وفاقی کابینہ، لاک ڈاؤن میں نرمی کی تجویز منظور، حتمی فیصلہ آج نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں ہوگا، چاہتا ہوں کاروبار جلد کھل جائیں مگر ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، عمران خان کورونا وائرس سے مزید 28افرا د جاں بحق، 611نئے کیسز سامنے آگئے

    وفاقی کابینہ، لاک ڈاؤن میں نرمی کی تجویز منظور، حتمی فیصلہ آج نیشنل کمانڈ ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی منظوری دے دی گئی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں لاک ڈاؤن میں نرمی یا ختم کرنے پر حتمی مشاورت ہوئی، وفاقی کابینہ نے ملکی معاشی و سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا۔کابینہ اجلاس میں احساس پروگرام کے تحت ریلیف پیکج میں پیشرفت کاجائزہ لیا گیا جبکہ چھوٹا کاروبار کے تحت صنعتی، کمرشل بجلی کے کنکشنز میں رعایت پر بات ہوئی،وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 9 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، جس کے بعد وفاقی کابینہ نے لاک ڈاؤن میں نرمی سمیت ایجنڈے میں شامل متعدد نکات کی منظوری دے دی۔اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی کرنسی نوٹوں پروارنش کوٹنگ ختم کرنے کی تجویز مسترد کردی گئی، کابینہ کو عارضی طور پر وارنش کوٹنگ ختم کرنیکی سمری بھیجی گئی تھی جبکہ کابینہ نے واپڈا ممبرفنانس کی تعیناتی میں توسیع کی بھی منظوری دے دی۔ وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ گھر میں بیٹھ کر جیت سکتے ہیں، لاک ڈاؤن میں اگرنرمی ہوئی تو ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، اگر عوام نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑا تو نقصان ہوگا، انڈسٹری اور کاروبار کھولنے والوں کو ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا،پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ باقی شعبوں کو مرحلہ وار کھولا جائے گا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی یا مکمل ختم کرنے پر حتمی مشاورت مکمل کرلی گئی ہے اور ارکان نے لاک ڈاؤن نرم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کے ارکان کی اکثریت نے لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعظم کے مؤقف سے اتفاق کیا جبکہ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ چاہتا ہوں لاک ڈاؤن جلد ختم ہو تاہم احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، کاروبارتو کھل جائیں گے لیکن طے کردہ ضابطہ کار پر عملدرآمد بھی کرانا ہوگا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک بھر میں ٹرین سروس شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا تاہم لاک ڈاؤن میں نرمی، ٹرانسپورٹ، ریلوے سے متعلق حتمی فیصلہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے (آج) بدھ کو ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔ کابینہ نے بھارت سے 429 ضروری ادویات درآمد کرنے کی تجویز مسترد کردی جبکہ اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کشمیرمیں بھارت مظالم ڈھارہا ہے لہٰذا ایسے ملک سے تجارت نہیں ہوسکتی۔ذ کابینہ نے اپنے گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں پرعملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ نے دو ماہ تک بغیر وارنشنگ کے نوٹ چھاپنے کیلئے سمری مؤخر کردی اور ارکان نے رائے دی کہ بغیر وارنشنگ کے لگے گا کہ جعلی نوٹ چھاپے گئے ہیں۔کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں وزراء نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کورونا ریلیف فنڈ میں دینے کا فیصلہ کیا۔شبلی فراز نے بتایا کہ گزشتہ حکومت میں 76 افراد کی غیر قانونی بھرتی کی گئی، وزیراعظم نے کرمنل جسٹس سسٹم سے متعلق اصلاحات کو مکمل کرنے، تھانوں کے ماحول کو بہتر اور عوام دوست بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں ملک میں تیار ہینڈ سینیٹائیزرز کو برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے، آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے بدھ کو این سی او سی کا اجلاس ہوگا جس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شرکت کریں گے، اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی سے متعلق وزرائے اعلیٰ سے رائے لی جائے گی۔شبلی فراز نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ گھر میں بیٹھ کر جیت سکتے ہیں، لاک ڈاؤن میں اگرنرمی ہوئی تو ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، اگر عوام نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑا تو نقصان ہوگا، انڈسٹری اور کاروبار کھولنے والوں کو ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا،دیگر ممالک میں لاک ڈاؤن میں نرمی ایس او پیز کے تحت کیا گیا ہے۔وزیراطلاعات نے بتایاکہ کابینہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات کے حوالے سے غور کیا گیا،وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ الیکشن کا عمل شفاف ہو۔وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے اجلاس میں تمام وزراء کی تجاویز سنی،وزیراعظم سب کو آن بورڈ لے کر فیصلے کرتے ہیں۔ شبلی فراز نے کہاکہ کابینہ اجلاس میں امین الحق کو خوش آمدید کہا گیا۔ اسد عمر نے کوونا وائرس کے حوالے سے اجلاس کو بریفیگ دی۔ انہوں نے کہاکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ باقی شعبوں کو مرحلہ وار کھولا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر کابینہ ڈویژن میں تعیناتیوں کے حوالے سے تمام وزارتوں سے درخواست کی تھی کہ منظوری کے بغیر پچھلی حکومتوں میں جو تعیناتیاں ہوئی ہیں ان کی تفصیل پیش کی جائے جس پر چھ سات ڈویژن نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بقیہ ڈویژن کو اس سلسلے میں وقت دیا گیا تھا اور انہوں نے اپنی جو رپورٹ پیش کی اس میں 76افراد کو غیرقانونی طور پر بھرتی کیا گیا تھا۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ جو بھی فیصلے کرتی ہے تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس پر کس حد تک عمل کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں عملدرآمد رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں بتایا کہ کابینہ نے 1376 فیصلے کیے گئے تھے جس میں سے 86فیصد چیزوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ 7فیصد یعنی 114 پر عملدرآمد جاری ہے۔شبلی فراز نے بتایا کہ کابینہ میں سالہا سال تک عدالتوں میں چلنے والے مقدمات پر بھی اظہار خیال کیا گیا اور وزیر قانون فروغ نسیم کو کہا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں آئندہ چھ ماہ میں اصلاحات پیش کریں۔انہوں نے کہا کہ بھارت سے درآمدات پر پابندی کے حوالے سے بھی معاملات زیر غور آئے کیونکہ بھارت سے کشیدگی کے سبب ہر طرح کی برآمدات پر پابندی عائد کردی گئی تھی اور صرف جان بچانے والی ادویہ کی درآمدات کی اجازت دی گئی تھی۔شبلی فراز نے بتایا کہ وزیر اعظم نے درآمد کی جانے والی ادویہ کی تفصیل منگوائی اور ہدایت کی کہ لگائی گئی پابندی کی کسی بھی صورت خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہاہے کہ ن لیگ کی قیادت خود کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہے،نواز شریف لند ن میں اربوں مالیت کے گھر میں آرام سے رہ رہے ہیں،شہباز شریف نے لیپ ٹاپ پر کام کرنا تھا تو وہ لندن سے بھی کر سکتے تھے،لاڑکانہ اور سندھ کی حالت آج سے 50 سال پہلے بہتر تھی جو آج ہے،ایسے لگتا ہے پیپلز پارٹی صوبے سے صرف لاڑکانہ تک محدود ہو جائیگی،وزیراعظم لاک ڈاؤن کے حوالے سے بہت واضح ہیں،مکمل لاک ڈاؤن کردیں تو غریب کو روزگار کیسے ملے گا،ہم جمہوری ملک ہیں، ڈنڈا لے کر عملدرامد پر مجبور نہیں کرسکتے،صرف احتیاط کر کے کورونا کے خلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے ملک میں تیار شدہ ہینڈ سینیٹائزر کی برآمد کی اجازت دی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ کابینہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات کے حوالے سے غور کیا گیا،وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ الیکشن کا عمل شفاف ہو۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے ترجمان مختلف پریس کانفرنسز کر رہے ہیں اور بیانات دے رہے ہیں،اپوزیشن کرونا پر بھی سیاست کرنا چاہتی ہے،مریم اورنگزیب نے ایسا تاثر دیا جیسے بہت شریف اور ایماندار شخص کی پگڑی اچھا لی گئی ہے،شہبازشریف کو نیب نے بلایا ہے تو وہ قانون کا ادارہ ہے،بلائے جانے پر ہتک محسوس ہوتی ہے تو اپنے دور حکومت میں وہ چیزیں نہ کرتے جو کیں،ان کا مائنڈ سیٹ جمہوریت نہیں بادشاہت والا ہے،پورا پاکستان جانتا ہے کہ انہوں نے عوام کی دولت کو لوٹا اور بیرون ملک اثاثے بنائے۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف اربوں مالیت کے فلیٹس میں آرام سے رہ رہے ہیں،شہبازشریف کمپیوٹر پر مانیٹرنگ کے لیے پاکستان آئے،پاکستان کے عوام نے فیصلہ کرلیا ہے کہ انہیں پرانا پاکستان نہیں چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے دوست اور وزیر بہت پریس کانفرنسز کر رہے ہیں،ہم تو تین نشستوں پر کھڑے ہیں لیکن سعید غنی بتائیں پیپلزپارٹی ایک صوبے تک کیسے محدود ہوگئی؟روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر اسی سے عوام کو محروم کیا گیا،پیپلزپارٹی صرف لاڑکانہ تک محدود ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کی جانب سے یہ تاثر نہ دیا جائے کہ کورونا میں غریب سے نہیں اقتدار سے دلچسپی رکھتے ہیں۔دوسری طرف پنجاب حکومت نے عوام کی سہولت کیلئے رواں ماہ کی 9 تاریخ (نو مئی) سے صوبے بھر میں جاری لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کا فیصلہ کر لیا ہے۔یہ اہم فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اب پائپ، سٹیلز، سپیئر پارٹس، مشینری اور بجلی کے سامان کی دکانیں کھولنے کی اجازت ہوگی۔اس کے علاوہ حکومت نے ٹیکسٹائل انڈسٹری، کنسٹریکشن انڈسٹری اور گلاس مینوفیچکرز کی دکانیں بھی کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمام دکانیں مقررہ وقت پر کھولی جائیں گی، جس کے لئے وقت مختص ہوگا۔پنجاب حکومت نے صوبے میں کپڑے کی دکانیں بھی 15 رمضان سے 6 گھنٹے کے لئے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے علاوہ عوام کو پارکوں میں بھی جانے کی اجازت ہوگی تاہم جھولے وغیرہ بند رہیں گے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جس شعبے کو بھی کھولا جائے گا، اس کے لئے پہلے ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا ضروری ہوگا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے 8 مئی کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔ادھر بلوچستان حکومت نے لاک ڈاؤن میں 19 مئی تک توسیع کر دی ہے۔ لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ پابندیاں بڑھانے کا فیصلہ عوام کے تحفظ کیلئے کیا، مزید وینٹی لیٹرز کیلئے این ڈی ایم اے کو درخواست کر دی۔حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ کورونا پھیلے گا، کوئٹہ میں 4 ہزار بیڈ کا قرنطینہ بن رہا ہے، لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلے بچاؤ کا بہتر ذریعہ ہے، لاک ڈاؤن کو ختم یا کم کرنے کا فیصلہ لاک ڈاؤن کے پھیلاؤ پر منحصر ہے اور بلوچستان میں کورونا کے پھیلاؤ کا تناسب 88 فیصد ہے، صرف 15 فیصد لوگ محفوظ ہیں جو تشویشناک بات ہے۔لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا دوسرے مرحلے میں اب آٹو ورکشاپ اور پنچر کی دکانوں کو ریلف دیا گیا ہے، لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد ہوگا، عوام لاک ڈاؤن کا خاتمہ چاہتے ہیں تو گھروں میں رہیں، اگر عوام نے تعاون نہ کیا تو حکومت سختی پر مجبور ہوگی، کورونا کی ویکسین ایجاد ہونے تک لاک ڈاؤن ہی حل ہے، عوام 19مئی تک تعاون کریں۔

لاک ڈاؤن نرمی

اسلام آباد،کراچی، پشاور، لاہور (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)کورونا وائرس سے ملک بھر میں مزید 28 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 785 نئے کیسز بھی سامنے آئیکورونا سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 514 ہوگئی جبکہ نئے کیسز سامنے آنے سے مصدقہ مریضوں کی تعداد 22237 تک جاپہنچی ہے۔ملک بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 514 ہوگئی۔اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 194 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ سندھ میں 148 اور پنجاب میں 144 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 21، اسلام آباد 4 اور گلگت بلتستان میں 3 افراد مہلک وائرس کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بروز منگل ملک بھر سے کورونا کے مزید 611 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 28 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جن میں سندھ سے 307 کیسز 11 ہلاکتیں، پنجاب 30 کیسز 8 ہلاکتیں، خیبر پختونخوا میں 211 کیسز اور 9 ہلاکتیں، اسلام آباد سے 49 کیسز اور گلگت بلتستان سے 14 کیسز سامنے آئے ہیں۔سندھ سے کورونا وائرس کے مزید 307 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 11 ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کی۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ ہم نے 24 گھنٹوں میں 2250 ٹیسٹ کیے جس میں 307 نئے کیسز سامنے ا?ئے اور 11 ہلاکتیں بھی ہوئیں جس کے بعد صوبے میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 8189 اور ہلاکتیں 148 ہوگئی ہیں۔وزیراعلیٰ کے مطابق مزید 42 افراد صحتیاب ہوکر گھروں کو چلے گئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 1674 ہوگئی ہے۔پنجاب میں کورونا کے مزید 30 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 8 ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں جس کی تصدیق ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نیکی۔ترجمان کے مطابق صوبے میں کورونا کیکیسز کی مجموعی تعداد 8133 اور ہلاکتیں 144 تک جا پہنچی ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ 768 زائرین، 1926 رائے ونڈ سے منسلک افراد، 86 قیدی اور 5357 عام شہری کورونا وائرس میں مبتلا ہیں۔پنجاب میں کورونا سے اب تک 2716 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں کورونا وائرس کے مزید 49 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔خیبر پختونخوا میں منگل کو کورونا سے مزید 9 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 194 تک جاپہنچی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں مزید 211 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3499 ہوگئی ہے۔محکمہ صحت نے بتایاکہ صوبے میں اب تک کورونا سے 875 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔بلوچستان میں پیر کو مزید 103 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 1321 ہوگئی۔صوبے میں اب تک 21 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 197 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔گلگت بلتستان میں منگل کو مزید 14 کیسز کی تصدیق ہوئی جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 386 تک پہنچ گئی۔

پاکستان ہلاکتیں

واشنگٹن،لندن،روم، میڈرڈ،بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پوری دنیا میں نوول کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد35لاکھ84ہزار118تک پہنچ گئی ہے۔ امریکہ 11 لاکھ 80ہزار 634مصدقہ کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے، سپین 2لاکھ18ہزار11مصدقہ کیسز کے ساتھ دوسرے جبکہ اٹلی 2لاکھ11ہزار938مصدقہ کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔برطانیہ میں 1لاکھ91ہزار832مصدقہ کیسز ہیں، فرانس میں مصدقہ کیسز کی تعداد1لاکھ69ہزار583 جبکہ جرمنی میں 1لاکھ66ہزار152ہوگئی ہے،روس میں 1لاکھ 45ہزار268 مصدقہ کیسز ہیں۔اٹلی کی حکومت نے 4 مئی سے کم از کم 45 لاکھ مزدوروں اور ملازمین کو کام پر واپس جانے کی اجازت دے دی گئی، تعلیمی، تفریحی و مذہبی مقامات کو بند رکھا گیا ہے جب کہ کسی بھی جگہ مجمع لگانے کی اجازت نہیں ہے،سپین نے بھی لوگوں کو ٹہلنے اور ورزش کے لیے باہر نکلنے کی اجازت بھی دے دی گئی،سپین میں فیس ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا، دونوں ممالک میں محدود پیمانے پر سخت حفاظتی اقدامات کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی نے کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں میں مزید کمی ہونے کے بعد 4 مئی کو لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کردی۔اٹلی کی حکومت نے 4 مئی سے کم از کم 45 لاکھ مزدوروں اور ملازمین کو کام پر واپس جانے کی اجازت دی اور گزشتہ ڈھائی ماہ میں پہلی بار بیک وقت اتنی بڑی تعداد میں ملازمین کام کے لیے نکلے۔اٹلی میں 5 مئی تک کورونا وائرس سے امریکا کے بعد سب سے زیادہ 29 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی تھیں اور 3 مئی کو بھی وہاں 170 کے قریب ہلاکتیں ہوئیں، تاہم اس باوجود حکومت نے 4 مئی کو لاک ڈاؤن کو نرم کرتے ہوئے جہاں ملازمین و مزدوروں کو کام پر جانے کی اجازت دی، وہیں حکومت نے دیگر سختیوں میں بھی نرمیاں کردیں۔محدود پیمانے پر پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی چلانے کی اجازت دے دی گئی، تاہم اب بھی وہاں پر تعلیمی، تفریحی و مذہبی مقامات کو بند رکھا گیا ہے، جب کہ کسی بھی جگہ مجمع لگانے کی اجازت نہیں ہے۔کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دوسرے ملک اسپین نے بھی اگرچہ اپریل کے وسط میں کیسز اور اموات میں کمی کے بعد لاک ڈاؤن کو نرم کردیا تھا، تاہم اب وہاں بھی مزید نرمیاں کردی گئیں۔برطانوی نشریاتی دارے بی بی سی کے مطابق اسپین میں بھی 4 مئی کو لاک ڈان میں مزید نرمی کرتے ہوئے لوگوں کو ٹہلنے اور ورزش کے لیے باہر نکلنے کی اجازت بھی دے دی گئی اور پہلے ہی دن سڑکوں پر لوگوں کا رش دیکھا گیا۔سپین میں فیس ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا جب کہ محدود پیمانے پر سخت حفاظتی اقدامات کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی چلانے کی اجازت دے دی گئی۔اسپین میں گزشتہ ہفتے ڈیڑھ ماہ بعد پہلی بار بچوں کو کھیلنے اور باہر نکلنے کی اجازت دی گئی اور اس سے قبل ہی اپریل کے وسط میں 40 لاکھ سے زائد مزدوروں اور ملازمین کو کام پر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔امریکا میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں 70 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 12لاکھ 12ہزار 900 ہو چکی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کورونا وائرس سے امریکا میں اب تک 69 ہزار 921 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں، جبکہ اسپتالوں میں 9 لاکھ 54 ہزار 911 کورونا مریض اب بھی زیرِ علاج ہیں۔زیرِ علاج مریضوں میں سے 16 ہزار 50 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 1 لاکھ 88 ہزار 68 کورونا مریض اب تک شفایاب ہو چکے ہیں۔مزید 289 امریکی فوجیوں میں کورونا وائرس کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد کورونا سے متاثرہ امریکی فوجیوں کی تعداد 7ہزار 434 ہو گئی۔ریاست نیویارک میں 3لاکھ 27ہزار 374افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہیں جبکہ یہاں 25 ہزار کورونا کے مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔ریاست نیوجرسی میں 1 لاکھ 29 ہزار 345، میسا چوسٹس میں 69 ہزار 87، الی نوائے میں 63 ہزار 840، کیلی فورنیا میں 56 ہزار 112 اور پنسلوانیا میں 52 ہزار 922کورونا مریض سامنے آچکے ہیں۔امریکا میں اب تک 74 لاکھ 62 ہزار افراد کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں، جن میں سب سے زیادہ ٹیسٹ نیویارک میں کیے گئے ہیں جن کی تعداد 10 لاکھ 7ہزار ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس سے امریکا بھر میں ایک لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔ کرونا کی وبا اب تک دنیا بھر میں 2.5 لاکھ سے زیادہ جانوں کو نگل چکی ہے۔ ان میں 85% سے زیادہ اموات یورپ اور امریکا میں ہوئیں۔ یہ بات فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتائی۔ اب تک دنیا بھر میں کرونا کے 3570093 تصدیق شدہ کیس سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں 250203 افراد موت کی نیند سو چکے ہیں۔کرونا کے سبب مرنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں سرفہرست امریکا (68689)اموات ہے۔ دوسرے نمبر پر اطالیہ (29079)اموات، اس کے بعد برطانیہ (28734)اموات، اس کے بعد ہسپانیہ (25428 اموات)اور اس کے بعد فرانس (25201 اموات)کا نمبر ہے۔براعظموں کے لحاظ سے سب سے زیادہ اموات یورپ میں واقع ہوئی ہیں۔ یہاں اس مہلک وبا نے 140023 افراد کی زندگیوں کا چراغ بجھا دیاسعودی عرب نے دارالحکومت الریاض میں قائم قومی صحت ہنگامی آپریشنز مرکز کو کرونا وائرس کی وبا کے خلاف جنگ میں ایک کمان اور کنٹرول روم میں تبدیل کردیا ہے اور کرونا کے تعلق سے تمام معاملات وہیں سے کنٹرول کیے جاتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ مرکز سعودی وزارت صحت کے ڈیزاسٹر اور کرائسس مینجمنٹ کے آپریشنز کو وضع کرنے اور ان پر عمل درآمد کا ذمے دار ہے۔اس آپریشنز مرکز کے ملازمین ہنگامی فون کالز موصول کرتے ہیں،کیسوں کو مانیٹر کرتے ہیں، مجوزہ کیسوں کی پیروی کرتے ہیں اور انھیں دیکھتے ہیں کہ ان میں مزیدکیا پیش رفت ہورہی ہے۔بھارت میں کورونا وائرس کا قہر جاری ہے، پچھلے 24 گھنٹوں میں تقریباً چار ہزار نئے کیسز سامنے آئے جب کہ 195افراد لقمہ اجل بن گئے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی وزارت صحت نے کہاکہ کووڈ انیس سے اب تک 1568 لوگوں کی موت ہوچکی ہے اور مصدقہ مریضوں کی تعداد 46437 ہوگئی ہے، جبکہ پچھلے 24 گھنٹے میں کورونا کے 3900 نئے کیسز سامنے آئے اور 195 لوگوں کی موت ہوگئی۔ متاثرین اور اموات دونوں ہی لحاظ سے ایک دن میں یہ اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ حالانکہ تھوڑی راحت کی بات یہ ہے کہ اب تک 12727 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ادھرنوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات ابھیجیت بنرجی نے بھارت کو مشورہ دیا کہ کورونا وائرس کی مار سے غریب عوام کو فوری راحت دینے کے لیے ان کے ہاتھوں میں پیسے دیے جائیں اور بھارت اس سلسلے میں امریکہ سے سبق لے سکتا ہے۔

عالمی ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -