حکومت نے کوروناپر نااہلی چھپانے کیلئے 18ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑا، پیپلزپارٹی

حکومت نے کوروناپر نااہلی چھپانے کیلئے 18ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑا، پیپلزپارٹی

  

لاہور(این این آئی) پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ آئین میں بہتری کیلئے ہر وقت ترامیم کی گنجائش رہتی ہے مگر صوبوں کے مالی اور انتظامی اختیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،وفاقی حکومت این ایف سی کے تحت پنجاب کو پورا حصہ جاری کرے تاکہ کورونا سے بہتر انداز سے نمٹا جا سکے،آج کل کورونا وائرس پر قومی اتفاق رائے نہ ہونے پر بحث جاری ہے اس کو قائم کرنا اپوزیشن کا نہیں حکومت کا کام تھا جس میں وہ مکمل طور پر ناکام رہی،وباء کے آغاز پر ہی بلاول بھٹو نے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے حکومت کو بھرپور تعاون کی پیشکش کی جس کا کوئی مثبت جواب نہ آیا،اگر ملک بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے حالات خراب ہوئے تو اس کے ذمہ دار وزیراعظم اور انکی کابینہ ہوگی۔دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے وہ ٹیکسسز کی وصولی میں اپنا ہدف پورا نہیں کرسکی،ترقیاتی،صحت، تعلیم اور فلاحی کاموں کے بجٹ پر کٹ لگا دیا گیا ہے۔18ویں ترمیم کا اصل فورم پارلیمنٹ ہے۔حکومت نے کورونا وائرس سے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے 18ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑا ہے۔سندھ حکومت نے 15دن کا مکمل لاک ڈاون کرنے کی تجویز دی وفاقی حکومت نہ مانی۔ آج کل سپریم کورٹ میڈیا سب کہہ رہے ہیں مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت تھی جو نہیں پیدا ہوسکی۔فیڈرل پول سے 16سو ارب بنتا تھا مگر اب تک 10سو 46ارب ملے مطلب پہلے ہی 1سو 55ارب کم ملا،مطلب شارٹ فال دیکھیں 212ارب کاٹیکسز کا ٹارگٹ تھا 9ماہ میں اس میں بھی شارٹ فال۔پھر دوسرے ٹیکسز میں 50فیصد تک کا شارٹ فال تھا۔وفاق اپنا ریوینیو پیدا نہیں کر پا رہا۔پولیس اور فوج کے جوان ناکوں پر ہیں انکو بھی کچھ دیں مگر آپ تو کسی کو کچھ نہیں دے رہے۔وفاقی حکومت سے مطالبہ ہے کہ پنجاب کو فی الفور ایکسٹرا پیسے اور گرانٹ دیں تاکہ صحت کی سہولیات کو بہتر کیا جا سکے کیونکہ انکے پاس پیسے نہیں ہیں۔دوسرا صوبوں کی کیپیسٹی بڑھائیں انکو انکا حصہ دیں۔چیف سیکریٹری بدل دینے سے یا آئی جی کے خلاف بات کرنے سے بہتری نہیں آئیگی۔ہم اپنے تاجر کے خلاف کیوں جائینگے ہم نے پہلے کہا تھا کہ سخت لاک ڈان 15دن کے لئے کر لیا جاتا تو حالات قابو میں آ جاتی۔ہم چاہتے ہیں کہ نیب کے قانون کو ٹھیک ہونا چاہئے اور بلا امتیاز کارروائی کرے اور کسی کا آلا کار نا بنے غلط استعمال نا ہو۔لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے استعمال نا کیا جائے۔ترمیم اب اٹھارویں ترمیم میں نہیں آئین میں ہونی ہے مگر یہ بہت سنجیدہ اور نازک کام ہے۔

پیپلزپارٹی

مزید :

صفحہ آخر -