وفاقی دارالحکومت میں تاثر، حکمران وبا سے نبرد آزما نہیں ہو پا رہے

وفاقی دارالحکومت میں تاثر، حکمران وبا سے نبرد آزما نہیں ہو پا رہے

  

وفاقی دارالحکومت میں ہر روز یہ تاثر پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ دُنیا کی تاریخ کے ایک اہم ترین اور مہلک چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے حکومتی صفوں میں یکسوئی نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان مسلسل ایسے بیانات داغ رہے ہیں، جن سے اندازہ کرنا محال ہے کہ حکومت بالآخر اس چیلنج سے مقابلہ کرنے کے لئے کیا حکمت ِ عملی اپنانا چاہتی ہے۔ صوبے وفاق سے ہم آہنگ نظر نہیں آ رہے، جبکہ کورونا کی وبا میں شدت آتی جا رہی ہے۔ دارالحکومت کے اہم ترین قومی اداروں میں بھی اِس حوالے سے تشویش پائے جانے کے اشارے ملتے رہے ہیں بے بس عوام حکومت کے رحم و کرم پر ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے کورونا پر حکمت ِ عملی کے حوالے سے نقائص کی نشان دہی کر دی ہے، بلکہ حکومتی کنفیوژن اور وفاق کا صوبوں کے ساتھ عدم اتفاق والے ڈھول کا پول کھول دیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بجا طور پر عوامی اضطراب اور بے چینی کو بھانپتے ہوئے کورونا کے خلاف حکومتی حکمت ِ عملی پر سخت سوالات اٹھائے ہیں، حتیٰ کہ سپریم کورٹ نے اِس چیلنج سے نبرد آزما ہونے والے اداروں کی مالی شفافیت پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو ایک ہفتہ کی مہلت دی ہے کہ ملک بھر میں کورونا کے خلاف ایک یکساں پالیسی بنائی جائے۔ اب دیکھنا ہے کہ حکومت کس طرح بالخصوص صوبہ سندھ سے اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کورونا سے مقابلہ کرنے کے لئے اتفاق رائے سے ایک پالیسی تشکیل دے پاتی ہے۔ بدقسمتی سے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین محاذ آرائی قومی نوعیت کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے میں مانع ہے۔ مرکز اور صوبے اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ کے تحت قومی ایشوز پر طبع آزمائی کر رہے ہیں۔ اگرچہ دُنیا بھر کے شواہد یہی بتا رہے ہیں کہ سماجی فاصلہ اور لاک ڈاؤن ہی اب تک کورونا کے خلاف کارگر ثابت ہوئے ہیں، جہاں تک پاکستان میں عوام کے شعور اور تعلیمی معیار اور آگہی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ماسوائے اشرافیہ، اپر مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کا ایک خاص تناسب ہی سماجی فاصلے کی اہمیت سے آگاہ ہے اور اس پر یقین بھی رکھتا ہے، باقی عوام اس اہم ایشو کی اہمیت سے واقف ہیں نہ اس پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ عمل درآمد کا تو کوئی امکان نہیں، اِس لئے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں کورونا کے خلاف سب سے موثر ترین ہتھیار لاک ڈاؤن ہی ثابت ہو سکتا ہے تاہم اس حکمت عملی میں حکومت پر بہت زیادہ ذمہ داری اس حوالے سے عائد ہو جاتی ہے کہ غریب، بے سہارا اور بے روز گاروں کو کس طرح گھر کی دہلیز پر خوراک فراہم کی جائے، شاید یہ حکومت کے بس کا کام نہیں۔اگرچہ حکومت احساس پروگرام کے ذریعے لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن پاکستان جیسے ملک میں عوام کی معاشی حالت کے پیش نظر یہ پروگرام ملک بھر کے عوام کو خوراک مہیا کرنے کے حوالے سے ناکافی ہے۔حکومت یہ کٹھن ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر نظر آتی ہے،بلکہ صورتِ حال اس قدر دگرگوں ہے کہ فرنٹ لائن پر کورونا کے خلاف لڑنے والے ڈاکٹر اور طبی عملہ سستے ماسک اور حفاظتی لباس کے بغیر یہ جنگ لڑ رہے ہیں، ملک بھر میں اکثر جگہوں پر ضلعی انتظامیہ نے جیل نما قرنطینہ مرکز قائم کر رکھے ہیں تاکہ وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی میں بھی یہ صورتِ حال ہے۔ اس حوالے سے حاجی کیمپ کی مثال ہی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے، جہاں بجلی جیسی بنیادی سہولت بھی موجود نہیں تھی۔ بیرونی ممالک سے آنے والی امداد کے حوالے سے بھی کوئی واضح میکانزم نظر نہیں آ رہا۔ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز وزارت سنبھالتے ہی متحرک نظر آ رہے ہیں ان کی شہرت کے مطابق ان کے لب و لہجے میں تاحال تدبر اور اعتدال نظر آ رہا ہے۔

سابقہ مشیراطلاعات فردوس عاشق اعوان اپنی سبکدوشی کے بعد بھی سرنڈر کرنے کے موڈ میں نہیں،ان پر لگنے والے الزامات اور ان کی وضاحتوں پر مبنی جوابی انٹرویو کی باز گشت اسلام آباد میں سنی جارہی ہے، وہ اپنی سیاسی آپشنز کو دیکھ رہی ہیں اور اپنے کارڈز کھیل رہی ہیں۔انہوں نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو ہدفِ تنقید بنا رکھا ہے تاہم وہ تاحال وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟ کیا وہ اسی تنخواہ پر پی ٹی آئی سے وابستہ رہیں گی یا پھر گھر کے بھیدی کے طور پر لنکا ڈھائیں گی۔ ایک طرف کورونا کا عذاب جاری ہے تو دوسری جانب مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں رمضان المبارک کے مہینے میں بھی ظلم واستبداد کا سلسلہ جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ کنٹرول لائن پر اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ بھارت کا یہ جارحانہ رویہ خطے میں محاذ آرائی کا باعث بن رہا ہے اور کسی ممکنہ جنگ میں خطے کو دھکیل سکتا ہے، تیل کی قیمتوں میں شرح سود میں کمی کے باوجود رمضان المبارک میں اشیائے ضروریہ مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں۔ ضلع انتظامیہ اس ضمن میں خاموش نظر آئی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -