ہزاروں نئی گاڑیاں جنہیں کوئی لینا نہیں چاہتا، یہ کہاں کھڑی ہیں؟

ہزاروں نئی گاڑیاں جنہیں کوئی لینا نہیں چاہتا، یہ کہاں کھڑی ہیں؟
ہزاروں نئی گاڑیاں جنہیں کوئی لینا نہیں چاہتا، یہ کہاں کھڑی ہیں؟

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا ایک تاریخی معاشی بحران اور کسادبازاری کا سامنا کرنے جا رہی ہے جس کے اثرات ابھی سے نظر آنے شروع ہو گئے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق دیگر ممالک کی طرح برطانیہ میں بھی نئی گاڑیوں کی فروخت کی شرح میں تاریخی کمی واقع ہو گئی ہے اور مختلف کمپنیوں کی سینکڑوں نئی گاڑیاں سٹوریج ہاﺅسز میں کھڑی سڑنی شروع ہو گئی ہیں۔ برطانوی علاقے آکسفورڈ شائر میں ’اپر ہےفورڈ ایئربیس‘ نامی ایک سٹوریج فیسیلٹی ہے جس کی فضاءسے لی گئی تصاویر سامنے آئی ہیں۔ ان تصاویر میں سینکڑوں کی تعداد میں نئی گاڑیاں قطار در قطار کھلے آسمان تلے کھڑی ہیں لیکن کوئی انہیں خریدنے والا نہیں۔

برطانیہ میں کار مینوفیکچررز کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اپریل کے مہینے میں کاروں کی فروخت میں ریکارڈ 97فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ 1946ءکے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کاروں کی فروخت میں اتنی کمی آئی ہے۔آکسفورڈ شائر کی اس سٹوریج فیسیلٹی میں رینج روور، جیگوار اور مرسڈیز سمیت کئی بڑے برانڈز کی لگژری گاڑیاں موجود ہیں جن کی مجموعی مالیت ساڑھے 3کروڑ پاﺅنڈ سے زائد ہے۔

مینوفیکچررز کا کہنا تھا کہ عام حالات میں اس فیسیلٹی میں نئی کاریں چند دن کے لیے کھڑی کی جاتی تھی اور پھر انہیں شورومز پہنچا دیا جاتا تھا لیکن اب انہیں دو ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور مستقبل قریب میں بھی ان کی فروخت کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔اپریل 2019ءمیں مختلف برانڈز کی 68ہزار گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں اور اپریل 2020ءمیں صرف871گاڑیاں فروخت ہوئیں۔

مزید :

بزنس -