یہاں دریا کی آواز کے ساتھ خا مو شی کا راج تھا, سکوت جو کبھی نہیں بکھرتا، نیند جو کبھی نہیں ٹو ٹتی

یہاں دریا کی آواز کے ساتھ خا مو شی کا راج تھا, سکوت جو کبھی نہیں بکھرتا، نیند ...
یہاں دریا کی آواز کے ساتھ خا مو شی کا راج تھا, سکوت جو کبھی نہیں بکھرتا، نیند جو کبھی نہیں ٹو ٹتی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف : عمران الحق چوہان 
قسط :66
لیکن پسو کی فضا میں نہ تو چڑیوں کا چیخ چہا ڑا گونجتا تھا نہ لہرا تی چکرا تی ابا بیلوں کا مُرکیوں سے لبریز نغمہ سنائی دیتا تھا۔ یہاں تو دریا کی آواز کے ساتھ ان حد خا مو شی کا راج تھا۔ سکوت جو کبھی نہیں بکھرتا، نیند جو کبھی نہیں ٹو ٹتی۔ 
 ٹھنڈے پا نی سے مونھ ہاتھ دھوکر میں نے عثمان کو جگا یا تو اس نے بھی اٹھتے ہی پو چھا۔
”باہر بارش ہو رہی ہے؟“
” نہیں ، دریا کی آواز ہے۔“
اسے جواب دے کر میں اینگلو انڈین غسل خا نے میں گھس گیا۔ پھر باقی قوم کو تیار ہو نے کا پیغام دے کر کمرے کے نِگھے ماحول سے تازہ اور ٹھنڈی ہوا میں نکل آیا۔ ابھی سورج نہیں نکلا تھااور صبح کے سرمئی اجالے میں پہاڑ نرم اور ہموار لگتے تھے۔ سارا منظر، پیڑ، پو دے، آسمان اور سب کچھ جیسے ابھی نیند میں تھا۔ دریا پار پسو کونز سرمئی غبار میں لپٹی ہوئی تھیںاور ان پر بھی ایک غنودگی سی چھائی ہو ئی تھی۔ کھا نے والا ہال مقفل تھا اور عزت بیگ جا نے کہاں تھا؟ میں باغ میں چلا گیا، (چلا گیا، کیا مطلب؟ میں پہلے ہی باغ میں تھا)اور تازہ سیب اور خو بانیاں چن کر ناشتا کر نے لگا۔کچے پکے سیب کا ٹھنڈا میٹھا رس حلق سے اترا تو جسم میں تازہ اور نئی زندگی کا احساس بھرنے لگا۔
 پھر یہ ہوا کہ جو بھی تیار ہو کر باہر نکلتا سیب اور خو بانیاں کھا نا شروع کر دیتا۔ ہم چاہتے تھے کہ نا شتہ کر کے غُل کن گلیشئیر کی طرف جا ئیں لیکن جب ڈھو نڈنے، ڈائننگ ہال کا دروازہ بجانے او ر آسمان کی طرف مونھ اٹھا کر آوازیں دینے کے باوجود بیگ صا حب نہیں ملے تو ہم بغیر ناشتے کے ہی غل کِن کی طرف چل پڑے۔ یوں بھی پھل کھانے کی وجہ سے نا شتہ ایک بار غیر ضروری ہو گیا تھا۔ نذیر نے کل حسینی جا تے ہو ئے غُل کِن گلیشئیر، جسے پسو گلیشیئر بھی کہتے ہیں، کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کر دی تھی اور وہ مو ڑ، جہاں سے راستہ گلیشئیر کی طرف مڑتا تھا، بہت دور نہیں تھا۔ اس لیے ہم خرا ماں خراماں چلنے لگے۔ بائیں ہاتھ پسو کونز اور کھیتوں کے درمیان دریا ئے ہنزہ کی وسعت تھی اور دائیں ہاتھ زرد پہا ڑ ہمارے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ ویران سڑک ہمیں پسّواِن والے چوک تک لے آئی۔ ”پسّو اِن“ کے باغیچے میں پیڑوں پر سرخ اور رس بھرے سیبوں کے دئیے، شا خوں پر دیوالی کے دیوں کی طرح قطار اندر قطار جلتے اور مسافروں کو للچاتے تھے۔ ہوا میں سیبوں کی بھینی بھینی خوش بُو گھلی تھی۔ چوک کے آس پاس تریک کے اونچے اونچے ،قدیم درخت تھے۔ انہی درختوں کے بیچ اور شاید انہی کا ہم عمر عزت بیگ کندھے پر بیلچہ ر کھے اور ایک ہاتھ میں انڈوں کا لفا فہ پکڑے آ ہستہ آہستہ چلا آتا تھا۔ وہ ایک شانت اور مطمئن آدمی تھاجسے دیکھ کر بے اختیار پیار آتا تھا، لگتا تھا جیسے کوئی سادھو یا درویش چلا آتا ہے جو محض اپنی قربت سے آ پ کی سب فکریں دور کر دے گا۔ وہ بنا بات کیے پاس سے گزرنے ہی کو تھا کہ میں نے آ گے بڑھ کر اسے سلام کیا۔ وہ رک گیا، مسکر ا کر سلام کا جواب دیا اور بتا نے لگا کہ وہ اپنے کھیتوں کو پانی لگا کر آ یا ہے۔ میں نے اسے کہا کہ ہم غل کن گلیشئیر تک جارہے ہیں وہ ناشتہ ہمارے آ نے پر بنائے۔ 
”جی ٹھیک ہے۔“ اس نے شائستگی سے کہا اور پھر بتورا اِ ن کی طرف چلنے لگا۔ 
تریک کے ستواں درختوں کا سلسلہ چوک کے ارد گرد ہی تھا ، آگے سڑک خالی تھی۔ اب بائیں ہاتھ نیچائی میں پتھروں کی دیواروں کی حد بندیوں میں کھیت اور با غ تھے جن میں کو ئی کوئی گھر بھی نظر آتا تھا۔ سورج کی پہلی کر نیں پہا ڑوں کی بر فیلی چو ٹیوں سے پسو کونز تک پہنچ گئی تھیں۔صبح کی دھوپ میں پسو کو نزکے نو کیلے سرے زیادہ وا ضح اور حیران کُن لگتے تھے جیسے بہت سی مشعلیں جلتی ہوں۔ سنہری دھوپ ایک آبشار کی طرح مسلسل نیچے کی طرف سرک رہی تھی جہاں پہاڑوں سے بہ کر آ نے والی مٹی کی ڈھلوانیں تھیں۔یہی مٹی اور ریت جمع ہو ہو کر پہاڑوں کے دامن میں میدان بناتے ہیں اور پھر ان میدانوں پر لوگ آ باد ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ برفانی چوٹیوں سے آ نے والے چشموں کا رخ موڑ تے ہیں۔ مردہ زمین پانی سے مل کر پہلے خود زندہ ہوتی ہے پھر گل و گلزار ہو کر انسانوں کو زندگی بخشنے لگتی ہے۔ سنہری دھوپ کی آمیزش سے پہاڑوں اور پیڑوں کے رنگ شوخ ہوتے جاتے تھے اور پہاڑوں کے پیکر میں زرد، سرخ گلابی رنگ جھلکنے لگے تھے۔سیب، چیری اور خو بانی کے پیڑوں کے ہرے رنگ تازگی کی وجہ سے گیلے محسوس ہو تے تھے۔ کچھ دور چلنے کے بعد ہم اس جگہ پہنچ گئے جہاں سے دائیں ہاتھ راستہ سڑک چھو ڑ کر غُل کِن کی طرف مڑتا تھا۔ (جاری ہے )
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -