حکومت سودی نظام کے خاتمے کے لیے لیت و لعل سے کام نہ لے، ذیشان اختر

حکومت سودی نظام کے خاتمے کے لیے لیت و لعل سے کام نہ لے، ذیشان اختر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
بہاول پور(بیورورپورٹ)نائب امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب سید ذیشان اختر نے کہا کہ حکومت سودی نظام کے خاتمے کے لیے لیت و لعل سے کام نہ لے۔(بقیہ نمبر5صفحہ6پر)
 جماعت اسلامی دہائیوں سے کرپٹ سرمایہ دارانہ سودی معیشت کے خاتمے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ رمضان المبارک میں وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ قوم کے لیے امید کی کرن ہے۔ ملک کو حقیقی معنوں میں قرآن و سنت کا گہوارہ بنانے کے لیے جاگیرداروں،وڈیروں اور استعمار کے وفاداروں سے جان چھڑانا ہوگی۔ وہ گورنمنٹ شہداء اے پی ایس ہائی سکول کے گراؤنڈ میں نمازعید الفطر  کا خطبہ دے رہے تھے۔ انھوں نے کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل ہوا، مگر بدقسمتی سے ہم 74برسوں میں اس مملکت خداداد میں دین اسلام کو نافذ نہیں کر سکے۔انھوں نے کہا کہ قوم کو سمجھ جانا چاہیے کہ ظالم کا ساتھ دینا، ظلم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔ عوام کو صالح اور ایمان دار لوگوں کو آگے لانا ہوگا تاکہ پاکستان حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی مملکت بن سکے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف دولت کی ریل پیل اور دوسری جانب غریب کی جھونپڑی میں چولھا نہیں جلتا۔ ملک میں کروڑوں بچے غربت کی وجہ سے سکولوں سے باہر ہیں۔ پاکستان کی وسیع آبادی کو پینے کا صاف پانی تک دستیاب نہیں۔ لوگ ہسپتالوں میں دھکے کھا رہے ہیں۔ پڑھے لکھے نوجوان حالات سے تنگ اور مستقبل سے مایوس ہو چکے ہیں۔ مزدور اور کسان پریشان ہیں اور چھوٹا تاجر طبقہ بھی حالات کا رونا رو رہا ہے۔ دوسری جانب ملک کا حکمران طبقہ زمینی حقائق سے بے خبر، اقتدار اور مفادات کی جنگ میں مصروف ہے۔ گزشتہ دو تین ماہ سے جاری لڑائی میں تینوں بڑی جماعتیں بری طرح ایکسپوز ہو گئیں۔ قوم کو چاہیے کہ ان آزمائے ہوئے وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کو مسترد کرے اور جماعت اسلامی کو ملک کی خدمت کا موقع دے۔
ذیشان اختر