عوام کی کسی کو فکر نہیں، کرپشن اور مافیاز نے تمام ادارے تباہ کر دیئے: سراج الحق 

عوام کی کسی کو فکر نہیں، کرپشن اور مافیاز نے تمام ادارے تباہ کر دیئے: سراج ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  

لاہور(این این آئی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے، قوم اتفاق و اتحاد سے ملک کی تعمیر میں کردار ادا کرے، ایماندار اور اہل قیادت کو آگے لائے اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد کا ساتھ دے۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ شدید پولرائزیشن کا شکار عوام میں دوریاں ختم کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔ ملک کسی مزید مہم جوئی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ الیکشن ریفارمز کے ساتھ انتخابات مسائل کا حل ہیں۔ مفادات کی سیاست نے ملک تباہ کردیا، عوام مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں۔ تینوں بڑی جماعتوں نے اپنے دور اقتدار میں مسائل کم کرنیکی بجائے ان میں اضافہ کیا۔ سیاسی پارٹیوں کو دانشمندی کا ثبوت دینا ہوگا۔ الیکٹینلز کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا۔ جاگیرداروں، وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں نے اقتدار میں رہ کر اپنی نسلوں کے لیے مال جمع کیا، عوام کی کسی کوفکر نہیں۔ کرپشن اور مافیاز نے تمام ادارے تباہ کردیے۔ موجودہ حکومت نے آتے ہی سابقہ حکومت والے کام شروع کردیے۔ ملک کب تک آئی ایم ایف  کے اشاروں پر چلتا رہے گا۔ سودی نظام کو ختم کرکے اسلامی معیشت کا ماڈل اپنانا ہوگا۔ سود اللہ تعالی سے جنگ ہے، اس جنگ کو ختم کیے بغیر ترقی و خوشحالی حاصل نہیں ہوسکتی۔ جماعت اسلامی قوم کو اللہ کے نظام کی طرف بلا رہی ہے، ظالموں کا ساتھ دیا جاتا رہا تو اللہ کی خوشنودی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تیمرگرہ تالاش میں عیدملن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سراج الحق نے کہا کہ اللہ تعالی کا شکرہے کہ ہمیں ماہ رمضان جیسی عظیم نعمت ملی اور ہم نے رمضان المبارک کے روزے رکھے۔رمضان ہمیں ایثار اور قربانی کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس دفعہ عید کے مبارک موقع پر ہمیں بہت الگ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، لوگوں میں تفریق خطرناک صورتحال اختیار کرچکی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔نفرت اور دشمنی کے الزامات والی شدید تقسیم اور پولرائزڈ سیاسی ماحول میں، تمام سیاسی لیڈرز کو سیاسی ماحول کی تنزلی پر حقیقی معنوں میں فکر مند اور پریشان ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی کا راستہ اپنانا چاہیے۔ سیاست میں گالم گلوچ اور تشدد کے کلچر کو ختم کرنا ہو گا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈرز،ورکرز اور سپورٹرز کو کہتا ہوں کہ نفرت، عدم برداشت اور الزامات کی سیاست سے ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگائیں۔
سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -