آئے ہیں اور اب صبح صبح منڈیوں میں مجمع کی شکل اختیار کرتے تو دن چڑھے بازاروں میں کسی تحفظ کی پروا کئے بغیر خریداری میں مصروف نظر آتے ہیں اور یوں یہاں وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، جیسے گوجرانوالہ سے اطلاع ملی ہے کہ اس شہر اور قریبی علاقوں میں متاثرین کی تعداد یکایک بڑھ گئی ہے اور یہ سب نرمی کا نتیجہ ہے کہ سماجی فاصلے مٹائے گئے تھے، یہی صورت حال لاہور کی ہے، ایسے میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے وفاقی حکومت سے لاک ڈاؤن نرم کرنے کی سفارش کی ہے، اب اگر لاہور کی موجودہ صورت حال بھی برقرار رہی تو یہاں مریضوں اور متاثرین کی تعداد میں اضافہ یقینی ہے، انتظامیہ کو غور کرنا ہوگا۔

گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر اور قائد حزب اختلاف محمد شہبازشریف نیب ہیڈکوارٹر لاہور میں پیش ہو گئے اور تفتیشی ٹیم کے سوالات کا سامنا کیا، شہبازشریف دو گھنٹے سے زیادہ وقت کے لئے وہاں رہے اور تفتیش کا سامنا کیا، اس کے بعد وہ واپس اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہو گئے وہ گزشتہ دو نوٹسوں کے جواب میں قرنطینہ میں ہونے کی وجہ سے نہیں گئے تھے اور سوالات کے جواب بھجوا دیئے تھے، بہرحال اس بار انہوں نے چلے جانا ہی بہتر جانا، اب شیخ محمد رشید کچھ اور کہیں گے کہ پہلے وہ گرفتاری تک کی پیش گوئی کر چکے ہیں۔

بازار میں اشیاء خوردنی، پھلوں اور سبزیوں کے نرخوں میں خریداری میں کمی کے باعث کمی کے آثار پیدا ہوئے اور لیموں جو 600روپے کلو ہو گئے تھے وہ اب 300سے 350روپے فی کلو مل جاتے ہیں۔ یہ دیسی لیموں کا نرخ بنا جبکہ چینی نسل ان سے سستی ہو گئی ہے، اسی طرح آلو اب 70سے 55اور 60روپے پر، پیاز 50سے 60روپے تک آ گیا، اسی طرح دوسری اشیاء بھی سپلائی بہتر ہونے پر کم نرخوں پر ملنا شروع ہو رہی ہیں، تاہم برائلر مرغی اور انڈوں کے نرخ اب بڑھنا شروع ہوئے۔ انڈے 90سے 96روپے ہو گئے جبکہ مرغی 200سے 225روپے فی کلو ہو چکی ہے۔ اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ بہرحال لوگوں کی قوت خرید ہی متاثر کر رہی ہے، تاہم جیسے جیسے دوسرا عشرہ مکمل ہوگا ویسے ویسے نرخ پھر بڑھیں گے۔

صوبائی حکومت کی طرف سے کورونا، ڈینگی اور صفائی کے حوالے سے بڑے بڑے اعلان کئے گئے ہیں، لیکن عملی صورت حال بالکل مختلف ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں کوڑا کرکٹ نہیں اٹھایا جا رہا اور صفائی بھی نہیں ہو رہی، اگر یہ سب جی او آر اور شاہراہ قائداعظم (مال روڈ) پر ہوتا ہے تو عوام بے چارے کس شمار میں ہیں، انتظامیہ اور حکومت کو توجہ دینا ہوگی، اس کے علاوہ لوگ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ انسداد ڈینگی سٹاف کہاں اور کیا کر رہا ہے،جبکہ اینٹی وائرس سپرے بھی بند کر دیا گیا ہے، بازاروں کی جو صورت حال ہے،اس میں لازمی ہے کہ پورے شہر میں سپرے کا سلسلہ جاری رہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -