احتساب اور شفافیت کیلئے قوانین پر تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائیگی:شہباز شریف

احتساب اور شفافیت کیلئے قوانین پر تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


         لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم شہباز شریف نے اتحادیوں کے تعاون سے ملک کو درپیش معاشی اور دیگر چیلنجز پر قابو پانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت شدید معاشی دبا ؤکا شکار ہے لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،اجتماعی ذمہ داری کے تحت اتحادی جماعتوں کے تعاون سے ان مسائل کو حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔رائے ونڈ میں پارٹی رہنماؤں، اراکین اسمبلی،کارکنوں اور عوام سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے عندیہ دیا کہ جلد قوم سے خطاب کروں گا اور ان چیلنجز کا تفصیل سے ذکر کروں گا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کو ترقی اور خوشحالی کی طرف اس سفر کو لگن اور محنت کے ساتھ ایمانداری کے ساتھ طے کرنا ہوگا۔انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی قیادت میں حکومت تیز ترقی اور خوشحالی کا سفر دوبارہ شروع کرے گی جو 2018 میں تعطل کا  شکارہو گیا تھا،سابقہ نااہل حکومت نے معیشت کو تباہ کر دیا تھا۔وزیراعظم نے گزشتہ چار سالوں کے دوران مسلم لیگ (ن)کی قیادت کی مسلسل حمایت پر عوام اور پارٹی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان اور مسلم لیگ (ن)کی قیادت آپ کی بھرپور حمایت کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔شہباز شریف نے کہا ہے کہ احتساب اور شفافیت کی آڑ میں افسران کو بلاوجہ ہراساں کیا گیا، قومی خدمت ہمارا نصب العین ہے، اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت قبول نہیں۔وہ یہاں گزشتہ روزریٹائرڈ اور حاضر سروس سول انتظامیہ کے افسران سے ملاقات کر رہے تھے، افسران نے وزیراعظم کو گورننس، انتظامی امور اور پالیسیوں کے نفاذ کے بارے میں اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ دل کی گہرائیوں سے آپ کو عید کی مبارک باد پیش کرتا ہوں، پاکستان کی خوشی قسمتی ہے کہ یہاں آپ جیسے قابل افسران موجود ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ قابل افسران ملکی ترقی و خوشحالی میں حکومت کی رہنمائی اور معاونت کرتے ہیں، میٹرو، اورنج لائن جیسے پروجیکٹ افسران و دیگر حکومتی اہلکاروں کی محنت کا نتیجہ ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ احتساب اور شفافیت کے لیے قوانین پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی، سول سرونٹس حکومتی ٹیم کا حصہ ہوتے ہیں، ان کے خدشات کا تدارک ضروری ہے۔اس موقع چیف سیکریٹری پنجاب، مختلف محکموں کے سیکریٹریز، سابق چیف سیکریٹریز اور مختلف محکموں کے سربراہ بھی موجود تھے۔اس سے قبل پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر، پٹرولیم سمیت دیگر اہم شعبوں میں دوطرفہ معاشی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری مشترکہ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ متحدہ عرب امارات کے تسلسل میں متحدہ عرب امارات کے معاشی وفد نے گزشتہ روز پاکستان کا اہم دورہ کیا اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں عیدالفطر کی مبارکباد دی اور عید کی تعطیلات میں پاکستان آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتی ہے اور خاص طور پر معاشی محاذ پر ان تعلقات کو بلندیوں کی ایک نئی سطح پر لیجانے کی خواہشمند ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عید الفطر کی تعطیلات میں معاشی وفد کی آمد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حکومت کی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی کا مظہر ہے۔ پاکستان متحدہ عرب امارات کے اس برادرانہ طرز عمل کا تہہ دل سے خیر مقدم کرتا ہے اور امارات کے بھائیوں کی پاکستان میں خاطر خواہ اور نمایاں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کو خوش آمدید کہتا ہے۔ ملاقات میں فریقین نے تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر، پٹرولیم سمیت دیگر اہم شعبوں میں دوطرفہ معاشی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے سرمایہ کاری اور تجارت سے متعلق دونوں ممالک کی قیادت کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔وزیراعظم محمدشہباز شریف نے کہا ہے کہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی میں تنزلی ہوئی ہے اور عمران خان کی حکومت کے ایک سال میں 12 پوائنٹس کی تنزلی ہوئی ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ عمران حکومت کے آخری سال پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان 12 پوائنٹس نیچے گیا جبکہ پورے دور حکومت میں 18 پوائنٹس تنزلی ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آزادی صحافت کی درجہ بندی میں تنزلی پر نہ صرف عمران خان کو آزادی صحافت کے شکاری کا شرمناک خطاب ملا بلکہ ہماری جمہوریت بھی بدنام ہو وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ عالمی برادری افغانستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے افغان عوام کی ہنگامی امداد کے لئے آگے آئے۔ افغانستان کے 10 صوبوں میں سیلاب، قیمتی جانوں اور مالی نقصانات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا ک سیلاب کے نتیجے میں افغانستان میں پہلے سے جاری انسانی بحران میں مزید شدت پیدا ہونے کا خدشہ ہے، بروقت اقدامات نہ ہوئے تو جانی نقصانات بڑھنے کا خطرہ ہے، ہنگامی اقدامات درکار ہیں۔وزیراعظم نے افغان عبوری حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں افغان عوام کے ساتھ ہیں، ہر ممکن امداد کریں گے،وزیراعظم شہباز شریف کا ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ٹیلی فونک رابطہ شہباز شریف نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان کو عید کی مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں مل کر پاکستان اور پاکستانیوں کو مشکلات سے نکالنا ہیزیر اعظم شہباز شریف سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی برجیس طاہر نے لاہور میں ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی۔برجیس طاہرنے وزیر اعظم شہباز شریف کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے کامیاب دوروں پر مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔وزیراعظم شہباز شریف  نے لاہور کے مختلف علاقوں کا اچانک دورہ کیا اور  شہر میں امن وامان   اور صفائی کی صورت حال کا جائزہ لیا۔ تفصیلات کے  مطابق وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو بغیر پروٹوکول شہرکے دورے پر نکلے، وزیراعظم نے جیل روڈ،کلمہ چوک، مال روڈ،گلبرگ اور مزنگ کا دورہ کیا، وزیراعظم  نے لا  اینڈ آرڈر اور صفائی کی صورت حال کا جائزہ بھی لیا۔اس حوالے سے وڈیو بھی منظر عام پر آئی جس میں انہیں ڈرائیور کے ساتھ بغیر پروٹوکول گاڑی میں دیکھا جاسکتاہے کہ وہ رات کے وقت  لاہور کے علاقوں کا دورہ کررہے ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت کا عوام سے تعلق نہ ہونے کے برابر تھا، عوام سے محبت نہ ہونے کے باعث پچھلے دور حکومت میں کرپشن عروج  پر تھی، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو کنٹرول بھی نہیں کیا گیا۔بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف  سابق رہنما ن لیگ پرویز ملک مرحوم کے گھر بھی گئے۔ شہبازشریف نے شائستہ پرویز ملک اور  اہلخانہ سے ملاقات کی، وزیراعظم شہباز شریف نے علی پرویز ملک سے بھی ملاقات کی۔
وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -