کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑوں پر ایک سال بعد کیا اثرا ت مرتب ہوتے ہیں ؟ طبی تحقیق میں تشویشناک بات سامنے آگئی 

کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑوں پر ایک سال بعد کیا اثرا ت مرتب ...
کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑوں پر ایک سال بعد کیا اثرا ت مرتب ہوتے ہیں ؟ طبی تحقیق میں تشویشناک بات سامنے آگئی 

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی سنگین شدت کے باعث زیرعلاج مریضوں میں سے متعدد کو ایک سال بعد بھی منفی اثرات کا سامنا ہے۔یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ساو¿تھ ہیمپٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ سے ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے ایک تہائی افراد کے پھیپھڑوں میں ایک سال بعد بھی منفی اثرات کے شواہد ملے ہیں۔

طبی جریدے دی لانسیٹ ریسیپٹری میڈیسین میں شائع تحقیق کے دوران ماہرین نے چین کے شہر ووہان کے ماہرین کے ساتھ مل کر سنگین کووڈ 19 نمونیا کے مریضوں کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا کہ ایک سال بعد ان کی حالت کیسی ہے۔اس مقصد کے لیے 83 مریضوں کو تحقیق کا حصہ بنایا گیا جو کووڈ 19 نمونیا کی سنگین شدت کا شکار ہوکر ہسپتال میں زیرعلاج رہے تھے۔ان مریضوں کا جائزہ 3، 6، 9 اور 12 مہینوں تک لیا گیا یعنی ہر 3 ماہ بعد ان کا معائنہ کیاگیا۔

ہر بار معائنے کے دوران طبی تجزیئے کے ساتھ ساتھ پھیپھڑوں کے افعال کی ان پڑتال کی گئی، جس کے لیے سی ٹی اسکین سے پھیپھڑوں کی تصویر لی گئی جبکہ ایک چہل قدمی ٹیسٹ بھی لیا گیا۔12 مہینے کے دوران بیشتر مریضوں کی علامات میں علامات، ورزش کی صلاحیت اور کووڈ 19 سے متعلق سی ٹی چینجز میں بہتری آئی۔ایک سال بعد اکثر مریض بظاہر مکمل طور پر صحتیاب ہوگئے تاہم 5 فیصد افراد تاحال سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کررہے تھے۔ایک تہائی مریضوں کے پھیپھڑوں کے افعال بدستور معمول کی سطح پر نہیں آسکے تھے، بالخصوص پھیپھڑوں سے خون میں آکسیجن کو منتقل کرنے کی صلاحیت زیادہ متاثر نظر آئی۔

مزید :

قومی -