لودھراں: ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے2سالہ بچی چل بسی

لودھراں: ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے2سالہ بچی چل بسی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لودھراں (نمائندہ پاکستان)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے 2 سالہ بچی جاں بحق،ورثا کا بچی کی لاش اٹھا کر ہسپتال میں احتجاج، وزیراعلی کا نوٹس ایم ایس سمیت 5 ڈاکٹرز معطل انکوائری کمیٹی بنادی گئی تفصیل کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں موجود کالے والی کالونی نزد نادرا آفس کے رہائشی عبدالرزاق ولد سعید احمد جوکہ ایک فلور(بقیہ نمبر3صفحہ6پر)
 ملز میں محنت مزدوری کرتا ہے نے میڈیا کو بتایا کہ وہ رات دس بجے اپنی 2 سالہ بیٹی سحرش کو اسہال اور الٹی (گیسٹرو) کی کیفیت میں ہسپتال لے کر آیا ڈاکٹروں نے اسے چیک کرکے دوائی دی اور کہا کہ تمہاری بیٹی ٹھیک ہے گھر لے جاو لیکن گھر جاکر اس کی طبعیت مزید خراب ہوگئی تو میں اپنی بیٹی کو رات 2 بجے پھر ہسپتال لایا تو ڈاکٹروں نے بچی کو ڈرپ لگانے اور ہسپتال میں داخل کرنے کی بجائے یہ کہہ کر کہ تمہاری بیٹی ٹھیک ہے مجھے دوبارہ گھر بھیج دیا صبح 6 بجے میری بیٹی کی طبعیت پھر خراب ہوگئی تو میں اسے دوبارہ ہسپتال لایا جہاں ڈاکٹرسویا ہوا تھا اور میری بیٹی کو  چیک تک نہ کیا اور کہا کہ بالکل ٹھیک ہے بیٹی کو گھر لے جاو جب میں بیٹی کو واپس گھر لے کر پہنچا تواس کی حالت بہت زیادہ خراب ہوگئی میں دوبارہ ہسپتال بھاگا تو ہسپتال پہنچ کر وہ دم توڑ گئی میرے احتجاج پر دو سیکیورٹی گارڈز نے مجھ پر اسلحہ تان لیا جبکہ ڈاکٹر نے مجھے مبینہ تھپڑ رسید کیے عبدالرزاق نے الزام لگایا کہ ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے اس کی بیٹی فوت ہوئی ہے اس نے وزیراعلی سے انصاف فراہم کرنے اور ہسپتال عملے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے دوسری طرف ایم ایس ہسپتال ڈاکٹر قربان حسین کا کہنا ہے کہ بچی کو واقعی تین مرتبہ ہسپتال لایا گیا ہے سی سی ٹی وی فوٹیج سے متاثرہ شخص کے الزامات کا جائزہ لیا جائے گا غفلت یا کوتاہی ثابت ہونے پر ڈاکٹر اور عملے کے خلاف کاروائی کی جائے گی انہوں نے کہا کہ بچی کے ورثا نے اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں توڑ پھوڑ بھی کی ہے جبکہ وفات پانے والی بچی کے والد عبدالرزاق نے اپنی فوت ہونے والی بچی کی قسم اٹھا کر کہا کہ میں نے ہسپتال میں کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی ہے ہسپتال عملے نے خود توڑ پھوڑ کی اور الزام مجھ پر لگارہے ہیں دوسری طرف سیکریٹری ہیلتھ اور کمشنر ملتان نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈاکٹر قربان حسین سے رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ میڈیا پر خبر نشر ہوتے ہی ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ شعیب علی نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا وزٹ کیا اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ازوبا عظیم کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جوکہ 48  گھنٹوں میں واقعہ کی انکوائری کرکے مکمل رپورٹ جمع کروائے گی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سیکریٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ  ڈاکٹر تنویر اقبال نے غفلت برتنے پر  ایم ایس سمیت 5 ڈاکٹرز کو معطل کردیا ہے جبکہ ڈاکٹر تنویر اقبال نے ایم ایس سمیت پانچ ڈاکٹرز کی معطلی کی نہ تو تصدیق  کی اورنہ ہی انکار کیا انتظار کرنے کا کہا  اور کہا کہ ایسی غلطیوں کی معافی نہیں ملے گی اورانسانی جانوں سے کھیلنے والوں کی محکمہ ہیلتھ میں کوئی جگہ نہیں ہے