سعودی عرب اور امریکہ کے باہمی تعلقات تنزلی کا شکار ہیں،شہزادہ ترکی الفیصل

  سعودی عرب اور امریکہ کے باہمی تعلقات تنزلی کا شکار ہیں،شہزادہ ترکی الفیصل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ریاض (این این آئی)سعودی عرب کے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ اور امریکا اور برطانیہ میں تعینات رہنے والے سابق سعودی سفیر شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور امریکا کے باہمی تعلقات تنزلی کا شکار ہیں، سعودی عوام ایک ایسے وقت میں مایوسی محسوس کر رہے ہیں جب ان کا ماننا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کو مل کر خلیجی خطے کے استحکام اور سلامتی کو درپیش خطرات کا سامنا کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ  ہم سکول کے بچے نہیں ہیں کہ ہمیں سزا اور انعام دیا جائے،ہم خود مختار ملک ہیں، ہمارے ساتھ منصفانہ اور شفاف سلوک کیا جاتا ہے تو ہم اس کا اسی انداز میں جواب دیتے ہیں۔عرب میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہزادہ ترکی الفیصل نے سعودیہ عرب کو درپیش حالایہ خطرات کی نشاندہی کی۔ خاص طور پر ایران کے یمن میں اثر ورسوخ اور حوثیوں کا آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جانا، جس کا مقصد نہ صرف سعودی عرب کو عدم استحکام سے دوچار کرنا بلکہ بحیرہ احمر، خلیج اور بحیرہ عرب کے ساتھ عالمی سمندری راستوں کی سلامتی اور استحکام پر بھی اثرانداز ہونا ہے۔شہزادہ ترکی نے عرب نیوز کے پروگرام فرینکلی سپیکنگ کی میزبان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر بائیڈن نے حوثیوں کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا، انہوں نے حوثیوں کا حوصلہ بڑھایا اور ان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر حملوں کو مزید جارحانہ بنا دیا ہے۔ شہزادہ ترکی نے کہا کہ ہم سکول کے بچے نہیں ہیں کہ ہمیں سزا اور انعام دیا جائے۔ ہم خود مختار ملک ہیں اور جب ہمارے ساتھ منصفانہ اور شفاف سلوک کیا جاتا ہے تو ہم اس کا اسی انداز میں جواب دیتے ہیں۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سیاست دان جہاں کہیں بھی ہوں ان کی جانب سے ایسے بیانات دیئے جاتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات اس اصول کے گرد نہیں گھومیں گے یا اس پر استوار ہوں گے۔اس سوال پر کہ آیا متعدد سعودی یہ محسوس کرتے ہیں انہیں قریب ترین اتحادیوں میں ایک نے دھوکہ دیا، شہزادہ ترکی نے کہا کہ ہم نے امریکہ کے اپنے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ سٹریٹیجک سمجھا ہے۔ان کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے تعلقات میں اتار چڑھا آتے رہے ہیں اور شائد اس وقت یہ ان نشیبوں میں سے ایک ہے۔ خاص طور پر اس وقت سے جب امریکہ کے صدر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا کہ وہ سعودی عرب کو تنہا چھوڑ دیں گے۔ اور بلاشبہ جو بات انہوں نے کی انہوں نے اسے عملی شکل دینا شروع کر دیا۔سب سے بڑھ کر ان مشترکہ کارروائیوں کو روک دینا جو امریکا اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن میں یمنی عوام کے خلاف حوثیوں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے کرتا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر واشنگٹن فون کالز اور حکام کے دوروں کی شکل میں ریاض سے رابطے قائم رکھنا چاہتا ہے لیکن یہ محض ایک معاملہ نہیں ہے،ہم ان بیانات کے مشکور ہیں لیکن دونوں قیادتوں کے درمیان تعلقات کے معاملے میں ہمیں مزید دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ترکی الفیصل

مزید :

صفحہ اول -