کیا واقعی شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی گمشدگی کی وجہ ان کا دل آپریشن تھا؟

کیا واقعی شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی گمشدگی کی وجہ ان کا دل آپریشن ...
کیا واقعی شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی گمشدگی کی وجہ ان کا دل آپریشن تھا؟

  

سیول(ڈیلی پاکستان آن لائن)شمالی کوریا کے سربراہ کم جون ان جو کہ بیس دنوں تک منظرعام پر نظر نہیں آئے ان کی واپسی کے ساتھ ان سے منسوب کی گئی کئی افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔ تاہم ان کے دل کے آپریشن کے حوالے سے کئی اداروں نے ان کے منظر عام پر آنے کے بعد بھی بات کی ہے جس پر اب جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسیوں نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔

جنوبی کوریا کے خفیہ اداروں کے مطابق کم جونگ ان کے دل کا کوئی آپریشن نہیں ہوا ہے اور ان کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ البتہ ہوسکتا ہے وہ کورونا وائرس کی وجہ سے احتیاطا تقریبات میں شریک نہ ہوئے ہوں۔

بی بی سی ے مطابق جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ سو ہون نے بدھ کو ایک پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ کِم کی صحت کے بارے میں گردش کرتی افواہوں میں کوئی سچائی ہے۔

جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یون ہاپ کے مطابق کمیٹی کو بتایا گیا کہ کِم کو اس برس کُل 17 بار دیکھا گیا ہے تاہم عام طور پر سال کے اس حصے تک وہ کم از کم 50 بار عوامی تقریبات میں نظر آ چکے ہوتے ہیں۔

لیکن اس کے پھیچھے کورونا کی وبا کے خدشات بھی ہو سکتے ہیں، اگرچہ شمالی کوریا کے مطابق ان کے ہاں اب تک کورونا کا کوئی مریض نہیں۔

لیکن جنوبی کوریا کے قانون ساز کم بیونگ کی نے کہا کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ شمالی کوریا میں بھی کورونا وائرس نے وبائی صورتحال اختیار کر لی ہوگی۔

ان کے مطابق کِم جونگ اُن اب ملک کے داخلی امور پر توجہ دے رہے ہیں، جیسے کہ فوجی طاقت اور پارٹی میٹنگز اور کورونا وائرس کی وجہ سے ان کی عوامی سرگرمیوں میں کمی آ سکتی ہے۔

خیا ل رہے کم جونگ ان کے اپریل میں اپنے دادا کی سالگرہ کے جشن میں شریک نہیں ہوئے تھے جس کے بعد ایسی افواہیں سامنے آئیں کہ وہ شدید بیمار ہیں، ان کے دل کا آپریشن ہوا ہے جبکہ کچھ اداروں نے تو ان کی موت کا دعویٰ بھی کردیا تاہم ان دعووں کی نفی اس وقت ہو گئی جب وہ ایک کھاد فیکٹر ی کاافتتاح کرنے کی ایک تقریب میں شریک ہوئے۔

واضح رہے اس سے قبل کم جونگ ان 2014میں بھی چالیس دنوں تک غائب رہے تھے جس کے بعد ان سے متعلق کی خدشات ظاہر کیے گئے تاہم پھر وہ ایک بار پھر منظر عام پر آگئے تھے۔

مزید :

بین الاقوامی -