تازہ ہوا کے دو گھونٹ

 تازہ ہوا کے دو گھونٹ
 تازہ ہوا کے دو گھونٹ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


  آخری مُغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو پھانسی سے قبل جب ان کی آخری خواہش پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ ”مرنے سے پہلے میں تازہ ہوا کے دو گھونٹ بھرنا چاہتا ہوں“۔باغوں کے شہر لاہور میں جس تیزی کے ساتھ فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، اس سے لگتا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں بیشتر لاہوریوں کی ”آخری“ نہ سہی لیکن شدید ترین خواہش یہی ہوگی کہ وہ آلودگی سے پاک تازہ ہوا کے دو گھونٹ بھر کر اپنے پھیپھڑوں کو نئی زندگی بخشنا چاہتے ہیں۔
عالمی ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق لاہور دُنیا کے آلودہ ترین شہر وں میں سر فہرست آ چکا ہے، سال 2022 ء کے دس ماہ کے دوران لاہور کا ”ایئر کوالٹی انڈیکس“ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی مقرر کردہ گائیڈ لائن سے 10 گنا زائد رہا، جبکہ جولائی اور اگست کے دو ماہ میں آلودگی کی شرح کم ہونے کے باوجود ڈبلیو ایچ او کے پیمانے سے 7 گنا زیادہ رہی۔آلودہ ترین شہروں کی لسٹ میں دہلی چوتھے نمبر پر ہے، ڈھاکہ 49 ویں، بغداد 13 ویں جبکہ پاکستانی سرحد سے ملحقہ چینی شہر کاشغر 30 ویں نمبر پر ہے۔
اسی طرح دنیا کی شفاف ترین فضاء رکھنے والے ملکو ں میں سوئٹزر لینڈ کا شہر زیورچ پہلے، آسٹریلوی شہر پرتھ دوسرے جبکہ جنوبی افریقہ کا شہر رچرڈ تیسرے نمبر ہے۔صاف شفاف فضاء رکھنے والے ملکوں کی طویل فہرست میں تقریباً تمام ملک معاشی، اقتصادی اور سماجی اعتبار سے ترقی یافتہ ہیں اور اس لسٹ میں پاکستان، بھارت یا بنگلہ دیش سمیت تیسری دنیا کا کوئی بھی ملک شامل نہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک جہاں قانون کی بالا دستی اور عوام با شعور ہیں کی فضائیں صاف ہیں اور پسماندہ یا ترقی پذیر ملک جہاں قانون نام کی کوئی شے موجود نہیں وہاں ہر قسم کی آلودگی کا راج ہے۔


آج کے کالم کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کہ پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کیلئے پالیسیاں وضع نہیں کی گئیں، یہی وجہ ہے کہ الیکشن کی تاریخوں اور سیاسی گہما گہمی کے باوجود اس خبر نے ایک دم سے ذہن پر”کلک“ کیا ہے کہ حکومت نے ماحول دوست ٹرانسپورٹ پالیسی متعارف کروا دی، جس کے تحت ترقی یافتہ ممالک کی طرح گاڑیوں کی عمرکی حد بھی مقرر ہوگی اور سڑکوں پرچلنے کے دوران گاڑی مالکان کو فٹنس سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرنا ہونگے، پالیسی پر عملدرآمد کی صورت میں فضاء میں 77 لاکھ ٹن کاربن کی مقدار کم ہوگی۔کاربن سے مراد ہوا میں پائے جانیوالے وہ زہریلے ذرات ہیں جو انسانی صحت کے ساتھ ساتھ زمین کیلئے بھی بے حد نقصان دہ ہیں۔ فضائی آلودگی کے نتیجے میں دل کی بیماری، پھیپھڑوں کے کینسر اور سانس کی بیماریاں پھیلتی ہیں، لوگوں کے اعصاب، دماغ، گردوں، جگر اور دیگر اعضاء کو طویل المدتی نقصان بھی پہنچا سکتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال فضائی آلودگی کے نتیجے میں تقریباً 80 لاکھ افراد لقمہ ء اجل بن جاتے ہیں کیونکہ ہر دس میں سے نو افراد ایسی فضاء میں سانس لے رہے ہیں جس کی کوالٹی ڈبلیو ایچ او کے رہنماء اصولوں کی حد سے تجاوز ہوتی ہے۔عام زبان میں اس کی تعریف یہ ہے کہ ہوا میں موجود ہر وہ ذرہ جو انسانی صحت کو متاثر کر سکتا ہے یا ماحول پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے اسے فضائی آلودگی قرار دیا گیاہے۔ ذراتی آلودگی، کاربن مونو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈاور سیسہ فضائی آلودگی کے اہم عناصر ہیں جوانسانوں کے ساتھ زمین کو بھی بری طرح متاثر کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ فضائی آلودگی کے نتیجے میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیاں بھی رونما ہو رہی ہیں جہاں ایک طرف زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور خشک سالی کا بھی سامنا ہے جبکہ دوسری طرف مون سون کا سسٹم ملک میں تباہ کن سیلاب لے کر رہا ہے، جس سے پاکستان سال میں چھ مہینے خشک سالی کا شکار ہوتا ہے اور تین مہینے پانی میں ڈوب جاتا ہے۔ ڈیم جو بپھرے ہوئے دریاؤں کو قابو میں کرنے کا ذریعہ ہیں وہ نہیں بنائے گئے، درخت جو سیلابوں کی روک تھام کیلئے ضروری ہیں وہ دھڑا دھڑ کاٹے گئے، حالانکہ پاکستان، بھارت یا بنگلہ دیش زرعی ملک ہیں جہاں زخیز زمینیں، دریا، پہاڑ اور وافر مقدار میں جنگلات ہیں۔ یہ درخت اورپودے جو فضائی آلودگی اور حتیٰ کہ ”نوئیز پالوشن“ کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں انہیں بے رحمی سے کاٹ دیا گیا، دوسری جانب لندن شہر جو دنیا کی مہنگی ترین رئیل اسٹیٹ ہے جس کے مرکزی علاقوں میں جگہ فٹ کے حساب فروخت ہوتی ہے اس شہر کے 25 فیصد رقبے پر آج بھی درخت، سبزہ یا جنگلات قائم ہیں۔ ان ممالک میں جب بڑی شاہروں سے ملحقہ رہائشی علاقے ڈیزائن کئے جاتے ہیں تو ہائی وے پر تیز رفتاری سے چلنے والی گاڑیوں کا شور کم کرنے کیلئے ان کے اطراف میں درخت لگائے جاتے ہیں جو اس شور کو روکتے ہیں جبکہ سڑک پر سفر کرنیوالوں کو اپنے اطراف میں لگا سبزہ بھی خوشگوار احساس دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ زیادہ درختوں کے باعث ان ملکوں کی فضائیں صاف ہیں۔


آپ ایک لمحے کیلئے تین سال پیچھے جائیں جب کرونا کی عالمی وباء کے نتیجے میں تمام کاروبار زندگی بند ہو گئے تھے، سکول، دفاتر، پارک، تفریحی مراکز، سینما ہال، کرکٹ گراؤنڈ، فضائی سفر بند اور سڑکیں ویران ہو گئی تھیں، ان دنوں ماہرین ارضیات نے دعویٰ کیا تھا کہ کرونا کی وبا کے نتیجے میں زمین نے سکھ کا سانس لیا ہے جسے مدت بعد تھوڑا ریلیکس کرنے کا موقع ملا ہے، اسی عرصے میں لاہور یوں نے مدت بعد اپنے سروں پر ایک نیلگوں آسمان دیکھا جس کی فضاء اتنی صاف تھی کہ دن کے وقت چاند نظر آ جاتا تھاجبکہ درختو ں اور پودوں پر چڑیوں کی چہچہاہٹ بھی سنائی دینے لگ گئی تھی۔تاہم جب لاک ڈاؤن کے بعد زندگی دوبارہ معمول پر آئی تو سب کچھ ویسے ہی میلا کچیلا ہو گیا،جس کا مطلب ہے کہ فضائی آلودگی انسان، حیوان، چرند پرند، نباتات اور حتیٰ کے زمین پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ماحول دوست پالیسی وضع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -