تکبر مت کیجیے ۔۔۔

تکبر مت کیجیے ۔۔۔
تکبر مت کیجیے ۔۔۔

  

 تحریر : ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

 خراسان کے ایک بادشاہ کے پاس اس کاایک غلام ہاتھ باندھے ادب سے کھڑا تھا۔ بادشاہ سلامت کو سخت نیند آئی ہوئی تھی مگر جب بھی اُس کی آنکھیں بند ہوتیں تو ایک مکھی آ کر اُس کی ناک پر بیٹھ جاتی  اور نیند اور بے خیالی کی وجہ سے بادشاہ کا ہاتھ اپنے ہی چہرے پر جا پڑتا مکھی اڑ جاتی اور وہ جاگ جاتا ۔ جب بار بار ایسا ہوا تو بادشاہ کی آنکھ کھل گئی اس نے غلام سے پوچھا: " تمہیں پتہ ہے کہ اللہ نے مکھی کو کیوں خلق کیا ؟" 

غلام نے جواب دیا: "بادشاہ سلامت! اللہ نے مکھی کو اِس لئے خلق کیا  کہ بادشاہوں اور سلطانوں کو یہ احساس ہوتا رہے کہ بعض اوقات اُن کا زور ایک مکھی پر نہیں چلتا ۔"

کہتے ہیں کہ بادشاہ کو اُس غلام کی بات اتنی پسند آئی کہ اس نے اپنے اس غلام کو آزاد کردیا اور اپنا وزیر بھی مقرر کیا۔ اس غلام کی یہ بات ہمارے لیے کسی سبق سے کم نہیں ہم بھی اپنی زندگی کے بادشاہ ہیں ۔ اللہ نے ہمیں بھی مال و دولت، شہرت ،عزت، حسن، اولاد، جان اور بہت سی ایسی نعمتوں کا بادشاہ بنایا ہے جن کی بدولت ہم کبھی کبھی خدا کو بھول جاتے ہیں جبکہ  دنیا اور اس کی اشیاہمیں متکبر بنا دیتی ہیں اور ہم انسانیت کے اصل احساس سے خالی ہو جاتے ہیں ۔کبھی کبھی مال ۔حسن ۔ شہرت یا ایسی کوئی بھی معمولی چیز جب ہمیں غرور دلاتی ہے یا ہم اپنا موازنہ کسی کم حیثیت والے سے کرتے ہیں تو ہم فخر میں مبتلا ہوجاتے ہیں ایسی صورت میں اللہ ہم سے ناراض ہو جاتا ہے اور ہم کسی بہت معمولی سی آزمائش میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس کے سامنے بے بس بھی ہو جاتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا ہو گا بہت سے مال دار دنیا کی ہر چیز ،ہر نعمت کے باوجود سکون میں نہیں ہوتے جیسے ایکسیو نامی ایک شخص دنیا کا امیر ترین آدمی رہا مگر حیرت کی بات ہےکہ وہ اپنے ملازمین کے ساتھ اچھا نہ تھا روز کسی نہ کسی پر لفظوں کے تیر برسانا ،نفرت آمیز جملے کسنا حقارت کی نظر سے دیکھنا اس کا معمول تھا۔ ایک دن معمول کے چیک اپ کے دوران وہ کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو گیا کہ اس کی غذا میں صرف اُبلی سبزیاں شامل کردی گئیں وہ بھی بنا کسی مرچ مصالحے کے، اس کے علاوہ وہ کچھ نہیں کھا سکتا تھا ۔یہ تکبر کی ایک چھوٹی سی مثال ہے ۔ اپنی زندگی میں اللہ کے شکر کو لازم کیجیے کوئی فقیر آپ کے پاس آۓ تو  کچھ نہ کچھ ضروردیجیے،  اگر آپ کے پاس دینے کو کچھ نہیں تو معذرت کر لیجیے ۔اللہ کو یہ ادا بہت پسند ہے جس میں عاجزی ہے جس میں احترام انسانیت ہے۔ آپ نے جب بانٹنا ہے تو بھی اپنے رب کے لیے اس کی رضا کے لیے ۔ کوئی شوق سے نہیں مانگتا حالات مجبور کر دیتے ہیں یہاں پڑھے لکھے لوگوں کونوکریاں نہیں مل رہیں تو ان پڑھ بے چاروں کوریاست کہاں سنبھالے گی ۔ اپنے حصے کا دیا جلائیں ۔ اللہ کو عاجزی بہت پسند ہے علم کا شہرت کا کسی قسم کا بھی تکبر آپ کو اللہ سے دور کرتا ہے، استغفار کی کثرت کرتے رہا کریں قبرستان کا چکر لگاتے رہا کریں یہ چیزیں انسان کو نرم دل بناتی ہیں نفرت کو مٹاتی ہیں علم پر عمل کیجیے ڈگری کا تکبر مت کیجیے شہرت اور عزت پر شکر ادا کیجیے تا کہ یہ برقرار رہیں۔ نمرود کے لیے مچھر ۔ خراساں کے بادشاہ کے لیے مکھی ۔ شداد کے لیے گھوڑا ۔ فرعون کے لیے اژدھا ۔ ابراہہ کے لیے ابابیل ۔ بنی اسرائیل کے لیے ٹڈیاں اور مینڈک ۔یہ مثالیں واضح عبرت ہیں کہ بڑے بڑے نامور ۔قد آور بادشاہ معمولی اورعام سے جانوروں اور  حشرات الارض کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں ۔ اس سے پہلے کے زندگی آپ کو بے بس کرے اپنے معاملات سے ایسے جملوں ایسے لفظوں ایسی فکروں ایسے گمانوں کونکال باہر پھینکیے۔ سادہ سا فارمولا اپنا لیجیے سب لوگ مجھ سے اچھے ہیں کیونکہ اللہ ان کے دل جانتا ہے بس اللہ مجھے ایسا بنا دے کہ اپنے اللہ کو میں پسند آجاؤں ۔ 

.

نوٹ : ادارے کا مضمون نگار کی آرا سے متفق ہونا ضروری نہیں .

مزید :

بلاگ -