ڈاکٹر فرقان کی موت نے سندھ حکومت کے کورونا اقدامات کی قلعی کھول دی: محمد حسین محنتی 

ڈاکٹر فرقان کی موت نے سندھ حکومت کے کورونا اقدامات کی قلعی کھول دی: محمد حسین ...

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے امیروسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے کراچی میں کورونا وائرس میں مبتلا ڈاکٹر فرقان الحق کی المناک موت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دلخراش واقع نے محکمہ صحت سمیت سندھ حکومت کے تمام دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ واقعہ کی تحقیقات اور آئندہ اس طرح کے واقعات کے سدباب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے آج ایک بیان میں کہا کہ کورونا وائرس کے سدباب اورمریضوں کے علاج کے لیے اربوں روپے خرچ کئے گئے ہیں لیکن ایک مریض کی جان بھی بچائی نہیں جاسکی ہے۔جب قوم کے ہیروز ڈاکٹرز اور ملک کے سب سے بڑے و دارالخلافہ شہر کراچی میں انتطامات کی ناکامی کی یہ صورتحال ہے تو پھر باقی ماندہ سندھ کے عوام کس کربناک صورتحال سے دوچار ہونگے۔ سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں شدت اور سختی پر عوام کی زندگی بچانے کی خاطرزور دیا جارہا ہے مگردوسری جانب اسی حکومت کے ناک کے نیچے پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی میں ایک سینئر ڈاکٹر فرقان الحق کی موت بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومت کی پوری مشینری قوم کو کورونا سے لڑنے کے مشورے دے رہی ہے مگر دوسری طرف خود ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی اور مہم جوئی میں لگے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف حفاظتی سامان و ادوایات کیلئے سراپا احتجاج ہیں جبکہ کئی ہسپتال وینٹی لیٹر ز سے محروم ہیں۔ سول ہسپتال کے تمام وینٹی لیٹرز خراب ہیں۔ برو قت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ڈاکٹر فرقان جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پھر بھی سندھ سرکار کی پوری توجہ مساجد بند، جمعہ نماز پر پابندی،کرفیو اور لاک  ڈاؤن پر ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ توکورونا کی سنگین صورتحال بتاتے ہیں مگران کی انتظامیہ کا رویہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق شہرمیں کورورنا کے صرف 17مریض وینٹی لیٹر پر ہیں اور 913 میں سے 160 یہ عام مریض ہیں تو پھر باقی وینٹی لیٹرر کس مرض کی دوا ہیں کیونکہ یہ بات صرف ایک ہلاکت کی نہیں ہے۔ ڈاکٹر فرقان الحق کے واقعے کی مکمل تحقیقات اور اور آئندہ کیلئے اقدامات کئے جائیں۔   

مزید :

صفحہ اول -