شیخ ماجد بن مسعود کے انتقال پر تعزیت اور ان کی علمی خدمات کو خراج تحسین

شیخ ماجد بن مسعود کے انتقال پر تعزیت اور ان کی علمی خدمات کو خراج تحسین
شیخ ماجد بن مسعود کے انتقال پر تعزیت اور ان کی علمی خدمات کو خراج تحسین

  

مکہ مکرمہ (محمدعامل عثمانی) مدرسہ صولتیہ، مکہ مکرمہ کے سابق ناظم اعلی شیخ ماجد بن مسعود (حشیم بھائی) سقط قلب کے باعث 66 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں - مولانا ماجد سعید (مرحوم) مدرسہ صولتیہ کے بانی حضرت مولانا رحمۃ اللہ کیرا نوی رح کے خاندان کے چشم و چراغ، زہد وتقوی  اور علم و عمل کے پیکر ، متواضع.، ملنسار. اور انتہائی ملنسار و انتہائی مہمان نواز اور نیک سیرت انسان تھے. - احباب مکہ پاکستانی گروپ  نے مشترکہ بیان میں متوفی کی علمی خدمات کوزبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوے کہا ہییکہ شیخ ماجد کی تمام زندگی درس و تدریس.  اور نسل نوع کے ایمان کی حفاظت  کے لئے شب وروز کوششیں کرتے ہوے گزری  - - وہ اپنے اکابرین اور اسلاف کی جیتی جاگتی عملی تصویر تھے. - احباب مکہ پاکستانی گروپ نے مرحوم کے برادر حقیقی احمد مسعود (زعیم) ، یوسف مسعود(ندیم) اور ان کے صاحبزدگان سلیم بن ماجد اور ھشام بن ماجد  اور دیگر ورثہ سے تعزیت کرتے ہوے کہا ہیکہ ہم ان کے  غم مین برابر کے شریک ہیں  - انھوں نے مرحوم کے لئے جنت الفردوس مین اعلی مقام اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ 

یادرہے کہ مکہ مکرمہ میں واقع مدرسہ ’’صولتیہ‘‘ کا شمار جزیرہ عرب کے قدیم ترین مدارس میں ہوتا ہے۔ اسے ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے 1873ء میں قائم کیا۔ مدرسہ صولتیہ کے قیام سے قبل مکہ معظمہ میں مولانا رحمت اللہ کی سرپرستی میں محدود پیمانے پر قرآن کریم کی علمِ تجوید کی تعلیم کا انتظام تھا۔ بعد ازاں ’’صولت النساء‘‘ نامی ایک ہندوستانی خاتون نے باقاعدہ مدرسے کے قیام کے واسطے زمین خرید کر عطیہ کر دی۔ اسی نسبت سے مدرسے کو  ’’صولتیہ‘‘ کا نام دیا گیا تھا .

مزید :

تارکین پاکستان -