اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم شرمندہ ہیں 

 اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم شرمندہ ہیں 
 اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم شرمندہ ہیں 

  

 خلافت عثمانیہ کے چھ سو سالہ دور حکومت میں 36 عثمانی سلاطین برسر اقتدار رہے، لیکن وقت نے جو رتبہ، مرتبہ اور مقام خلیفہ عبدالحمید ثانی کو دیا اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد یہ فضیلت کسی کو نصیب ہوئی سلطان عبدالحمید خلافت عثمانیہ کے آخری بااختیار، بااثر، قابل ترین حکمران تھے یہ ایک عظیم عاشق رسولؐ  بھی تھے جو اپنی معاملہ فہمی،پلاننگ،خارجہ پالیسی،امور ریاست پر گرفت کی وجہ سے ساری دنیا میں مقبولیت حاصل کیے ہوئے تھے سلطان عبدالحمید کا دور خلافت عثمانیہ کا مشکل ترین دور تھا ریاست کو اندرونی اور بیرونی بیشمار سازشوں کا سامنا تھا۔ 

انہوں نے سلطنت کو مضبوط کرنے کے لئے الحمیدیہ حجاز ریلوے کے نام سے ایک عظیم منصوبہ شروع کیا حجاز ریلوے کا روٹ استنبول سے شروع ہوکر شام، فلسطین،عرب کے ریگستانوں سے ہوتے ہوئے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ پر اختتام پذیر ہونا تھا اس ریلوے کا مقصد حج بیت اللہ اور زیارت کے سفر کو آسان بنانے کے ساتھ سلطنت کو ایک مضبوط روٹ سے منسلک کرنا تھا اونٹوں، گھوڑوں کے مہینوں پر محیط سفر کو کم کر کے پانچ دن میں زائرین کو  مکہ مکرمہ پہنچانا تھا اس ریلوے منصوبے سے امت مسلمہ کو بہت امیدیں وابستہ تھیں، کیونکہ ان کے دو مقدس شہروں مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ تک رسائی مہینوں کی بجا ے چند دنوں میں ہونی تھی یہی وجہ تھی کہ دنیا کے ہر کونے سے مسلمانوں نے سلطنت عثمانیہ کے قونصل خانوں میں دل کھول کر عطیات جمع کروائے حجاز ریلوے ٹریک کو یکم ستمبر سال انیس سو میں دمشق سے شروع کیا گیا صرف چار سالوں میں چار سو ساٹھ کلو میٹر ٹریک کا کام مکمل کر لیا گیا اسے آٹھ سالوں میں مدینہ منورہ تک مکمل ہونا تھا۔

 سلطان عبد الحمید جب مدینہ منورہ ریلوے اسٹیشن کا افتتاح کرنے پہنچے تو اس وقت فضا حیرت میں ڈوب گئی اس وقت ریلوے ٹکنا لو جی کوئلے تک پہنچی تھی افتتاحی تقریب میں شریک سلطان نے جب دیکھا کہ انجن سے بہت شور ہو رہا ہے اسی وقت سلطان کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا وہ کچرا اٹھا کر انجن کو مارنے لگے اور کہا کہ میرے نبی کے شہر میں تمہاری اتنی آواز آج تقریبا سو سال گزرنے کے بعد بھی جو انجن اس وقت بند کیا گیا تھا مدینہ منورہ کے تر کی سٹیشن پر کھڑا ہے جو آج بھی ترکوں کی آقاء  دو جہاں سے والہانہ محبت، عشق اور ادب کی گواہی دے رہا ہے قوموں میں یقینا کچھ خوبیاں ہوتی ہیں ایسے ہی تو رب کریم کسی کو چھ سو سال تک حکمرانی سے نہیں نواز دیتا گزشتہ دنوں مسجد نبوی میں پیش آنے والے واقعہ نے اس بات پر مہر ثبت کردی ہے کہ ہم با ئیس کروڑ لوگوں کا ہجوم ہیں مسجد نبوی میں تبدیلی سرکار کی پلاننگ کے تحت نعرے بازی نے قوم یوتھ کو جہالت کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے انتہائی شرم کی بات ہے کہ دنیا کے سب سے عظیم کمانڈر رہبر، عالم،معلم،دائی اور دنیا کے سب سے بڑے لیڈر کے دربار میں جو طوفان بدتمیزی اٹھا اس نے ساری دنیا میں اس ہجوم کا سر شرم سے جھکا دیا یہ وہ مقام ہے جہاں پر فرشتے بھی ادب میں رہتے ہیں جس کی عظمت اتنی ہے کہ اونچی آواز میں بات کرنا بھی منع ہے وہاں ان لوگوں نے کیا کیا۔

چور چور ڈاکو ڈاکو کے نعرے لگاتے رہے،حالانکہ وطن عزیز سمیت دنیا کی کوئی عدالت بھی انہیں چور ثابت نہیں کر سکی یہ تو محض ایک بدتمیز بیشرم،مکار،نااہل ٹولے کا اپنا بنایا ہوا بیانیہ ہے شیخ رشید کے ساتھ عمران خان کے قریبی ساتھی جہانگیر عرف چیکو سابقہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بیرونی سرمایہ کاری اور اس کے ساتھ اسی طرح کے کچھ اور مردہ ضمیروں نے پلانگ کی وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں کے عمر ہ پر روانگی سے پہلے چیکو خود سعودی عرب پہنچا پختونخوا کے ان لوگوں سے رابطہ کیا جو محنت مزدوری کی غرض سے سعودیہ میں مقیم تھے ان سب کا تعلق پختون غریب گھرانوں اور پختونخوا کے دور افتادہ علاقوں سے تھا یہ لوگ اپنے بچوں کی دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے محنت مزدوری کرتے تھے پی ٹی آئی نے اپنے سوشل میڈیا پر پراپیگنڈے کے زور پر ان سادہ لو ح مزدوروں کو استعمال کیا سعودی عرب جیسے ملک میں جہاں قوانین بھی بہت سخت ہیں مسجد نبوی میں نعرے بازی کروائی جہاں پر سیاست شجر ممنوع ہے۔حرم شریف میں نعرے لگانے والوں کو دیہاڑی کا لالچ دے کر استعمال کیا گیا ان میں سے ایک لڑکا عرفان جٹ تھا جو فیصل آباد کا رہائشی تھا جو گرفتار ہوا اس کو بیس ہزار ریال جرمانہ،اقامہ کینسل، سعودیہ میں تاحیات داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

 اس واردات کو سرانجام دینے کے بعد چیکولندن فرار ہو گیا اس ساری واردات کا ماسٹر مائنڈ شیخ رشید کا بھتیجا تھا اور باقی گرفتار مزدوروں کے ساتھ جو سلوک سعودی حکومت کرے گی اس کا اندازہ شاید کسی کو بھی نہیں اور اس سے بھی افسوسناک بات یہ ہے پاکستان میں موجود ذہنی غلام یوتھیے اس واردات کو بھی سوشل میڈیا پر ڈیفینڈ کرتے نظر آئے۔اس افسوسناک واردات کے بعد آپ خود فیصلہ کر لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں نہ ہم دین کے رہے نہ دنیا کے یا یوں کہہ لیں کہ ہمارے ساتھ تو دھوبی کے کتے والی ہوئی پاکستان کے سارے ہجوم کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے قوم کب بننا ہے یہ سیاسی جماعتیں اپنے ورکروں کو صرف استعمال کرتی ہیں اور اپنے مفادات حاصل کرنے کے بعد ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتی ہیں اگر دنیا اور آخرت میں کامیابی چاہتے ہو تو فیصلہ کر لیں کہ کسی سیاسی جماعت کے لیے اپنی عزت و وقار کا سودا نہیں کریں گے ساری پاکستانی قوم رب کو حضور سر بسجود ہو کر معافی مانگنی ہوگی برائے کرم ساری قوم اکٹھی ہوکر شرمساری کے ساتھ ایک مجرم قوم کی طرح رب کے حضور پیش ہو جائے اور معافی مانگ لے وہ رحیم ہے وہ کریم ہے وہ معاف فرما دے گا نہیں تو اس سارے ہجوم کو اس گناہ کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا بے شک ہم رب کے عذاب کو جھیلنے کے قابل نہیں ہیں یا اللہ تو اپنے نبی کے صدقے ہمیں معاف فرما دے ہم تیرے اور آقائے دو جہاں کے گنہگار ہیں یا رب ہم پر اپنا کرم فرما دے،اے نبی ہم شرمندہ ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -