عزت نفس مجروح نہ کریں  

 عزت نفس مجروح نہ کریں  

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ہمارے ہاں رمضان کا آغاز مساجد میں تراویح اور ملک میں مہنگائی سے ہوتا ہے۔ یہ برسوں پرانی روایت ہے، لہٰذا اس سے انحراف ممکن نہیں۔ دوسری طرف عوامی تاثر یہ ہے کہ رمضان کا احترام ہم سے زیادہ کوئی نہیں کرتا، جبکہ اللہ جانتا ہے یہاں احترام سے رمضان کوئی نہیں کرتا۔ادھر رمضان آتا ہے، ادھر ہمارے لوگوں کے اندر کا مسلمان فوراً چھلانگیں مارتا باہر نکل آتا ہے۔ ہر کوئی شیطان مارنے کے چکر میں ایک دوسرے ہی کو مارنے لگتا ہے، حالانکہ ان دنوں شیطان بیچارہ کہیں موجود ہی نہیں ہوتا۔ اگر شیطان کی بجائے لوگ اپنا اپنا نفس مار لیں تو یقین کریں شیطان کو مارنے کی نوبت کبھی نہ آئے۔ رمضان میں ہر خاص و عام کے اندر نیکی کرنے کی ہڑک جاگ اٹھتی ہے، خدا کی راہ میں دینے والے جاگتے ہیں تو صدقہ و خیرات حاصل کرنے والوں کی دوڑیں لگوادیتے ہیں۔ اس بھاگتی دوڑتی نیکی میں حاجی صاحب راشن بانٹتے ہوئے ”فوٹو شوٹ“ کروانا ضروری سمجھتے ہیں کہ انھیں اس طرح کاروباری حلقے میں اپنی نیک نامی کی سند بھی تو لینی ہے۔ شیخ صاحب بھی پیچھے نہیں رہتے، وہ بھی اس کار خیر میں اس طرح حصہ ڈالتے ہیں کہ امریکہ تک گونج سنائی دیتی ہے۔ کچھ عرصے سے ٹی وی چینلوں پر رمضان نشریات ہر سال باقاعدگی سے دکھائی جاتی ہے۔ ہر چینل پر ایک سی نشریات مختلف نام اور چہروں سے چل رہی ہوتی ہے۔ رمضان نشریات پر اعتراض بنتا نہیں اور نہ کرنا چاہئے کہ یہ خالص کاروباری معاملہ ہے، لیکن جو بات تکلیف کا باعث بنتی ہے وہ رمضان نشریات میں نیکی کا سیگمنٹ ہے۔ اس سیگمنٹ کے ذریعے نیکی کو دریا برد کرنے کا اہتمام ایسے بہترین طریقے سے ہوتا ہے کہ دل خون کے آنسو رونے لگتا بے۔ عزیز و اقارب، غربا و مساکین، بیماروں، ضرورت مندوں کے ساتھ بھلائی کرنی چاہئے، لیکن جب نیکی کے سیگمنٹ میں ان غریب ضرورتمندوں کو لاکر بٹھایا جاتا ہے اور پھر ان کے چہروں پر کیمرے فوکس کئے جاتے ہیں تو یقین کریں ان کی کہانی سن کر دل تو پسیجتا ہی ہے، لیکن ان کو اس طرح ٹی وی پر مدد کے لئے منتظر دیکھ کر خود سے نظریں نہیں مل پاتیں۔ ٹی وی سکرین پر نظر آنے والے یہ ضرورتمند ان خود کش بمباروں کی طرح لگتے ہیں جو جنت کے لالچ میں اپنے ساتھ بم باندھ کر خود کو اڑا لیتے ہیں۔ سفید پوش لوگوں کا اس طرح پوری دنیا کے سامنے آکر مانگنا بھی جسم کے ساتھ بم باندھ کر خود کو اڑانے جیسا ہی ہے۔ ان کے چہروں پر کسمپرسی کی جو داستانیں رقم ہوتی ہیں، وہ کوئی نہ بھی بتائے تب بھی پڑھی جاتی ہیں۔ ضرورت مندوں کو اس طرح نشریات میں لانا موٹیویشنل تو ہوسکتا ہے،لیکن ان کی انا پر جو ضرب لگتی ہے وہ شائد ہی کسی نے کبھی محسوس کی ہو۔ وہ بیچارے تو اپنی تکلیف اور پریشانی سے مجبور ہو کردنیا کے سامنے آتے ہیں، لیکن مدد کرنے والوں کی تو ایسی کوئی مجبوری نہیں ہوتی کہ وہ دنیا کو بتا کر ہی مدد کریں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ سب نیک نیتی سے کیا جاتا ہے۔اس سے بلاشبہ لوگوں کی مدد ہوجاتی ہے، لیکن کیاضروری ہے کہ ان ضرورت مند چہروں کو دنیا کے سامنے لایا جائے؟ کیا یہ مقام تذلیل نہیں کہ کسی ضرورت مند کو اس طرح پوری دنیا کے سامنے ننگا کیا جائے۔ ایک تو وہ پہلے ہی مجبور ہے، دوسرا ہم اس کو ٹی وی پر بٹھا کر اس کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں۔ کیا غضب ہے کہ ہم پہلے لاچار ڈھونڈتے ہیں، پھر انھیں دنیا کے سامنے بٹھا کر ان کی غربت کا تماشہ لگاتے اوران کی مدد کرتے ہیں۔ ٹھیک ہے اس طرح مستحقین کی مدد ہوجاتی ہے، لیکن مدد کا ایک طریقہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ ان مستحق لوگوں کو فون کال پر لے لیا جائے، ان کے چہرے دنیا کے سامنے نہ لائے جائیں، صرف ان کی کہانی سنا کر ان سے رابطے کا نمبر سکرین پر چلادیا جائے کہ جس نے دینا ہے اس نے انسانی چہروں کو نہیں راہ خدا میں دینا ہے، تو پھر کسی کا پردہ رکھ کر کیوں نہ دیا جائے۔


 سوال یہ ہے کہ کیا آپ دکھاوے کے لئے کسی کی مدد کرتے ہیں؟ اس لئے دیتے ہیں کہ لوگ آپ کی واہ واہ کریں؟ کیا ضروری ہے کہ اپنی انا کی تسکین اور اپنی مشہوری کے لئے دوسرے کے وقار کی دھجیاں اڑائیں؟ غریب ہونا جرم نہیں اور امیر ہونا کوئی کرشمہ نہیں۔ یہ خدا کی تقسیم ہے، کچھ لوگوں کو خدا دیتا ہی اس لئے ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کریں۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے، انہیں ہر حال میں دینا ہی ہے، وہ اگر نہ چاہیں تب بھی۔ تو اگر آپ نے اپنے سخی ہونے کی تشہیر کرنی ہے سو بار کریں۔ سوشل میڈیا پر اپنے امدادی ٹرکوں کی تصاویر شیئر کریں، امدادی رقوم کی تفصیل بتائیں، لیکن خدارا جن کی مدد کرتے ہیں، ان لوگوں کی چہروں کو سامنے مت لائیں، دوسروں کی کسمپرسی کا اشتہار مت لگائیں، خدا کو یہ فعل سخت ناپسند ہے۔ دینے کا حکم تو یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے دیں تو بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو، تشہیر کو فرض نہ سمجھ لیں۔ رمضان المبارک احترام کا مہینہ ہے، اس مہینے کی حرمت کو سمجھیں، ضرورت مندوں کے ساتھ نیکی کریں، نیکی کا تکبر مت کریں۔ کسی کی مدد کرنا براہ راست خدا سے کاروبار کرنا ہے، تو جب خدا سے کاروبار کررہے ہیں تو پھر کسی اشٹامپ پیپر کی ضرورت نہیں رہتی۔

مزید :

رائے -کالم -