ذخیرہ اندوزی کے آرڈیننس کا غلط استعمال نہ کیا جائے: لاہور چیمبر

  ذخیرہ اندوزی کے آرڈیننس کا غلط استعمال نہ کیا جائے: لاہور چیمبر

  

لاہور(کامرس ڈیسک) حکومت یہ بات یقینی بنائے کہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف آرڈیننس کاروباری برادری کے خلاف حربے کے طور پر استعمال نہ ہو۔ جواب میں کاروباری برادری یہ یقینی بنائے گی کہ کوئی چاول، اشیائے خورد و نوش اور دیگر اجناس کی مصنوعی قلت پیدا نہ کرے۔ ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ، سینئر نائب صدر علی حسام اصغر، نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد،، چیئرمین رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان شاہ جہان ملک، چیئرمین سیڈ ایسوسی ایشن آف پاکستان چودھری بلال احمد، رانا سلمان احمد، صدر ایشیا پیسیفک سیڈ ایسوسی ایشن طاہر سلیمی، چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن چودھری محمد فرقان، پیر سید ناظم حسین شاہ اور دیگر لاج سکیل سیکٹرز کے نمائندوں نے لاہور چیمبر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ذخیرہ اندوزی اور ضروری سٹاک کے درمیان فرق کی واضح تشریح کرے بصورت دیگر حال ہی میں جاری کردہ آرڈیننس کے غلط استعمال کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹریز، ہول سیلرز، ڈیلرز، ریٹیلرز کے لیے ضروری اشیاء کا مناسب سٹاک رکھنا بہت ضروری ہے، مثال کے طور پر اگر بیج سٹاک نہیں کیا جائے گا تو فصلیں کیسے بوئی جاسکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیڈ کمپنیوں کو بیسک اور تصدیق شدہ بیج گندم خریدنے کی اجازت نہیں، محکمہ خوراک پنجاب اور سندھ کے زمینداروں سے تصدیق شدہ بیج بھی کھانے کی گندم کے طور پر زبردستی خرید رہا ہے، اگر بیج نہیں رکھا جائے گا تو اگلے سال گندم کی فصل کیسے لگے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیر خوراک کے واضح احکامات کے باوجود محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کے حکام نے اب تک پرائیویٹ کمپنیوں کو بیج گندم اٹھانے کی اجازت نہیں دی، الٹا زمینداروں کو ہورڈنگ آرڈیننس کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جبکہ نہ تو ہورڈنگ آرڈینس میں کسی سیڈ کی ممانعت ہے اور نہ ہی سیڈ ایکٹ میں کسی پرمٹ کا ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر نے آرڈیننس کے اجرا سے قبل حکومت پر زور دیا تھا کہ اسے نافذ کرنے سے پہلے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر مشاورت کرے تاکہ اس میں ضروری تصحیح کی جاسکے مگر یہ آرڈیننس نافذ کردیا گیا ہے۔ آرڈیننس کا غلط استعمال روکنے کے لیے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مکمل اور جامع مشاورت ضروری ہے تاکہ ضروری سٹاک اور ناجائز ذخیرہ اندوزی کی تشریح کرکے فرق واضح کیا جاسکے وگرنہ کاروباری برادری کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کے لیے بیج جبکہ دیگر بہت سی انڈسٹریز اور اجناس کے لیے کم از کم چار جگہ یعنی فیکٹری، ڈیلر، ہول سیلر اور دکاندار کے پاس ضروریات کے مطابق سٹاک رکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ سپلائی چین برقرار رہے اور مارکیٹ میں اشیائے ضرورت کی قلت نہ ہونے پائے۔ ناجائز ذخیرہ اندوزی کا مطلب یہ ہے کہ اجناس یا مصنوعات مارکیٹ میں نہ ہوں اور گوداموں میں موجود ہوں۔

مگر بدقسمتی سے ماضی میں کسی حکومت نے سٹاک اور ناجائز ذخیرہ اندوزی کی تشریح نہیں کی، جلد بازی میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے کاروباری برادری کو شدید نقصان ہوا۔ اگر آرڈیننس کی آڑ میں ایسے واقعات رونما ہوئے اور صوابدیدی اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا تو کاروباری شعبہ مزید بحران سے دوچار ہوجائے گا۔

مزید :

کامرس -