لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد کیخلاف ریفرنس بھیج رہا ہوں،ایک صوبیدار اور 4جوان دیدیں تو حمزہ شہباز کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دوں:گورنر پنجاب

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد کیخلاف ریفرنس بھیج رہا ہوں،ایک صوبیدار اور 4جوان ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


         لاہور (مانیٹرنگ دیسک، نیوز ایجنسیاں) گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ مجھے ایک صوبیدار اور 4 جوان مہیا کر دیں تو میں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو گرفتار کر کے جیل میں ڈلوا دوں۔ایک بیان میں گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ آئینی اور قانونی بحران کا شکار پنجاب کو طاقت کے زور پر یرغمال بنا لیا گیا ہے۔عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ بڑی سیاسی جماعتوں کی خاموشی انتہائی تشویشناک ہے، وزیراعلیٰ بننے کے لیے حمزہ شہباز فارمولا قابل قبول ہے تو باقی صوبے اپنی فکر کریں، ایسے تو پھر اواب علوی اگلے وزیراعلیٰ سندھ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے سیاسی جدوجہد کے دوران ہمیشہ نیوٹرل امپائر کا مطالبہ کیا، حقیقی معنوں میں نیوٹرل امپائر دونوں ٹیموں کے لیے یکساں اصول رکھتا ہے۔گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ مجھے ایک صوبیدار اور 4 جوان مہیا کر دیں تو میں حمزہ شہباز کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالوا دوں۔اس سے قبل گورنر  پنجاب نے آرمی چیف کو صدر مملکت اور  وزیر اعظم کو لکھے گئے خطوط کی نقول بھی بھیجوا دیں۔خط میں گورنر پنجاب نے آرمی چیف سے پنجاب کی موجودہ صورتحال میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف پنجاب میں آئینی فریم ورک پر عمل درآمد کیلئے کردار ادا کریں۔خط میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر عوامی اعتماد بحال کرنے کیلئے بھی کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل عمر سرفراز چیمہ کا وزیراعظم شہباز شریف کو لکھا گیا خط سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ کوئی طاقت مجھے آپ کے بیٹے کے غیر آئینی اقدامات کو روکنے سے منع نہیں کر سکتی، میں تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر آئین پاکستان کی حفاظت کروں گا۔اس حوالے سے عمر سرفراز چیمہ نے ٹوئٹ بھی کی اور کہا کہ ’صورتحال سے میں نے سرکاری طور پر جناب وزیراعظم  پاکستان اور دیگر آئینی اداروں کے سربراہان کو مطلع کردیا ہے، لکھ دیا ہے تاکہ سند رہے آئینی و قانونی طور پر جو میرے اختیار میں تھا وہ کیااس سے قبل گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو پنجاب کے سیاسی بحران اور آئینی تعطل کے بارے میں خط لکھاجبکہ پنجاب میں تمام غیر آئینی عمل کا ذمہ دار حمزہ شہباز کو قرار دیا گیا ہے۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار کا بطور وزیراعلی استعفیٰ متنازعہ ہے، (ن) لیگ نے پنجاب اسمبلی میں ڈی فیکٹو ممبران کی مکروہ حمایت حاصل کی، وفاداری تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ وزیر اعلی کے متنازعہ الیکشن کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا، پنجاب میں تمام غیر آئینی عمل کا مرکزی کردار حمزہ شہباز ہے، جنہوں نے وزیراعظم کا بیٹا ہونے کا فائدہ اٹھایا ہے۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ الیکشن کی رپورٹ پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ نے مجھے بھجوائی، سیکرٹری اسمبلی نے فراڈ الیکشن سے متعلق قانونی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔متن میں کہا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بھی وزیراعلی کے انتخاب کو غیر قانونی قرار دیا، ایڈووکیٹ جنرل نے ڈپٹی اسپیکر کے نتیجے میں بھی قانونی خامیوں کی نشان دہی کی۔گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ میں نے صدر پاکستان کو خط لکھ کر حقائق سے آگاہ کرکے رہنمائی مانگی، حالیہ الیکشن پنجاب اسمبلی کی 100 سالہ تاریخ پر سیاہ دھبہ ہے، چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب نے اس معاملے میں گھناؤنا کردار ادا کیا۔خط کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ ان افسران نے گورنر پنجاب کے دفتر کے تمام اختیارات سلب کیے، حلف برداری کی تقریب سے قبل گورنر ہاؤس کو سکیورٹی کے نام پر حصار میں لیا گیا، چیف سیکرٹری نے ہائیکورٹ کے حکم کا جواز بناکر گورنر کو دبا ؤمیں لانے کی کوشش کی۔گورنر پنجاب نے اپنے خط میں کہا کہ وزیر اعلی کے الیکشن میں بھی ان افسران نے ارکان اسمبلی پر تشدد میں کردار ادا کیا، آپ نے بطور وزیراعظم اختیارات کا غیر آئینی استعمال کرکے ملک کو سیاسی بحران کی طرف دھکیلا۔ خط میں وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ آپ اور آپ کے بیٹے، مریم نواز اور نوازشریف اورخاندان کے دیگر افراد پر مجرمانہ کیسز ہیں، ملک کی بدقسمتی ہے کہ آپ اور آپ کا بیٹا ضمانت پر ہونے کے باوجود اہم عہدوں پر ہیں۔متن میں کہا گیا کہ کوئی طاقت مجھے آپ کے بیٹے کے غیر آئینی اقدامات کو روکنے سے منع نہیں کر سکتی، میں تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر آئین پاکستان کی حفاظت کروں گا۔گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز کی حلف برداری کا فیصلہ سنانے والے جج کے خلاف بطور گورنر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیج رہا ہوں، عالمی سازش کی وجہ سے بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا، آج عمران خان کے خلاف سازش ہوئی اور ایک جمہوری حکومت کو ختم کیا گیا،آج جمعہ صدر پاکستان سے ملاقات میں آئینی نکات پر تبادلہ خیال کروں گا اور بعدازاں آرمی چیف سے ملاقات کروں گا، کیونکہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا مسئلہ ہے جسے ایک انوکھے لاڈلے نے یر غمال بنایا ہوا ہے،شہباز شریف کو نصیحت کی کہ اپنے بیٹے کو سمجھائیں، اگرآپ نے انہیں اپنے وزارت اعلی کے دور میں ہی روک دیا ہوتا توآج صوبے میں یہ بحران نہ ہوتا، میں نے پہلے بھی کہا کہ یہ آئینی اور قانونی طریقے سے انتخابات لڑ کر آئے تو میں خود اس کا حلف لوں گا۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر پنجاب عمر سرفرازچیمہ نے کہا کہ ہم سوچ رہے تھے کہ ان کو فوری باہر سے پیسے مل جائیں گے، ان کے حلف لیتے ہی 8سے10ارب ڈالر قومی خزانے میں آ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پہلے دن جب سے سابق وزیر اعظم نے مجھے نامزد کیا اور صدر پاکستان مجھے گورنر کے عہدے پر تعینات کیا تب اتنا بحران نہیں تھا جتنا آج پیدا ہوگیا ہے، اس وقت صرف وزیر اعلی پنجاب نے استعفیٰ دیا تھا اور نئے وزیر اعلی کے لیے انتخاب ہونا تھا، مجھے لگا تھا یہ معاملہ جلد حل ہوجائے گا۔گورنر کے عہدے کی پیشکش قبول کرنے کا واحد مقصد یہ تھا کہ میں لوگوں کے لیے آسانی کرنے کی کوشش کروں گا، مجھے خوشی ہے کہ ان چند دنوں میں کچھ کام کرنے میں کامیاب ہوگیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ انوکھے لاڈلے کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے،  جو واردات مرکز میں ہوئی وہی پنجاب میں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس بحران میں تین طرح کے کردار سامنے آئے، ایک عدالت، پارلیمنٹرین اور سیاسی جماعتیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں یہ بات فخر سے کہتا ہوں کہ پنجاب کی عدلیہ نے اس تمام تر دبا ؤکے باوجود فیصلے دئیے، انہوں نے دبا ؤکے باجود کوئی غیر آئینی فیصلہ نہیں سنایا، ان وارداتیوں نے عدالت سے جو فیصلہ لیا وہ حقائق کو توڑ مروڑ کر لیا گیا، عدالت کو دھوکہ دے کر  غلط فیصلہ کروایا۔پنجاب میں وزیر اعلیٰ کاجو انتخاب ہوا اسے ہم کسی بھی نوعیت سے انتخابات قرار نہیں دے سکتے کہ میں انتخاب لڑ رہا ہوں اور میں اپنا ووٹ ہی نہ ڈالوں۔یہ کوئی انتخابات نہیں کہ ایک غنڈا بیلٹ باکس پرکھڑا کردیا جائے اور میرے ووٹرز کو مار مار کر وہاں سے بھاگنے پر مجبور کردے، یہ کس معیار کا انتخاب ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پارلیمنٹ کا کردار آتا ہے، اگرپارلیمنٹرین اپنے ایوان کے تقدس کو ہی نہیں بچا سکتے تو انہوں نے عوام کے حقوق کو کیا ریلیف دینا ہے، اس سارے بحران میں یہ بات سامنے آئی کہ لگتا ہے پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں موجود رہنماؤں اور کارکنان نے کبھی پاکستان کی سیاسی تاریخ پڑھی ہے نہ پاکستان کا آئین پڑھا ہے۔ اگر سیاسی تاریخ پڑھی ہوتی تو انہیں یاد ہوتا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا سیاسی قتل کیسا ہوا کیسے ان کے خلاف بیرون ملک سازش ہوئی، آپ نے آبا ؤاجداد نے آپ کو پکی پکائی ایم این اے ایم پی اے شپ دے دی ہے۔نیشنل سکیورٹی کانسل کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہاں بیرون ملک طاقتوں کے ذریعے سازش ہوئی ہے اور سازش بغیر مداخلت کے کامیاب نہیں ہوتی، اس مداخلت میں ملکی کردار شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے چیف سیکرٹری کو دباؤ میں لے کر نوٹیفکیشن جاری کروایا اور لاہور ہائیکورٹ سے غیر آئینی فیصلہ کروایا، فیصلہ کیا ہے کہ ہم جسٹس جواد حسن کے خلاف قانون کارروائی کریں گے اور بطور گورنر پنجاب میں ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کانشل میں ریفرنس بھیج رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس سیاسی بحران کے جو دو مرکزی کردار ہیں وہ وزیر اعظم اور ان کا بیٹا ہے، باپ نے مرکز سے حکومت کو ہٹایا اور عدلیہ کا استعمال کیا گیا اس پر کسی بھی پارلیمنٹرین نے احتجاج نہیں کیا اور اس کا نتیجہ ہم نے پنجاب میں دیکھا۔میں نے وزیر اعظم کوایک اوپن ڈیبیٹ کی آفر کی تھی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کے رہنما خود مجھ سے متفق ہیں، ان جماعتوں میں سب کرپٹ نہیں ہیں، اچھے لوگ بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ڈکٹیشن لینا والا بندہ نہیں ہوں، میرے پاس کوئی فورس نہیں ہے، جس دن انہوں نے گورنر ہاس کو یرغمال بنایا تو میں نے ایس ایچ او سے لے کر چیف جسٹس تک سب سے رابطہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ میں آج صدر پاکستان سے ملاقات میں آئینی نکات پر تبادلہ خیال کروں گا اور بعدازاں آرمی چیف سے ملاقات کروں گا کیونکہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا مسئلہ ہے جسے ایک انوکھے لاڈلے نے یر غمال بنایا ہوا ہے۔گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے کہا ہے کہ گورنر نہ ہوتا تو عوام سے مدد کا مطالبہ کرتا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنے بیان سے واضح کر دیا ہے کہ اس صورتحال میں کیسی مداخلت کی توقع رکھتا ہوں اور کیا ضرور ت ہے۔گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ ماضی میں سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ ٹرپل ون بریگیڈ کا مطالبہ کیا ہے، میں نے تو کہا ہے کہ مجھے ایک صوبیدار اور 4 جوان ہی مہیا کر دیں۔
گورنر پنجاب

مزید :

صفحہ اول -