حکومت کو لاک ڈاﺅن کی تجویز دینے والا سائنسدان خود ہی انتہائی شرمناک کام کے لیے لاک ڈاﺅن توڑتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

حکومت کو لاک ڈاﺅن کی تجویز دینے والا سائنسدان خود ہی انتہائی شرمناک کام کے ...
حکومت کو لاک ڈاﺅن کی تجویز دینے والا سائنسدان خود ہی انتہائی شرمناک کام کے لیے لاک ڈاﺅن توڑتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں جس حکومتی سائنسدان نے لاک ڈاﺅن کروایا خود اسی سائنسدان کی طرف سے ایسے شرمناک کام کے لیے لاک ڈاﺅن کی دھجیاں اڑانے کا انکشاف سامنے آ گیا ہے کہ سن کر یقین نہ آئے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ 51سالہ سائنسدان نیل فرگوسن حکومت کی خفیہ ’ایس اے جی ای کمیٹی‘ کا رکن تھا۔ اس نے پیش گوئی کی تھی کہ برطانیہ میں کورونا وائرس بہت زیادہ پھیلنے والا ہے اور اگر لاک ڈاﺅن نہ کیا گیا تو ملک میں 5لاکھ سے زائد اموات ہو سکتی ہے۔نیل فرگوسن نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر جو رپورٹ تیار کی تھی اور اس میں انتہائی خوفناک مستقبل کی منظرکشی کی تھی اس رپورٹ کے بعد وزیراعظم بورس جانسن ملک میں لاک ڈاﺅن کرنے پر مجبور ہو گئے اور انہوں نے اس کا اعلان کر دیا۔ملک میں لاک ڈاﺅن لگوانے کی وجہ سے شہریوں نے نیل فرگوسن کو ’پروفیسر لاک ڈاﺅن‘ کا لقب بھی دے رکھا ہے۔

اب انکشاف سامنے آیا ہے کہ خود نیل فرگوسن لاک ڈاﺅن کے دوران اپنی شادی شدہ محبوبہ کو رنگ رلیاں منانے کے لیے اپنے گھر بلاتا رہا۔اس کی 38سالہ محبوبہ انتونیا سٹاٹس لندن کے جنوبی علاقے میں 19لاکھ پاﺅنڈ مالیت کے گھر میں اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ رہتی ہے۔جہاں سے وہ نیل فرگوسن کے کہنے پر اس کے گھر آتی رہی اور اس سے ملتی رہی۔یہ انکشاف سامنے آنے پر نیل فرگوسن نے بھی اس کا اعتراف کر لیا ہے اور ’ایس اے جی ای کمیٹی‘ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ وہ اس کمیٹی کے علاوہ امپیرئیل کالج لندن سے بھی وابستہ ہے اور کالج کی انتظامیہ اس معاملے میں اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہے اور کہا ہے کہ وہ ہنوز کالج کے ساتھ وابستہ رہے گا۔

اس معاملے پر ٹوری لیڈر سر آئیان سمتھ کا کہنا تھا کہ ”اس جیسے سائنسدان ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کرنا چاہیے لیکن وہ خود وہی کام کرتے رہتے ہیں۔اب اس نے ہمیں کہا کہ لاک ڈاﺅن کر دو اور گھروں سے باہر مت نکلو، چنانچہ ہم نے اس کے کہنے پر ایسا کر دیا لیکن وہ خود وہی کچھ کرتا رہا جو وہ کرنا چاہتا تھا۔مجھے یقین نہیں ہو رہا کہ کوئی ذہین آدمی ایسا بھی کر سکتا ہے۔“رپورٹ کے مطابق ماہر نفسیات ڈاکٹر ایما کینی اور کئی دیگرڈاکٹرز اور طبی ماہرین بھی اب الزام عائد کر رہے ہیں کہ نیل فرگوسن نے اپنی رپورٹ میں من گھڑت اعدادوشمار بیان کیے اور حکومت کو ایسی وحشت میں مبتلا کر دیا کہ وہ لاک ڈاﺅن کرنے پر مجبور ہو گئی۔ آج ہم جو کچھ سہہ رہے ہیں یہ سب انہی کا کیا دھرا ہے۔“

مزید :

برطانیہ -کورونا وائرس -