یورپی یونین کی قرارداد پر پاکستان کا ردعمل

یورپی یونین کی قرارداد پر پاکستان کا ردعمل
یورپی یونین کی قرارداد پر پاکستان کا ردعمل

  

وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو دو ٹوک اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان یورپی یونین کے تحفظات کو دور کرنے کے لئے تیار ہے،لیکن توہین رسالت قانون پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ  نہیں کیا جائے گا۔ اسلام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جوڑنا نامناسب ہے۔ مقدس شخصیات کی توہین سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچتی ہے…… یورپی پارلیمان میں بھاری اکثریت سے منظور کی جانے والی ایک قرارداد میں یورپی کمیشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 2014ء میں پاکستان کو جنرلائزڈ سکیم آف پریفرنسز (جی ایس پی) پلس کے تحت دی گئی تجارتی رعایتوں پر فی الفور نظرثانی کرے۔اس قرارداد میں پاکستان کی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ توہین رسالت کے قانون کی دفعات 295 سی اور بی کو ختم کرے۔اس قرارداد میں حکومت پاکستان سے انسداد دہشت گردی کے 1997ء کے قانون میں بھی ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ توہین رسالت کے مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں نہ کی جائے اور ملزمان کو ضمانتیں مل سکیں۔

 حکومت نے یورپی پارلیمنٹ کی پاکستان مخالف قرارداد کے جواب میں ناموس رسالت کے قانون اور قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے مراسلے پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا احسن فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر نظرثانی کی قرارداد منظور ہونے کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ جی ایس پی سکیم کے تحت ترقی پذیر ممالک کی یورپی یونین کی منڈیوں میں آنے والی مصنوعات سے درآمدی ڈیوٹی ہٹا دی جاتی ہے۔ جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم ہونے سے پاکستان کو تین ارب ڈالر سالانہ کا نقصان ہوسکتا ہے۔پاکستان کی 25 فیصد ایکسپورٹ یورپی ممالک سے تعلق رکھتی ہیں،اگر یہ ممالک پاکستان کو جی ایس پی پلس کا دیا گیا رتبہ واپس لے لیں تو یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔  یورپی یونین کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کو 2014ء میں جی ایس پی پلس کا درجہ دیے جانے کے بعد پاکستان اور یورپی یونین کے ملکوں میں تجارت میں 64 فیصد اضافہ  ہوا ہے۔پاکستان کے اقتصادی سروے 2019-20ء  کے مطابق یورپی یونین پاکستان کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے۔اس سروے میں کہا گیا ہے کہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستانی مصنوعات کو یورپی یونین کے 27 ملکوں میں بغیر کسی ڈیوٹی کے رسائی حاصل ہے۔ یورپی یونین میں یہ سہولت میسر آنے کے بعد پاکستان کی برآمدات میں کئی سو کروڑ کا اضافہ ہوا۔ 2013-14ء کے مالی سال میں پاکستان کی برآمدات 11,960.59 ملین ڈالر تھیں جو 2018-19ء  میں 14,158.29 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔

یورپی یونین کو پاکستان امریکہ سے دوگنا مال فروخت کرتا ہے، جبکہ چین کے مقابلے میں یہ تین گنا زیادہ ہے۔یورپی یونین کو برآمد کئے جانے والے مال میں سب سے زیادہ مقدار ٹیکسٹائل مصنوعات کی ہے۔ پاکستان سے یورپی یونین کو برآمد کی جانے والی اشیاء میں 76 فیصد حصہ ٹیکسٹائل کی مصنوعات کا بنتا ہے۔ پاکستان کی درآمدات میں بھی یورپی یونین کا نمایاں حصہ ہے اور پاکستان کی مجموعی درآمدات میں اس کا تیسرا نمبر ہے۔ یورپی یونین سے پاکستان زیادہ تر بجلی کے آلات، مواصلات کا ساز و سامان، کیمیکل اور ادویات خریدتا ہے۔ یہ درست ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ انسانی آزادیوں کے حقوق، جبری گمشدگیوں کے خاتمے، اقلیتوں کے تحفظ، خواتین کے حقوق سمیت 8 معاہدے ہوئے تھے، لیکن ان معاہدوں میں مذہب کے حوالے سے کوئی شرط طے نہیں کی گئی تھی۔اجلاس میں طے کیا گیا کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے قانون اور قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ پاکستان کی ریاست نہ خود اور نہ کسی کو مذہب کے نام پر تشدد کی اجازت دے گی۔ یورپی یونین کے تمام ممالک سے اس معاملے پر بات کی جائے گی۔ جی ایس پی پلس سٹیٹس کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کا توہین رسالت قوانین سے کوئی تعلق نہیں۔

یورپی پارلیمان میں منظور ہونے والی قرارداد میں اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ پاکستان میں لاگو توہین رسالت کے قانون کے تحت ابھی تک کسی بھی مجرم کو موت کی سزا نہیں دی گئی،کہا گیا ہے کہ اس قانون کی وجہ سے ”اقلیتوں کو خوف زدہ“ کیا جاتا ہے ان پر ”تشدد کیا جاتا ہے“ اور توہین رسالت کا الزام لگا کر اقلیتی برادری کے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ قرارداد میں پاکستان میں فرانس کی حکومت کے خلاف حالیہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاج کا ذکر بھی کیا گیا ہے،اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے پر بحث کرنے سے متعلق قرارداد کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ مغرب اس معاملے کو اظہارِ رائے کی آزادی سے جوڑتا ہے۔ ماضی میں اس حوالے سے پاکستان کی کارکردگی پر یورپی یونین کی جانب سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ان میں سب سے اہم معاملات میں سے ایک پاکستان میں پھانسی کی سزا پر عملدرآمد دوبارہ شروع کیا جانا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے دور میں پھانسیوں کی سزا پر عملدرآمد کو ملتوی کیا تھا تاکہ یورپی یونین سے ترجیحی تجارت کا درجہ حاصل کیا جا سکے، تاہم پشاور میں آرمی پبلک سکول پر 2014ء میں طالبان کے حملے میں بچوں سمیت 144 افراد کے ہلاک ہونے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے پھانسی کی سزا بحال کر دی تھی۔

مزید :

رائے -کالم -