انسداد کورونا ویکسین کی تیاری کیلئے عالمی رہنماؤں کا آٹھ ارب ڈالر دینے کا اعلان

انسداد کورونا ویکسین کی تیاری کیلئے عالمی رہنماؤں کا آٹھ ارب ڈالر دینے کا ...

  

برسلز(این این آئی) عالمی رہنماؤں، معروف شخصیات اور مخیر حضرات نے کورونا وائرس ویکسین، علاج اور ٹسیٹنگ کی تحقیق کیلئے 7 ارب 40 کروڑ یورو (8 ارب 10 کروڑ ڈالر) دینے کا وعدہ کیا ہے،دنیا کے تقریباً 40 ممالک کے علاوہ اقوامِ متحدہ، تحقیقاتی اور خیراتی اداروں بشمول بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے عطیات کے وعدے کیے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ عزم یورپی یونین کی جانب سے منعقدہ ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران کیا گیا جس میں امریکا نے شرکت نہیں کی۔کانفرنس کی میزبان اور یورپی کمیشن کی سربراہ نے کہا کہ کووڈ 19 کو شکست دینے کا بہترین طریقہ ویکسین ہے۔کینیڈااور جاپان کے ساتھ ساتھ بڑی یورپی طاقتوں نے بڑے وعدے کیے لیکن امریکی نمائندگی کی عدم موجودگی سے ویکسین ایجاد کرنے اور تیار کرنے کے حوالے سے غیر منظم مسابقت کا امکان ظاہر ہوا۔تاہم کچھ دولت مند امریکیوں نے کانفرنس میں شرکت کی، جس میں پاپ سٹار میڈونا کی جانب سے یورپی حکام 10 لاکھ ڈالر حاصل کرسکیں گے۔کانفرنس کا ہدف 7 ارب 50 کروڑ یورو تھا جو چند شراکت داروں کی جانب سے فنڈ کے وعدے نہ کرنے کی وجہ سے پورا ہونے سے رہ گیا البتہ اقومِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ مزید ضرورت پڑے گی اور یہ درکار رقم 38 ارب یورو تک ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ فنڈز نئے آلات کی تیاری کیلئے ایک قسم کے بیعانے کی ادائیگی ہے لیکن ہر جگہ ہر کسی تک پہنچنے کیلئے ہمیں اس کی 5 گنا رقم درکار ہوگی۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے فنڈ اکٹھے کرنے کو عالمی یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ قرار دیتے ہوئے سراہا۔دنیا کے تقریباً 40 ممالک کے علاوہ، اقوامِ متحدہ، تحقیقاتی اور خیراتی اداروں بشمول بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے عطیات کے وعدے کیے۔تاہم یہ منصوبہ امریکا کی عدم موجودگی کی وجہ سے مجروح ہوا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وبا کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس پر یورپی حکام نے نجی طور پر مایوسی کا اظہار بھی کیا۔علاوہ ازیں ایک سینئر امریکی عہدیدار نے ٹیلی تھون کا خیر مقدم کیا لیکن اس بات پر اصرار کیا کہ بہت سی تنظیمیں جنہوں نے فنڈز کے وعدے کیے انہیں پہلے امریکا کی خاطر خواہ حمایت حاصل ہے۔ان سے جب زور دے کر پوچھا گیا کہ امریکہ نے اس میں شرکت سے گریز کیوں کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یورپی یونین کا ایونٹ اس قسم کی بہت سی کوششوں میں سے ایک ہے اور واشنگٹن ان بین الاقوامی کوششوں میں سب سے پہلے ہے۔

انسدادکورونا ویکسین

مزید :

صفحہ اول -