تحریک انصاف کراچی کا سندھ حکومت سے 8مئی تک کاروبار کھولنے کا مطالبہ

تحریک انصاف کراچی کا سندھ حکومت سے 8مئی تک کاروبار کھولنے کا مطالبہ

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)آل سٹی تاجر اتحاد کے رہنماوں کے وفد کی شرجیل گوپلانی کی قیادت میں پی ٹی آئی رہنماوں سے پارٹی سیکریٹریٹ انصاف ہاوس میں ملاقات کی۔تاجر برادری کے وفد میں شاہد حسین،احمد شمسی، دلشاد بخاری، حسیب اخلاق، زبیر علی خان اور دیگر شامل تھے۔ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ ہم کراچی کے بیٹے ہیں اور کراچی کی نمائندگی کررہے ہیں۔کراچی پورے ملک کو چلا رہا ہے۔تاجروں نے اب سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کردیے ہیں۔وزیر اعظم دیہاڑی دار طبقے اور تاجروں کا سوچ رہے ہیں۔لیکن سندھ میں ایک ہٹ دہرمی قائم ہے۔آج تاجروں نے وزیر اعظم کے لیے ہمیں اپنے مطالبات پیش کیے ہیں۔ہم وزیر اعظم تک کراچی کے تاجروں کی آواز پہچائیں گے۔کراچی کا گلہ دبوچہ جارہا ہے۔اس موقع پر پی ٹی آئی کراچی کے سینئر نائب صدر محمود مولوی، جنرل سیکریٹری سعید آفریدی، سیکریٹری اطلاعات جمال صدیقی، نائب صدر کیپٹن (ر) رضوان، رکن سندھ اسمبلی شہزاد قریشی، صدر پی ٹی آئی کراچی کے مشیر عمران صدیقی، توقیر احمد اور دیگر موجود تھے۔ خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم اسی ہفتے کے آخر کراچی پہنچ رہے ہیں۔ان حالات میں ہم نے اپنی بزنس کمیونٹی کو سپورٹ کرنا ہے۔سارا غریب طبقہ بزنس کمیونٹی سے جڑا ہوا ہے۔بل گیٹس نے بھی وزیر اعظم کے احساس پروگرام کو سراہا ہے۔وزیر اعظم سے تاجروں کی ملاقات ممکن ہے۔ابھی تک سندھ حکومت صرف ایس او پیز بنانے میں مصروف ہے۔تاجر برادری ایس او پی میں سندھ حکومت کی مدد کرنے کو تیار ہے۔اگر وزراء اور مشیر ناکام ہوچکے ہیں تو تاجر اور ہم مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔اگر تاجر کچھ روز میں کاروبار کھولیں گے تو ہم ان کے ساتھ ہونگے۔اگر ان کی گرفتاری ہوئی تو پہلے ایف آئی آر ہمارے خلاف ہوگی۔سندھ حکومت کا لاک ڈاؤن صرف سیاسی لاک ڈاؤن ہے۔ڈاکٹر فرقان جیسے لوگ سندھ حکومت کی نااہلی سے شہید ہوگئے۔اگر ایس او پی نہیں بنائی گئی تو ہم خد ایس او پی بنائیں گے۔سندھ حکومت تو صرف نوٹیفکیشن پر چل رہی ہے۔تمام ایسوسی ایشنز کو یقین دلاتے ہیں تحریک انصاف ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ہمیں اس وقت کراچی کو بچانے کی ضرورت ہے۔بلاول زرداری سن لیں ہمیں یہ سیاسی لاک ڈاؤن قبول نہیں۔سعید غنی اور وزراء بلاول اور مراد علی شاہ کے چمچے ہیں۔انہوں نے کچھ دینا نہیں بلکہ اپنے آقاؤں کی غلامی کرنا ہے۔12 سال میں آخر کون سا تیر مارا ہے انہوں نے۔آڈیٹر جنرل ان پر کتاب چھاپتا جارہا ہے۔خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ سندھ حکومت 8تاریخ تک ہر صورت کاروباری ایس او پیز کا اعلان کرے۔9تاریخ کو کاروباری رہنماوں کی اپنی ایس او پیز پر ہم ان کے ساتھ کھڑے ہونگے۔پریس کانفرنس میں تاجر رہنماء شرجیل گوپلانی کا کہنا تھا کہ ہم ایک امید کے سہارے جی رہے ہیں۔ہم ایک ماہ سے چیخ رہے ہیں۔ہم نے سندھ حکومت کے حکم پر کاروبار بند کردیا۔ہماری فیملیز ڈیڑھ ماہ سے پابند سلاسل ہیں۔سندھ حکومت اس وباء پر قابو نہیں پا سکتی۔15 تاریخ ہماری آخری ڈیڈلائین ہے پھر ہم کاروبار کھولیں گے۔ہم حکومتی ایس او پی کو فالو کرنے کے لیے تیار ہیں۔ہمارے دکانداروں کو اٹھایا گیا۔آج میں وزیراعظم کے دروازے پر آئے ہیں۔ہم نے آج اپنا پیغام وزیراعظم تک پہچایا ہے۔اس وقت ہمارے گھروں میں فاقے پڑ چکے ہیں۔ہم سندھ حکومت سے تعاون کریں گے۔15 تاریخ کے بعد ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -