”کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے باوجود مجھے یہ کام کرنے پر مجبور کیا گیا“ پمز ہسپتال کے ڈاکٹر نے دعویٰ کر دیا

”کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے باوجود مجھے یہ کام کرنے پر مجبور کیا گیا“ ...
”کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے باوجود مجھے یہ کام کرنے پر مجبور کیا گیا“ پمز ہسپتال کے ڈاکٹر نے دعویٰ کر دیا

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمزہسپتال میں کورونا وائرس کا شکار ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ کورونا علامات کے باوجود انتظامیہ نے ہمیں ڈیوٹی پر مجبور کیا کیا، افسوس ہے ہماری وجہ سے دیگر لوگ وائرس کا شکار ہوئے، ویڈیو پیغام میں مریضہ نے کہا کہ مجھے ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے چھوٹے سے کمرے میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جس میں واش روم تک کی کوئی سہولت نہیں ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر انصر مقصود نے بتایا کہ کرونا کیس سامنے آنے کے بعد شعبہ زچہ و بچہ کو سات دنوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے، تمام عملے کے مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کے بعد دوبارہ کھولا جائے گا، جبکہ ڈاکٹر مریضہ کو پرائیویٹ وارڈ کے کمرے میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے، ہسپتال میں جو سہولیات دستیاب ہیں وہ ڈاکٹر مریضہ کو فراہم کی جا چکی ہیں۔

پمز ہسپتال کی کورونا پازیٹیو ڈاکٹر ثروت نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا میں بطور ٹرینی ڈاکٹر پمزشعبہ زچہ بچہ میں تعینات ہوں، تین روز قبل زچہ بچہ سینٹر کی ڈاکٹر میں کورونا کی تصدیق ہوئی ،متاثرہ ڈاکٹر ایم سی ایچ میں دیگر سٹاف کےہمراہ کام کر رہی تھیں، ساتھی ڈاکٹر کے بعد مجھ میں کورونا کی علامات ظاہر ہوئیں لیکن مجھے ڈیوٹی جاری رکھنے کا کہا گیا۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -کورونا وائرس -