حضرت خدیجہ ؓ کی حیات مبارکہ مسلم خواتین کیلئے قابل تقلید نمونہ، شہناز فیض، فرحت بزدار

      حضرت خدیجہ ؓ کی حیات مبارکہ مسلم خواتین کیلئے قابل تقلید نمونہ، شہناز ...

  

ڈیرہ غازیخان (ڈسٹرکٹ بیورو رپورٹ،سٹی رپورٹر):حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی ضلعی ناظمہ ڈیرہ شہناز فیض،تحصیل ناظمہ(بقیہ نمبر46صفحہ6پر)

فرحت بزدار، میونسپل کارپوریشن کی ناظمہ شکیلہ عثمان نے 10 رمضان المبارک کو یوم وفات حضرت خدیجہ رضہ اور یوم باب الاسلام کے حوالے سے جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ '' مسلمان خواتین کے لیے حضرت خدیجہ ؓ اور نوجوانوں کے لیے محمد بن قاسم کی شخصیت رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے, ام المومنین حضرت خدیجہؓ پر سب سے پہلے ایمان لانے والی اور دین اسلام کی تصدیق کرنے والی تھیں۔آپ نہ صرف نبی کریم صہ کی ہم خیال اور غم گسار تھیں بلکہ ہر قدم پر ان کی مدد کے لیے تیار رہتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ آنحضرتؐور اسلام کو حضرت خدیجہ رضہ کی ذاتِ اقدس سے جو تقویت تھی وہ سیرت نبویّ کے ایک ایک صفحہ سے نمایاں ہے۔حضرت خدیجہؓپنی دولت، اثرورسوخ اور فہم و فراست سے کام لے کر مکی دور میں ہر نازک موقع پر اسلام کے لئے ڈھال بنی رہیں۔علم و حکمت سے بھرپور، فہم و فراست سے لبریز، ایثاروقربانی کی پیکر اور دکھ سکھ میں اپنے شوہر حضرت محمد صلی وسلم کی معاون حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی حیات پاک مسلم خواتین کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ ہے ضلعی ناظمہ ڈیرہ شہناز فیض نے کہا کہ '' یوم باب الاسلام نہ صرف برصغیر بلکہ عالم اسلام کے لئے بھی ایک اہم تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔محمد بن قاسم نے یہاں جس نظام کی بنیاد رکھی اس کی پہچان عدل، رواداری،تحمل، حاکمیت الہی اور معاشرتی فلاح تھی '' میونسپل کارپوریشن کی ناظمہ شکیلہ عثمان یوم باب الاسلام سندھ کے باسیوں کے لئے بالخصوص ایک یادگار دن ہے۔یہ برصغیر پر محمد بن قاسم کے اس احسان کے اظہار تشکر کا دن ہے جس کے سبب برصغیر کا یہ علاقہ سلطنت اسلامیہ میں داخل ہوا اور یہاں کے لوگ کلمہ حق سے آشنا ہوئے۔یہ شکر و سپاس گزاری ہی کا دن نہیں بلکہ یہ اس عزم کی تجدید کا دن بھی ہے کہ اس علاقے کے لوگ دین اسلام سے اپنی وابستگی عملی طور پر اور پختہ کریں اور اپنے دشمنوں سے ہوشیار رہیں تحصیل ناظمہ فرحت بزدار نے کہا کہ '' حالات اس مقام پر آگئے ہیں کہ جب ایک نئے ابن قاسم کی ضرورت ہے جو عصبیت،لسانی قومیت اور اسلام دشمن تصورات کی جگہ اس روایت کو تازہ کرے جو تقریباً ایک ہزار سال قبل اس خطے کی پہچان بن گئی تھی ''۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -