شہباز شریف مریم نواز کو راستہ کیوں نہیں دیتے؟

شہباز شریف مریم نواز کو راستہ کیوں نہیں دیتے؟
 شہباز شریف مریم نواز کو راستہ کیوں نہیں دیتے؟

  

ایسا لگتا ہے کہ لگوانے والے شہباز شریف سے ناک کی لکیریں لگوارہے ہیں، یہی ہوتا ہے ان کے ساتھ جو بڑے خواب دیکھتے ہیں اور پھر ان کے تعاقب میں اندھا دھند بھاگتے ہیں، اس قدر اندھادھند کے انہیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ کون سا پاؤں کہاں پڑرہا ہے۔ خود وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بھی بائیس برس تک ایسا ہی ہوتا رہا تھا، انہیں ہر بار ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا جاتا تھا اور آخر میں ٹرک میں کوئی اور جھانک کر انہیں ہاتھ ہلادیتا تھا۔ اب شہبا ز شریف کے ساتھ بھی ایسا ہی ہورہا ہے، وہ بھی ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔

یہی نہیں، ادھر پنجاب میں بھی حمزہ شہباز ٹرک کی بتی کے پیچھے ہیں، انہیں بھی خیال ہے کہ اب کی باری، ان کی باری ہے مگر چکر دینے والوں نے انہیں چکرا کر رکھا ہوا ہے۔ سچ پوچھئے تو شاہد خاقان عباسی شہباز شریف سے بڑے لیڈر لگتے ہیں، وہ پارٹی کی ترجمانی پارٹی قیادت سے بڑھ کر کر رہے ہیں، ترجمان کی تو خیر بات ہی کیاہے۔ شاہد خاقان عباسی کا ایڈوانٹیج یہ ہے کہ وہ کسی عہدے کے پیچھے نہیں بھاگ رہے ہیں، بلکہ ملک کا سب سے بڑا عہدہ ان کے پیچھے بھاگا تھا، وہ جب تک اس عہدے پر رہے پورے زور کے ساتھ رہے، ان کا حال راجہ رینٹل جیسا نہیں ہوا، جنھیں وزیر اعظم کی عزت وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹ کر ملی ہے۔ اب بھی شاہد خاقان عباسی پہاڑوں کی سی ہیبت کے ساتھ ملکی سیاست پر عقل و دانش کے موتی بکھیر رہے ہیں اور نون لیگ کے مخالف ٹی وی اینکرز ان کو مودب ہو کر سنتے ہیں اور سوال کرتے ڈرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ شہباز شریف کے ایسا کیونکر ممکن نہیں ہوسکا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ شہباز شریف ایک لیڈر کی طرح کم سوچتے ہیں۔ بلکہ ان کا المیہ ہی یہ ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر ہوتے ہوئے بھی خادم اعلیٰ پنجاب کی طرح سوچ رہے ہیں اور عمران خان کا المیہ یہ ہے کہ وہ وزیر اعظم ہونے کے باوجود کنٹینر کی سوچ سوچ رہے ہیں۔ شہباز شریف جب تک اپنے آپ کو اپوزیشن لیڈر نہیں مانیں گے تب تک ان سے اس عہدے سے انصاف نہیں ہو سکے گا۔ وہ اسی طرح بگٹٹ بھاگتے رہیں گے اور نہ جائے ماندن، نہ پائے رفتن کی عملی تصویر بنے رہیں گے، اگر یہ برمحل نہیں لگا تو کہہ لیجئے کہ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں!

دوسری جانب ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف نے شہباز شریف کو قسمت آزمائی کے لئے کھلا چھوڑدیا ہے اور چاہتے ہیں کہ شہباز شریف اپنے دل کے چاؤ پورے کرلیں۔ جب کہ شہباز شریف کا حال یہ ہے کہ عظمت رفتہ کو یاد کرکرکے اپنی اہمیت جتانے کی کوشش کر رہے ہیں اور لوگ ان پر ہنس رہے ہیں کہ اگر ان کو وزیر اعظم بننے کی ایسی پکی یقین دہانی کروائی گئی تھی تو پھر آخر کیاہوا کہ عین موقع پر آکر ٹٹ گئی تڑک کرکے!.....جب لوگ اس سوال کا جواب نہیں پاتے تو پھر نواز شریف کو کوسنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ ہی نہیں چاہتے ہیں کہ شہباز شریف اس جلیل القدر عہدے پر متمکن ہو سکیں۔ کچھ یار لوگ تو اب نواز شریف سے بڑھ کر مریم نواز کو کوستے نظر آتے ہیں کہ وہ ان کے راستے کی دیوار بنی ہوئی ہیں۔ ہم نہیں کہتے کہ یہ تاثر شہباز شریف کے کہنے پر پھیلایا جاتا ہے مگر لگتا یہی ہے کہ وہ اپنی سبکی مٹانے کے لئے الزام دائیں بائیں کھڑے لوگوں پر دھرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ جب وہ خادم اعلیٰ تھے تب بھی ان کی قیادت میں ہونے والی ساری خامیوں اور غلطیوں کی ذمہ دار بیوروکریسی ہوتی تھی اور ساری تعریف وہ اپنے حصے میں سمیٹنے کے عادی تھے۔ نواز شریف کی قیادت میں جتنے لوگ بطور وزیر بڑے سیاستدان بن کر ابھرے ہیں، شہباز شریف کی قیادت میں ایک بھی ایسا دانہ نظر نہیں آتا ہے۔ وہ ون مین آرمی کے طور پر کام کرنے کے عادی ہیں اور اکیلے ہی جیتنا اور اکیلے ہی ہارنا چاہتے ہیں۔

نیب نے شہباز شریف کی درگت بنائی ہوئی ہے، ان کو یوں بلاتی ہے جیسے ان کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ جبکہ مریم اورنگ زیب بیچاری ان کی اہمیت بنانے کے لئے سو سو طرح کے جتن کرتی نظر آتی ہیں مگر جب شیخ رشید ان کے کئے کرائے پر پانی پھیرتے ہیں تورانا ثناء اللہ کو میدان میں آنا پڑتا ہے۔ یہ گھن چکر کب تک چلتا رہے گا، شہباز شریف مریم نواز کو راستہ کیوں نہیں دیتے تاکہ نون لیگ اپنے ووٹ بینک کو متحرک کرے پی ٹی آئی حکومت کو چلتا کرے!

مزید :

رائے -کالم -