محکمہ خوراک، پاسکو آؤٹ، پرائیویٹ پارٹیاں گندم خریداری کیلئے سرگرم

محکمہ خوراک، پاسکو آؤٹ، پرائیویٹ پارٹیاں گندم خریداری کیلئے سرگرم

  

میلسی(تحصیل رپورٹر)گندم کی خریداری میں سرکاری ادارے ناکام ہوگئے پرائیویٹ مافیا نے جنوبی پنجاب کے اکثر علاقوں سے گندم کی خریداری مکمل کر لی، پاسکو(بقیہ نمبر44صفحہ7پر)

اور محکمہ خوراک پنجاب کے خریداری مراکز اپنا 30 فیصد ٹارگٹ بھی پورا نہ کر سکے، آنے والے دنوں میں گندم کے شدید بحران کے خطرات پیدا ہو گئے۔ تفصیل کیمطابق وفاقی حکومت اور محکمہ خوراک پنجاب نے حالیہ دنوں میں آٹے کے بحران کے پیش نظر گندم خریداری کے ٹارگٹ کو 100 فیصد بڑھا دیئے اور کاشتکاروں کو 50 روپے فی من اضافی قیمت کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیات کا ابھی اعلان کیا تا ہم گندم کی خریداری کی مہم دیر سے شروع کر نے اور دیگر انتظامی اقدامات میں نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرائیویٹ مافیا میدان میں آ گیا اور کاشتکاروں سے براہ راست گندم کی خریداری شروع کر دی گئی ضلع وہاڑی میں 2تحصیلیں بوریوالہ اور میلسی میں وفاقی محکمہ پاسکو اور تحصیل وہاڑی میں محکمہ خوراک پنجاب کو گندم کی خریداری کا ہدف دیا گیا اور پنجاب حکومت نے گندم کی بین الاضلاعی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد کی اور 25 من سے زائد گندم کی ذخیرہ اندوزی کو جرم قرار دیتے ہوئے کاروائی کے احکامات دیئے تا ہم ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی نااہلی کی وجہ سے ضلع بھر سے گندم کی بڑی مقدار پرائیویٹ مافیا نے کسانوں سے براہ راست کھیتوں میں خریداری کر کے موقع پر یکمشت ادائیگیاں کیں اور حکومتی نرخوں سے زائد ریٹ دے کر سودے مکمل کیئے اور خریدی گئی گندم مختلف علاقوں کو بھجوا کر سٹور کر لی جس کے بعد ضلع بھر کے خریداری سنٹرز ویرانی کی تصویر بنے ہوئے نظر آتے ہیں اور پاسکو کے علاوہ محکمہ خوراک بھی ابھی تک محض 30 فیصد ٹارگٹ بھی مکمل نہیں کر سکے جبکہ تحصیل میلسی کے نواحی علاقوں اڈا ہری مائنر، دوکوٹہ، لال سگو، ٹبہ سلطانپور، جلہ جیم، فتح پور اور دیگر چکوک میں بیوپاریوں نے دھڑلے سے ہزاروں من گندم کے سٹاک سرعام سڑکوں کے کنارے لگا رکھے ہیں اور دن رات گندم کی فروخت کا غیر قانونی عمل دھڑلے سے جاری ہے اور خریدی گئی گندم کی ضلع بندی کی دن رات خلاف ورزی کی جا رہی ہے اس صورتحال میں ضلعی انتظامیہ اور دیگر ذمہ دار ادارے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر وہاڑی نے گذشتہ روز ریونیو افسران کی ہنگامی میٹنگ طلب کی اور انہیں گندم کے سٹاک برآمد کرنے اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کاروائی کا ٹاسک سونپا جس کے بعد آنے والے دنوں میں اب پوری انتظامیہ گندم کی برآمدگی کے پیچھے نظر آئیگی حالانکہ اگر بروقت اقدامات اٹھائے جاتے تو اس صورتحال سے بچا جا سکتا تھا۔

سرگرم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -