لندن میں"ایمرجنگ پاکستان "مہم شروع، شریف برادران کی تصاویر لگ گئیں لیکن سرمایہ کون خرچ کررہاہے؟ بڑا دعویٰ

لندن میں"ایمرجنگ پاکستان "مہم شروع، شریف برادران کی تصاویر لگ گئیں لیکن ...
 لندن میں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن (ویب ڈیسک) لندن میں ایمرجنگ پاکستان مہم کا آغاز ہوگیا ہے، سرخ ڈبل ڈیکر بسوں پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے قائد  نواز شریف کی تصاویر کے ساتھ "ابھرتا ہوا پاکستان” کا نعرہ درج کیاگیا۔بتایا گیا ہے کہ اس مہم میں 150 ڈبل ڈیکر بسیں شامل ہیں اور سرمایہ ایک پاکستانی نژاد برطانوی تاجر لگا رہا ہے،لندن کی معروف اشتہاری ایجنسیوں کا تخمینہ ہے کہ اس قسم کی مہم پر تقریباً 100,000 پائونڈ ( 2 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد ) خرچ ہوں گے۔

گزشتہ بدھ کو شروع ہونیوالی یہ مہم  1 ماہ تک جاری رہے گی۔ ایک اندازے کے مطابق لندن کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ارد گرد دسیوں ہزار لوگ ان بسوں کو دیکھیں گے جن میں پاکستانی پرچم، ابھرتا ہوا پاکستان کا نعرہ اور نواز شریف اور شہباز شریف کی تصاویر ہوں گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 150 بسیں لندن کے 43 مصروف ترین روٹس پر چلیں گی، یہ بسیں مصروف روٹس پر صبح سویرے سے آدھی رات تک دونوں سمتوں میں چلتی ہیں۔سرمایہ لگانے والے تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر" جیونیوز" کو بتایا کہ اس مہم کے دوران  دسیوں ہزار لوگوں کو پاکستان کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا،ہمیں یقین ہے کہ مہم ختم ہونے تک لاکھوں لوگ ان بسوں کو دیکھ چکے ہوں گے۔

b6e106e26c849e160910042bb92128f9

ان کا کہناتھاکہ "ان منقسم اوقات میں میں پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا تھا اور سب کو یاد دلانا چاہتا تھا کہ "ایمرجنگ پاکستان" برانڈ 2013-2018 کی مسلم لیگ( ن) کی حکومت نے اس وقت شروع کیا تھا جب پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 6 فیصد کو چھو رہی تھی اور پاکستان کو باضابطہ طور پر مورگن میں درجہ بندی کیا گیا تھا۔ تاجر کا خیال ہے کہ شہباز شریف ایک "زبردست لیڈر ہیں اور پنجاب کی موسمیاتی ترقی" ان کی قابلیت کا "ثبوت ہے۔

c02434f4a35cfa1b967df9624fe930e5

برطانوی پاکستانی تاجر نے کہا کہ بس مہم کا مقصد پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو دوبارہ متعارف کرانا ہے,پاکستان کو سرمایہ کاری اور استحکام کی ضرورت ہے۔ 
پاکستان ہائی کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے تازہ ترین بس مہم کا آغاز نہیں کیا ، یہ بھی نہیں جانتے کہ اس مہم کا سپانسر کون ہے۔

مزید :

برطانیہ -