کرپشن اور ناقص کار کردگی، پنجاب پولیس میں احتساب کا عمل سخت کرنے کا فیصلہ

  کرپشن اور ناقص کار کردگی، پنجاب پولیس میں احتساب کا عمل سخت کرنے کا فیصلہ

  

 لاہو ر(لیاقت کھرل)محکمہ پولیس میں انٹرنل اکاونٹبیلٹی کا نظام سخت کردیا گیا ہے۔لاہورپولیس کے 4ایس پیز سمیت 13اضلاع کے ڈی پی اوز اورایس پیز سمیت ایس ایچ اوزکے خلاف شکنجہ تیار کرلیا گیا ہے۔لاہور پولیس کے40تھانوں کیایس ایچ اوزاورانچارج انوسٹی گیشنزکے خلاف بھی مبینہ کرپشن اورنااہلی کے الزامات پائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کو خفیہ ادارے کی جانب سے تیارکردہ رپورٹ میں بتایا گیاکے مزید13اضلاع کے ڈی پی اوزاورایس پیز سمیت ڈی ایس پی اورایس ایچ اوز عہد ہ کے پولیس افسران میں نااہلی اورناقص کارکردگی پائی گئی ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکرکیا گیا ہے کہ ناقص کارکرد گی اورنااہلی کا مظاہرہ دیکھانے والے پولیس افسران نے لاہورپولیس سرفہرست ہے جس میں لاہور پولیس کے 4ایس پیز،11ڈی ایس پیز اور 40تھانوں کے ایس ایچ اوزاور35تھانوں کے انچارج انوسٹی گیشنز بھی فہرست کا حصہ ہیں۔

جس میں کہا گیاہے کہ نااہلی اورناقص کارکردگی کا مظاہرہ دیکھانے والے ان پولیس افسران کی وجہ سے لاہورسمیت پنجاب کے متعدد اضلاع میں سنگین جرائم کی شرح میں کئی گناہ اضافہ ریکارڈ ہوا ہے جس میں لاہور میں ہر4گھنٹے بعد ڈکیتی اورراہزنی جیسی سنگین وارداتیں جبکہ ڈکیتی قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات نے لاہورپولیس سمیت پنجاب کے 13دیگر اضلاع میں پنجاب پولیس کی کارکردگی پرکاری ضرب لگائی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ قتل و غارت کے واقعات سمیت قبضہ گروپ کے عناصرکی سرگرمیوں میں 200فیصد تک اضافہ ہونے کا رپورٹ میں ذکرکیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اس میں لاہو رپولیس سمیت پنجاب کے دیگراضلاع میں فیصل آباداورگوجرانوالہ دوسرے نمبرپر جبکہ راوالپنڈی،مظفرگڑھ،لیہ،قصور،سیالکوٹ اورضلع وہاڑی کے ڈی پی اوزاورآر پی اوزکی ناقص کارکردگی کے باعث سنگین کرائم میں کئی گناہ اضافہ ہوا ہے جبکہ ان اضلاع کے ایڈیشنل ایس پیز سمیت ڈی ایس پیز او ر ایس ایچ اوز کی نااہلی اورناقص کا رکردگی کا بھی رپورٹ میں ذکرکیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہو رسمیت پنجاب کے ان اضلاع کے تھانوں میں ایس ایچ اوز نے مبینہ طورپر قبضہ گروپ سے تعلقات قائم کررکھے ہیں جبکہ ایس ایچ اوز نے تھانوں میں اپنی مرضی کے اہلکار تعنیات کروارکھے ہیں جوکہ یہ اہلکارتھانوں میں ”کارخاص“کہلانے کے ساتھ ساتھ مبینہ طورپر جرائم پیشہ افرادکی سرپرستی کرنے جیسے الزامات کابھی رپورٹ ذکرکیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نااہلی اورناقص کارکردگی کے حامل ڈی پی اوز اورایس پیز سمیت ایس ایچ اوز کے خلاف محکمانہ کاروائی اورایکشن لینے کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جارہا جس میں لاہورپولیس کے نااہل اورناقص کارکردگی کے ایس پیز،ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز سمیت انچارج انوسٹی گیشنز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد تیارہونے والی رپورٹ پر ایکشن لینے کے لیئے شکنجہ تیارکرلیا گیا ہے۔اس حوالے سے پنجاب پولیس کے ترجمان اورایڈیشنل آئی جی انعام غنی نے رابطہ کرنے پر بتایاکہ نااہل اورناقص کارکردگی والے ڈی پی اوز او ر دیگر پولیس افسران اوراہلکاروں کی محکمہ پولیس میں جگہ نہ ہے۔ محکمہ میں انٹرنل اکا?نٹبیلٹی کے نظام کو سخت کردیا گیا ہے۔ جس کے تحت روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی کی سخت مانیٹرنگ اور ناقص کا رکردگی کے حامل پولیس افسران کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جارہی ہے۔

مزید :

علاقائی -