عالمی معاشی بحران کے عروج پر چین نے وہ کام کردکھایا کہ کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا

عالمی معاشی بحران کے عروج پر چین نے وہ کام کردکھایا کہ کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا
عالمی معاشی بحران کے عروج پر چین نے وہ کام کردکھایا کہ کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا

  

بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں مالی بحران اپنے عروج کی جانب بڑھ رہا ہے چین نے سرکاری سطح پر پہلی بار ڈیجیٹل کرنسی کے اجرا کااعلان کردیا ہے۔

امریکی اخبار

لاس اینجلس ٹائمز نے چین کے اس اقدام پر لکھے گئے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے عالمی بحران میں الجھی ہے چینی حکومت نے خاموشی سے ایک بڑے اور جدت سے بھرپور معاشی منصوبے کو متعارف کروادیاہے ۔ چینی حکومت کا یہ اقدام نہ صرف اس کی معیشت کو ایک نئی شکل دے دے گا بلکہ اس سے اس کی سٹریٹجک پوزیشن بھی کئی دہائیوں کیلئے بہتر ہوجائے گی۔

رپورٹ کے مطابق چینی حکومت کی جانب سے دنیا کی پہلی(سرکاری سرپرستی میں) ڈیجیٹل کرنسی کو گزشتہ ماہ اپریل میں متعارف کروایا کیاگیا تھا اور چین کے مرکزی بینک کی جانب سے اسے  ڈیجیٹل یوآن کا نام دیا گیاہے۔

اس کے ساتھ ہی اسے ابتدائی طور پر چین کے چار بڑے شہروں میں آزمائشی طور پر متعارف کرانے کااعلان کیاگیا۔ اس اعلان کے بعد چین دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں روزمرہ کے عمومی لین دین سرکاری سرپرستی میں ڈیجیٹل کرنسی میں ہوں گے۔

لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق  چین نے ایک اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ ڈیجیٹل یوآن نقد رقم کی ترسیل کی جگہ لے گا اورممکنہ طور پر علی پے اور وی چیٹ پے سمیت دیگر جدید نظاموں سے منسلک ہوکر لوگوں کو سہولیات پہنچائے گا۔ رپورٹ کے مطابق چین ایک ایسا ملک ہے جہاں نصف ارب سے زیادہ لوگ موبائل پیمنٹس کی سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہیں ان کیلئے یہ تبدیلی کسی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں بنے گی۔

رپورٹس کے مطابق ڈیجیٹل کرنسی کو موبائل فون ایپ کی مدد سے استعمال کیاجائے گا اور اس کرنسی کی قدر کی ضمانت چین کا مرکزی بینک خود دے گا۔

چین کے اس اقدام کو ایک نیا گیم چینجر قرار دیا جارہا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -بزنس -کورونا وائرس -