فاقہ زدہ شہری اورہماری ذمہ داری!

فاقہ زدہ شہری اورہماری ذمہ داری!
فاقہ زدہ شہری اورہماری ذمہ داری!

  

کچھ باتیں سیدھی دل میں اترجاتی ہیں،نوعیت خواہ جو بھی ہو،پھرپتھردل بھی نرم ہوجاتے ہیں،یہ کل ہی کی بات ہے کہ میرے موبائل فون پر ایک کال آتی ہے،لگ بھگ پچاس سالہ اس شہری نے کھانستے ہوئے مشکل سے صرف اتنے ہی الفاظ ادا کیےکہ آج ہمارے گھرمیں کھانے کو کچھ نہیں،فون کرنے والا جھوٹ نہیں بول رہاتھا کیوں کہ میں اسے ذاتی طورپرجانتاہوں،اس کا کچن اس کی نوکری سے چل رہاتھااور کسی وجہ سے نوکری ختم ہوگئی،روزگارکے لیے دربدرہوتارہااور اب بھی یہی صورتحال ہے۔

حسب توفیق جو ہوسکتاتھااس کے لیے کردیااور شام سے پہلے اس کے گھر میں راشن کابندوبست ہوگیالیکن یہ راشن اس کی ساری زندگی کے لیے کافی نہیں،تھوڑا عرصہ اس کے بچے روٹی کھاسکیں گےاورتب تک اگر اس کے لیے مستقل بندوبست نہ ہوسکاتومیں نہیں جانتاپھر کیا ہوگا؟؟؟۔

یہ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ جب کسی کے گھر میں فاقوں کی نوبت آجاتی ہے توپھر والدین اس دنیا سے ہی چھٹکارے کامشکل ترین فیصلہ بھی کرلیتے ہیں حالانکہ میرے نزدیک مشکلات سے لڑنا اوراپنے لیے وسائل پیداکرنے کی کوشش کرناحل ہے،گھٹنے ٹیک دینااس کا قطعاحل نہیں،جس سکون کی خاطر انسان دنیاوی مشکلات سے چھٹکارہ حاصل کرتاہے،کیاپتہ تہہ خاک بڑے عذاب میں مبتلا ہوجائے اورپھر واپسی کی راہ بھی نہیں،قدرت مہربانی فرمائے اورایسی نوبت کسی کو نہ دکھائےمگریہ صرف دعاؤں کاہی وقت نہیں،یہ عمل کی گھڑی ہے،ایسے لوگوں کے لیے جو کچھ کرسکتے ہیں۔

میرے علم میں تو ایک انتہائی تشویشناک معاملہ ہے مگراتنی بڑی دنیا میں نجانے کون کہاں کتنا مجبورہے؟کتنے ہی سفیدپوش پیٹ پر پتھرباندھ کر رات کو سونے کی کوشش کرتے ہوں گے؟کتنے ہی زندگی سے چھٹکارہ حاصل کرتے ہوں گے اور کتنے ہی زندگی کی ان مشکلات کامقابلہ کررہے ہوں گے؟؟۔

انسانیت کی خدمت اوران کے دکھوں کا مداواکرنےکے کئی طریقے ہیں جن میں سے ہم کوئی بھی اپنا سکتے ہیں۔سب سے پہلے توہمیں اپنے عزیزواقارب کے احوال کا علم ہونا چاہیے،اگر ہم کسی ضرورت مند رشتہ دار کے کام آسکتے ہیں تو پھر حسب توفیق ضرورآئیں،اہل محلہ اور دوستوں میں سے کوئی ایسا ہوسکتاہے کہ جسے آپ کی ضرورت ہو لیکن یہ تب معلوم ہوگا جب آپ اپنے محلے میں جان پہچان رکھیں،کون کیا کام کرتاہے ؟کس کے گھریلو حالات کیسے ہیں؟کسے کچن چلانے میں مشکل درپیش ہے؟؟جاننے کی کوشش کریں مگر یہ سب ایسے ہو کہ اگلے انسان کی عزت نفس پر بھی حرف نہ آئے اور مدد بھی ہوجائے،ایک ہاتھ سے مدد کردیں مگر دوسرے کو خبر تک نہ ہو۔کچھ ادارے آپ کے علم میں ہوسکتے ہیں جو حقیقت میں انسانیت کی مدد کررہے ہیں،ان کے دست وبازو بنا جاسکتاہے۔

جیسا کہ میں نے آغاز میں ایک شہری کا ذکر کیاایسے ہی کسی شخص کے بارے میں سنیں توحسب توفیق اس کی مددضرورکریں،کیوں کہ  ہم سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور جب اس کی مخلوق میں سے ہی کوئی بھوکا، پیاسا،تنگدست ہو تو پھر اس کی مدد قدرت کو بہت اچھی لگے گی،یہ وہی ذات ہے جو زمین میں ایک دانہ ڈالنے سے سینکڑوں دانے بنادیتاہے،یہ وہی ہے جس نے ہمیں ایک قطرے سے پیداکرکے وہ انمول نعمتیں عطاکردیں جودنیاکی کسی فیکٹری میں تیار نہیں ہوتیں۔

کبھی سوچاہے کہ آنکھ اگر ضائع ہوجائے تو پھر اس طرح کی آنکھ دنیا میں کہیں کسی دکان سے مل سکتی ہے?؟؟زبان پر ہی غور کریں تواس کی عطاپرسجدہ ریز ہوجائیں،ایک گوشت کا ٹکڑا ہےجس سے آوازآواز پیدا ہوتی ہے اور اس آوازمیں اتنی تاثیر ہے کہ بعض دفعہ کسی انسان کی آوازپرانسان پر رقت طاری ہوجاتی ہے،کبھی آنسو رواں ہوجاتے ہیں اورکبھی کچھ ایسی کیفیت پیداہوجاتی ہے کہ بندہ حیران رہ جاتاہے۔۔۔قدرت کی اتنی عطاؤں کے بعداگر اس کے عطاکردہ مال سے کچھ رقم ہم اسی کے بندوں کے سکون پرخرچ کردیں توکیا ہماری دولت ختم ہوجائے گی؟؟یہ مال ودولت،یہ دوست،یہ عزت،یہ شہرت ،یہ سب کچھ جس خزانے سے آتا ہے،وہ کبھی نہ ختم ہونے والاہے اور یہ اس کی ذات کا اصول ہے کہ اس کی رضا میں خرچ کریں تو دولت کم نہیں ہوتی بلکہ مزید بڑھ جاتی ہے،،بس بات شعور کی ہے۔۔۔جس ذات نے ہمیں سب کچھ عطاکیا،ہمیں اپنے مجبوربندوں کی مدد کرنے کابھی شعورعطافرمادے۔

اگرآپ میرا بلاگ پڑھتے پڑھتے اختتامی سطورتک پہنچ چکے ہیں تواس کامطلب ہے کہ آپ کو دوسروں کی مددمیں دلچسپی ہے لہذامقام غوروفکر کے بعداگلا مقام عمل کا ہے،اٹھیں اوراس شہری کوتنگدستی سے بچانے میں اپنا کرداراداکریں۔

 (بلاگرمناظرعلی مختلف اخبارات اورٹی وی چینلز کےنیوزروم سے وابستہ رہ چکےہیں،آج کل لاہور کےایک ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں۔عوامی مسائل اجاگرکرنےکےلیےمختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں۔ان سےفیس بک آئی ڈی munazer.ali پر رابطہ کیا جاسکتا ہے) ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -