2ماہ سے ادائیگیاں جام، لاکھوں پنشنر ز لاوارث گھروں میں فاقے

      2ماہ سے ادائیگیاں جام، لاکھوں پنشنر ز لاوارث گھروں میں فاقے

  

ملتان (سٹاف رپورٹر) ایمپلائز اولڈ ایج بینفٹس انسٹیٹیوشن(ای او بی آئی)کے پنشنرز 2ماہ سے پنشن سے محروم ہیں۔بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے مسئلے پر لاک ڈاؤن کے باعث ای او بی آئی کے دفاتر میں بھی پبلک ڈیلنگ بند ہے اور تمام امور تعطل کا شکار ہیں جس کے باعث ملتان سمیت ملک بھر میں لاکھوں پنشنرز پنشن سے محروم ہیں اور وہ ای او بی آئی دفاتر کے چکر پر چکر لگا رہے ہیں مگر حکام ان سے ملاقات ہی نہیں (بقیہ نمبر10صفحہ6پر)

کر رہے اور ان کو گیٹ پر ہی روک لیاجاتا ہے۔اس صورتحال میں بزرگ پنشنرز شدید مشکلات اور پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔متاثرین کا کہنا ہے کہ بڑھاپے کا یہی پنشن سہارا ہے‘ حکومت نے ای او بی آئی کے پنشنرز کی پنشن بڑھا کر8500روپے کرنے کا اعلان کیا تھا وہ بھی ابھی تک نہیں مل سکی‘ اس صورتحال میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں مگر ہماری شنوائی نہیں ہورہی ہے۔ ای او بی آئی کے آفس جاتے ہیں تو وہاں سکیورٹی گارڈکہتے ہیں کہ کرونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے باعث پبلک ڈیلنگ بند ہے‘ متاثرین نے مزید بتایا کہ رمضان المبارک کے ہم روزے رکھتے ہیں‘ اس حالت میں گرمی میں ای او بی آئی آفس کے چکر لگانے سے حالت غیر ہوجاتی ہے لیکن حکومت کو ہماری حالت زار پر ترس نہیں آتا۔متاثرین نے منسٹری آف ہیومن ریورس ڈویلپمنٹ پاکستان کے ارباب اختیار اور ای او بی آئی ریجنل آفس ملتان کے حکام سے استدعا کی ہے کہ جلد از جلد 2ماہ سے رکی پنشن ادا کی جائے اورآئندہ بروقت پنشن کی ادائیگی کو یقینی بنایاجائے۔اس بارے میں روزنامہ پاکستان کے رابطہ کرنے پر ای او بی آئی کے حکام نے بتایا کہ کراچی میں میں واقع ایمپلائز اولڈ ایج بینفٹس انسٹیٹیوشن کے ہیڈ آفس میں ایک ملازم کرونا وائرس کا شکار ہو کرچل بساجس پر وہاں دیگر افسر وملازمین خوف میں مبتلا ہوگئے اور ہیڈ آفس ملازمین سے خالی ہوگیا‘اس کے علاوہ کرونا وائرس کے مسئلے پراحتیاطی تدابیر کے تحت حکومت کی ہدایت پر ای او بی آئی کے دفاتر میں پبلک ڈیلنگ بند ہے‘امید ہے کہ جلد ہی حالات معمول پر آجائیں گے اورانشااللہ10روز کے اندر تمام پنشنرز کو پنشن ملے گی اور واجبات کلیئر کر دئیے جائیں گے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -